افغانستان کی بساط پر چین، ایران اور روس کہاں کھڑے ہیں؟

بساط
Getty Images
افغانستان ایک عرصے تک غیر ملکی طاقتوں کے لیے میدان جنگ رہا ہے جہاں وہ اپنی طاقت آزماتے رہے ہیں۔

19 ویں صدی میں وسط ایشیا پر کنٹرول کے لیے برطانیہ اور روس کی دشمنی جسے ‘دی گریٹ گیم’ بھی کہا جاتا ہے۔

لیکن تقریباً دو سو سال بعد افغانستان ایک بار پھر ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جوکہ شاید پہلے سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔

جس لمحے امریکہ نے افغانستان سے اپنے فوجیوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا، طالبان نے اپنی پیش قدمی تیز کردی۔

اور اتوار کو صدر اشرف غنی کے زوال کے ساتھ ہی طالبان جنگجو دارالحکومت کابل میں داخل ہوگئے۔

طالبان اسلامی قانون یعنی شریعہ کی پیروی کرتے ہیں، اسے اپنے علاقوں میں نافذ کرتے ہیں، اور جب وہ اقتدار میں آتے ہیں تو وہ ٹیلی ویژن، موسیقی، سنیما، تفریح اور دس سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دیتے ہیں۔ کم از کم ان کے گذشتہ دور میں تو ایسا ہی ہوتا رہا۔

‘دی گریٹ گیم’ تو ختم ہوگئی لیکن افغانستان کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف طرح کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔

افغان امور کے ماہرین اس خیال سے متفق ہیں کہ افغانستان میں گذشتہ چار دہائیوں سے جاری تنازعے نے علاقائی اور بین الاقوامی مفادات کے حساب کتاب کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

افغانستان پر حاوی ہونے کے لیے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمکش کے علاوہ مغربی ممالک اور روس کے درمیان بھی مقابلہ رہا ہے۔

طالبان

Getty Images

روس اور طالبان

سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین نے 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا تھا اور اس وقت ان کے سامنے افغان مجاہدین تھے جنھیں امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔

لیکن اب روس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس کی دلچسپی وسطی ایشیا میں اپنے اتحادیوں کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے تک محدود ہے۔ لیکن پس پردہ ماسکو کے ارادے زیادہ واضح نہیں ہیں۔

سنہ 2003 میں طالبان کو ‘دہشت گرد تنظیم’ قرار دینے کے باوجود روس نے حالیہ برسوں میں طالبان اور افغانستان میں حکومت مخالف دیگر دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کیے جن میں افغان حکومت کے نمائندے شامل نہیں تھے۔

افغانستان کی ‘جلاوطن حکومت’ کے رہنماؤں کو صرف رواں سال مارچ میں ماسکو میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں امریکہ، چین، روس اور پاکستان نے بھی شرکت کی تھی۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ‘سینٹر فار انٹرنیشنل سٹڈیز’ (سی ایس آئی ایس) کے ڈائریکٹر سیٹھ جونز کا کہنا ہے کہ ‘روس طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ اس کی مدد نہ صرف سفارتی ہے بلکہ پیسے اور انٹیلیجنس سے بھی اس کی مدد کی جا رہی ہے۔’

سیٹھ جونز کہتے ہیں کہ روس تقریباً ‘ایک دہائی سے اپنے’عقب’ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘روس کی افغانستان میں دلچسپی کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے مقابلے میں خود کو کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ روس کی نظر میں جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ میں اس کے جو مفادات ہیں افغانستان اس کی ایک کڑی ہے۔’

لیکن روس ماضی میں جہادی حملوں کا شکار بھی رہا ہے۔ اس کے خدشات اس علاقے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے بارے میں بھی ہیں۔

سیٹھ جونز کا کہنا ہے کہ ‘روس کو دولت اسلامیہ (آئی ایس) سے زیادہ مشکل کا سامنا رہا ہے۔ آئی ایس کی روس اور طالبان دونوں سے دشمنی ہے۔’

بی بی سی ورلڈ سروس کے ایک افغان صحافی محمد بشیر کا کہنا ہے کہ ‘اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان روس کے لیے ایک اہم ملک ہے۔ افغانستان اس جغرافیائی اور سیاسی گیم کے بیچ میں کھڑا ہے۔ وہ جس مقام پر ہے یہ بات اسے دلچسپ اور خطرناک بنا دیتی ہے۔ کیونکہ اس کی سرحدیں روس کے اتحادی ملکوں تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان سے ملتی ہیں۔ روس نہیں چاہتا کہ دولت اسلامیہ شمالی افغانستان تک پہنچے کیونکہ اس سے اس کے اتحادیوں اور اس کے مفادات خطرے میں پڑ جائيں گے۔’

افغانستان

BBC

چین کا معاشی مفاد زیادہ

افغانستان میں اقتصادی مفادات کے لحاظ سے دیکھیں تو چین کی دلچسپی میس عیناک کے علاقے میں تانبے کی کان کنی میں ہے۔

چین کو یہ بھی تشویش ہے کہ مغربی سنکیانگ میں سرگرم اسلام پسند گروہ مضبوط ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’طالبان کی واپسی‘ انڈیا، ایران اور ترکی کے مفادات پر کیسے اثر انداز ہوسکتی ہے؟

امریکہ کے جانے کے بعد طالبان اور ایران آپس میں کیسے نمٹیں گے؟

عاصمہ شیرازی کا کالم: طالبان آ گئے، طالبان چھا گئے

سیٹھ جونز وضاحت کرتے ہیں ‘سنکیانگ میں مسلم اویغور برادرری کے اسلامک پارٹی اور ترکستان میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں دلچسپی لینے کے پیش نظر چین کی ںظریں افغانستان میں شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں پر لگی ہیں۔’

اگرچہ چین کی اپنی سرحد افغانستان سے کم ملتی ہے، لیکن اس کے لیے یہ پریشانی کی بات ہے کہ طالبان پورے ملک کو اپنے کنٹرول میں لینے جا رہے ہیں۔ اسے خدشہ ہے کہ اس صورت میں اسلام پسند گروہ مضبوط ہو سکتے ہیں اور سرحد پار کر کے سنکیانگ میں اس کی مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

سکیورٹی خدشات کے علاوہ چین خطے میں امریکی موجودگی کے خلاف توازن بھی چاہتا ہے۔

سیٹھ جونز کا کہنا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے نکلنے کی خبریں چین میں سرخیاں بنا رہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کی ایک تشویش ختم ہو گئی ہے۔

امریکہ

Getty Images

افغانستان میں امریکہ کا کردار

سیٹھ جونز کا یہ بھی خیال ہے کہ افغانستان سے امریکیوں کی واپسی کا فیصلہ بہت بڑی غلطی ہے۔ افغان امور کے دیگر ماہرین بھی ایسی ہی باتیں کہتے رہے ہیں۔

سیٹھ نے کہا ‘ہم نے دیکھا ہے کہ امریکی فوجیوں کا ایک چھوٹا سا دستہ بھی طالبان کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی تھا۔ لیکن جیسے جیسے امریکی پیچھے ہٹنے لگے، طالبان تیزی سے آگے بڑھنے لگے۔’

لیکن افغانستان میں امریکی مفادات کے کئی پہلو ہیں۔ ایک طرف امریکہ پورے نظام کو طالبان کے ہاتھوں میں چھوڑنے کے خطرات سے بھی آگاہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ افغانستان شدت پسند گروہوں کے لیے پناہ گاہ بن سکتا ہے اور مغربی ممالک کو اس سے نمٹنا ہوگا۔

سیٹھ جونز بتاتے ہیں کہ طالبان القاعدہ کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات رکھتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف امریکہ افغانستان میں روس، چین اور ایران کی مداخلت کو بھی محدود رکھنا چاہتا ہے۔

وہ یہ بھی چاہیں گے کہ افغانستان کو کسی بڑے انسانی المیے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن لگتا ہے کہ حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں۔

پاسداران انقلاب

Getty Images
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سپاہی ایک فوجی پریڈ کے دوران مارچ کر رہے ہیں

ایران کی ‘پس پردہ موجودگی’

ایران کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ متصل ہیں۔ اس راستے سے لوگوں، منشیات اور مسلح گروہوں کی آمدورفت ہے۔ یہی بات تہران اور طالبان کے درمیان تعلقات کا تعین کرتی ہے۔

افغان اور امریکی حکام نے بارہا ایران پر طالبان کو امداد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کی فوج پاسداران انقلاب امریکی الزامات کا مرکز رہی ہے۔

سیٹھ جونز کا کہنا ہے کہ ایران کی قدس فورس افغانستان میں اپنی ‘خفیہ موجودگی’ کو بڑھا رہی ہے۔ اس کا مقصد ملیشیاؤں اور سیاسی دھڑوں کے درمیان حمایت حاصل کرنا اور ایرانی مفادات کو فروغ دینا ہے۔

قدس فورس ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب کا ایک حصہ ہے جسے امریکہ ایک شدت پسند تنظیم سمجھتا ہے۔

ایران اور طالبان کے درمیان سکیورٹی تعاون ان کے مغربی طاقتوں جیسے برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوا ہے۔

طالبان اور ایران کے درمیان تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان رہنما ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں اس وقت مارے گئے جب وہ ایران سے پاکستان واپس آرہے تھے۔

سنہ 2018 کے آخر میں ایران نے پہلی بار عوامی طور پر تسلیم کیا کہ اس نے طالبان کے وفد کی میزبانی کی تھی۔

اس وقت ایران نے کہا تھا ک افغان حکومت کے علم میں ہے کہ اس نے ایسا کیا ہے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کا مقصد افغانستان کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words