سپریم کورٹ میں سینیئر جج تعینات نہ ہونے پر وکلا کا اہم اجلاس، سینیارٹی کا اصول کب اور کیسے طے ہوا تھا؟

عباد الحق - صحافی

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی سینیارٹی کے اصول کے بر عکس تقرر کا معاملہ شدت اختیار کر رہا ہے اور 21 اگست کو کراچی میں وکلا تنظیموں کا ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس معاملے پر ایک بڑی پیشرفت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ کی طرف سے سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کا حلف اٹھانے سے انکار ہے۔

پاکستان کے صدر عارف علوی کی طرف سے جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سپریم کورٹ میں ایک سال کے لیے تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد ان کی حلف برداری کے تقریب 17 اگست کو رکھی گئی تھی۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں سینیارٹی کے اعتبار سے پانچویں نمبر کے جج جسٹس محمد علی مظہر 16 اگست کو سپریم کورٹ کے مستقل جج کے طور پر حلف اٹھا چکے ہیں۔

اسی کے ساتھ سپریم کورٹ میں ججوں کے تقرر کے معاملے میں سینیارٹی کو نظر انداز کرنے پر وکلاء کا نمائندہ کنونشن 21 اگست کو کراچی میں رکھا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مقصور بٹر نے بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وکلاء کنونشن کا بلایا ہے جس میں ججوں کی سینیارٹی کے بارے میں لائحہ عمل طے کیا جائے.

سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کا معاملہ پہلی بار تنازعہ کے باعث نھیں بنا اور ملک کی تاریخ میں یہ مسئلہ پہلے بھی اعلیٰ سطح پر کشیدگی کی وجہ بن چکا ہے۔ اس بار یہ بحث سپریم کورٹ کی ایک خالی نشست کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے پانچویں نمبر کے جج جسٹس محمد علی مظہر کا نام سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی۔ وکلا کی نمائندہ تنظیموں نے جن میں پاکستان بار کونسل شامل ہے سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے سینیارٹی کے اصول یا سینیئر ججوں کو نظر انداز کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور اعلیٰ عدلیہ کے اس فیصلے پر احتجاج بھی کر چکی ہے۔وکلاء تنظیموں کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ سے جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں تقرر کرنے پر مخالفت جاری تھی کہ اسی دوران لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ میں جج مقرر کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلا لیا گیا۔

جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائی کورٹ میں سینیارٹی کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہیں۔ سپریم کورٹ میں تقرر کیلیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو نظر انداز کرنے کے اب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی کو بھی تقرر نہیں کیا گیا۔ پاکستان بار کونسل نے جسٹس عائشہ اے ملک کے ممکنہ تقرر کی بھی مخالفت کی ہے اور اسے ان کے مطابق اس اصول کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جس کے تحت ہائی کورٹ کے سینیئر جج ہی سپریم کورٹ میں تعینات ہو سکتے ہیں۔ وکلا تنظیموں کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں تقرر کے معاملے پر سینیارٹی کے اصول کی مکمل پاسداری کی جائے اور جونیئر ججوں کو سینیارٹی کے برعکس سپریم کورٹ لے کر جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

مزید پڑھیے:

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا ایڈہاک تقرری سے انکار، کیا کوئی جج ایسا کر سکتا ہے؟

جسٹس وقار سیٹھ: سپریم کورٹ میں تعیناتی میرا حق ہے

سپریم کورٹ کے متنازع چیف جسٹس سجاد علی شاہ کا انتقال

نظریہ ضرورت کے نقاد جسٹس اجمل میاں کا انتقال

سپریم کورٹ میں سینیئر ہونے کی بنیاد پر تقرری کا فیصلہ کب ہوا تھا؟

اعلیٰ عدلیہ میں سینیارٹی کا اصول سابق وزیر اعظم بینظر بھٹو کے دور میں سپریم کورٹ کے ایک فل بنچ نے طے کیا تھا اور فل بنچ کے سربراہ اُس وقت کے چیف جسٹس جسٹس سجاد علی شاہ تھے. سپریم کورٹ کے 26 مارچ 1996 کے الجہاد کیس میں (جسے عام طور ‘ججز کیس’ کے نام سے یاد کیا جاتا) سینیارٹی کا اصول طے ہوا تھا اور اس عدالتی فیصلے کے تحت سینیئر ترین جج ہی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے چیف جسٹس مقرر ہونا شروع ہوئے اور اس کے بعد ایک روایت یہ بھی بن گئی کہ ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج ہی سپریم کورٹ میں جاتے تھے۔ تاہم سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے سینیارٹی کے اصول یا روایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جسٹس خلیل الرحمان رمدے، جسٹس نواز عباسی جسٹس فقیر محمد کھوکھر کو لاہور ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ لے جایا گیا۔ اس وقت بھی وکلا تنظیموں نے اس فیصلے پر تنقید کی تھی اور یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ جسٹس فقیر محمد کھوکھر اس وقت لاہور ہائی کورٹ میں سینیارٹی کے اعتبار سے 13 ویں نمبر پر تھے۔ اس فیصلے پر وکلا تنظیموں کی طرف سے اُس وقت نا صرف سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا بلکہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا. 2002 میں اُس وقت کے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حامد خان سمیت دیگر نے اس تقرر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ریاض احمد شیخ کی سربراہی میں پانچ رکنی فل بنچ نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ پانچ رکنی بنچ کے سربراہ اور آُس وقت کے چیف جسٹس ریاض احمد شیخ نے فیصلہ لکھا اور اس نکتہ کی تشریح کی کہ سینیارٹی کا اصول صرف چیف جسٹس پاکستان کی حد تک محدود ہے. فل بنچ نے قرار دیا کہ ہائیکورٹوں کے ججوں کے سپریم کورٹ میں تقرر کیلیے سینیارٹی کا اصول لاگو نہیں ہوتا۔ سینیارٹی کا اصول اور جسٹس وقار سیٹھ

سینیارٹی کے اصول کے برعکس سپریم کورٹ میں تقرری کا سلسلہ جاری رہا اور اس معاملے میں شدت اس وقت آئی جب پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ کو چیف جسٹس یعنی سینیئر ترین جج ہوتے ہوئے بھی سپریم کورٹ کے لیے نظر انداز کیا گیا اور انھوں نے اس فیصلے کے حلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے کہ جسٹس وقار سٹیھ اُس سپیشل بنچ کا حصہ تھے جس نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے میں سزا سزائی تھی۔ جسٹس وقار سیٹھ نے اپنے وکیل حامد خان کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا. ایڈووکیٹ حامد خان کے بقول اس مقدمے کو اس طرح زیر التوا رکھا گیا کہ اس کی چھ ماہ تک سماعت ممکن نہ ہوسکی۔ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سٹیھ کی یہ درخواست اُن کے انتقال کے بعد ایک طرح سے سرد خانے میں چلی گئی۔

سینیارٹی کا اصول اور جسٹس محمد علی مظہر

سندھ ہائی کورٹ کے سینیارٹی کے اعتبار سے پانچویں نمبر پر آنے والے جج جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے کے فیصلے پر یہ معاملہ دوبارہ اٹھا اور وکلا کہ اعلیٰ اور نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل نے سندھ ہائیکورٹ کے چار سینئر ججوں کو نظر انداز کرنے پر ملک گیر ہڑتال کی۔ وکلا تنظیموں نے اپنا احتجاج اُسی دن کیا جب ججوں کے تقرر کیلیے اسلام آباد میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہونا تھا.جسٹس محمد علی مظہر نے 16 اگست سندھ ہائیکورٹ کے جج کا حلف اٹھایا۔ اس سے چار سینیئر ججوں میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد

سپریم کورٹ کے کل ججوں کی تعداد 17 ہے جو نواز شریف کی وزارت عظمی کے دوسرے دور میں طے کی گئی تھی۔ ججوں کی تعداد کے معاملے پر آُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ اور حکومت کے درمیان کھچھاؤ بھی رہا تاہم حکومت نے چیف جسٹس پاکستان کی بات مان لی تھی. وکلا کے مطابق سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج مقرر کرنے کی گنجائش ہے اور یہ تقرر اس وقت کیا جاتا ہے جب سپریم کورٹ میں کام کا دباؤ زیادہ ہو اور مقدمات کو نمٹانے کیلیے اضافی ججوں کی ضرورت ہو۔ وکلا کی رائے ہے کہ آنے والے دنوں میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا ایڈہاک جج کے طور پر ذمہ داری نہ سنبھالنے کا معاملہ تنازعہ کا رخ اختیار کرسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words