کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟

فرینک گارڈنر - بی بی سی سکیورٹی نامہ نگار

Taliban forces patrol in Kabul, Afghanistan, August 16, 2021
Reuters
افغانستان کے کنڑ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اور آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔

وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔

ان جہادیوں کے لیے افغانستان میں حکومتی عملداری اور کنٹرول سے باہر علاقے ایک انعام ہیں، جہاں وہ چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکری گروہوں کے لیے، جو شام اور عراق میں اپنی خود اعلانیہ خلافت کی شکست کے بعد ایک نیا گڑھ ڈھونڈ رہے ہیں۔

مغربی جنرلز اور سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ القاعدہ تنظیم اب افغانستان میں مضبوط ہو گی۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ مغربی ممالک کو متحد ہو کر افغانستان کو بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بننے سے روکنا ہو گا۔

پیر کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے کہا کہ وہ خود کو مسیر تمام طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے افغانستان میں دہشتگردی کے خطرے کو ختم کرے۔

مگر کیا طالبان کی واپسی کا مطلب خود بخود القاعدہ کے اڈوں کی واپسی ہے؟

ضروری نہیں ہے۔

قانونی حیثیت اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوشش

طالبان

EPA

جب سنہ 1996 سے سنہ 2001 کے درمیان آخری مرتبہ طالبان نے پورے ملک پر کنٹرول حاصل کیا تھا تو افغانستان ایک تنہا ریاست بن گیا تھا۔

صرف تین ممالک سعودی عرب، پاکستان، اور متحدہ عرب امارات نے اُن کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا تھا۔

اپنے ہی لوگوں پر مظالم ڈھانے کے علاوہ طالبان نے اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ کو بھی محفوظ مقامات فراہم کیے جنھوں نے سنہ 2001 میں امریکہ میں 9/11 کے حملے کیے جن میں تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے تقریباً 20 ہزار لوگ القاعدہ کے تربیتی کیمپوں کا حصہ رہنے کے بعد اپنے اپنے ممالک کو لوٹ گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان کے زیر قبضہ علاقوں کی جیلوں سے قیدی کیوں آزاد کر دیے جاتے ہیں؟

’طالبان کے شہر میں داخل ہوتے ہی میں نے قومی پرچم اُتار دیا، کتابیں اور ٹی وی چھپا دیے‘

افغانستان پر طالبان کی چڑھائی اور امریکہ کی سرد مہری، پاکستان کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

آج طالبان خود کو اسلامی امارات آف افغانستان کے جائز (اگرچہ غیر منتخب) حکمران مانتے ہیں اور انھیں کسی حد تک بین الاقوامی طور پر تسلیم کیے جانے کی ضرورت ہے۔

وہ ابھی سے یہ تاثر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ 20 سال تک کرپشن اور داخلی لڑائیوں کے مقابلے میں استحکام اور سکون لوٹانے آئے ہیں۔

دوحہ میں مذاکرات کے دوران طالبان مذاکرات کار کو یہ بات واضح کر دی گئی تھی کہ عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا عمل تب ہی ہو گا جب وہ خود کو القاعدہ سے مکمل طور پر علیحدہ کر لیں گے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹیں کہتی ہیں کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا ہے اور درحقیقت دونوں تنظیموں کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔

طالبان کے افغانستان پر تیزی سے حالیہ قبضے کے دوران غیر افغان جنگؤوں کو دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی واضح ہے کہ مذاکرات کاروں کے قدرے معتدل اور عمل پسند الفاظ اور طالبان کے صفِ اول کے جنگجوؤں کے زمینی اقدامات میں فرق ہے۔

12 اگست کو جب طالبان کابل کی جانب ابھی روانہ تھے تو کابل میں امریکی چارچ ڈئ افیئرز نے ٹوئیٹ کیا تھا کہ ’طالبان کے دوحہ میں بیانات ان کے قندھار، غزنی، ہلمند، اور بدغشاں میں اقدامات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اقتدار پر طاقت کے ذریعہ اجارہ داری قائم کرنے کی کوششیں صرف بین الاقوامی تنہائی کی وجہ بنیں گی۔‘

جہادیوں کو روکنے میں مغرب کو مشکلات ہوں گی

Osama bin Laden

Getty Images

طالبان کی توجہ افغانستان پر شریعت کی اپنی سخت ترین تشیریح کے مطابق حکمرانی کرنا ہے مگر اس کی سرحدوں کے پار نہیں۔

مگر القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے جہادیوں کے عزائم مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ طالبان کی نئی حکومت شاید ان کو روکنا بھی چاہے مگر ملک میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں پر ان کی کارروائیاں چھپائی جا سکتی ہیں۔

ایشیا پیسفک فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر ساجن گوہل کہتے ہیں کہ تخمینوں کے مطابق القاعدہ کے کنڑ صوبے میں اس وقت تقریباً 200 سے 500 ارکان ہیں۔ ’طالبان کا کنڑ صوبے پر قبضہ انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں پر بہت ہی مشکل جغرافیہ ہے اور گھنا جنگل ہے۔‘

اگر یہاں پر القاعدہ کی فورسز بڑھتی ہیں تو مغرب کے لیے ان پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔

مغربی ممالک نے اس معاملے میں گذشتہ 20 سال تک این ڈی ایس، افغان انٹیلیجنس سروس، اور اس کے ساتھ امریکی، برطانوی، اور افغان سپیشل فورسز پر انحصار کیا تھا۔

مزید پڑھیے

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کا نقشہ

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

’کہا تھا نا شادی کر لو، اب طالبان ہاتھ مانگیں گے تو ہم کیا کریں گے‘

داڑھی، برقعہ، موسیقی۔۔۔ کیا طالبان دوبارہ نوے کی دہائی کے سخت گیر قوانین کا نفاذ کریں گے؟

اب وہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے اور انٹیلیجنس تناظر میں افغانستان اب ایک مشکل ہدف بن گیا ہے۔

اگر ٹینگ کیمپوں کی نشاندہی ہوتی ہے تو امریکہ کے پاس دور بیٹھے ڈرون حملے یا کروز میزائل ہی آپشنز رہ جاتے ہیں جیسے کہ 1998 میں اسامہ بن لادن کے خلاف داغے گئے تھے۔

ڈاکٹر دوغل کہتے ہیں کہ اس بات پر بہت انحصار ہو گا کہ کیا پاکستانی حکام اپنی سرزمین سے غیر ملکی جنگجؤوں کو افغانستان جانے دیتے ہیں یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words