سائنسدانوں کا کہکشاؤں کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا تجربہ کیسا رہا

پالب گھوش - سائنس نامہ نگار

ماہرین فلکیات نے خلا میں موجود کہکشاؤں کی تصاویر کو ’الٹرا ہائی ڈیفینیشن ریزولیوشن‘ میں لینے کا تجربہ کیا ہے۔ کہکشاؤں کی یہ تصاویر اب تک کھینچی جانے والی سے سب سے تفصیلی اور قریب سے لی گئی تصاویر ہیں جو کہکشاؤں کے مرکبات کا انتہائی باریکی سے جائزہ پیش کرتی ہیں۔

ان میں سے بہت سے تصاویر ستاروں اور سیاروں کی بناوٹ اور ان میں موجود بلیک ہولز کے متعلق معلومات فراہم کرتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر کہکشاؤں کے ارتقا اور ان کے وجود میں آنے کے پس پردہ عوامل کے علم کو سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہوں گی۔ یہ تصاویر ان ریڈیو ویوز کی ہیں جو ان کہکشاؤں سے نکلتی ہیں۔

محققین اکثر کہکشاؤں کی نظر آنے والی روشنی کی بجائے ان کی ریڈیو لہروں کا مطالعہ کرتے ہیں کیونکہ وہ ان چیزوں کو دیکھنے کے قابل بناتی ہیں جو دوسری صورت میں زمین کے ماحول یا دھول اور گیس کی وجہ سے دور کہکشاؤں میں نظر نہیں آ پاتی ہیں۔

خلا کے بہت سے خطے جو ہمارے آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں یا ہمیں سیاہ نظر آتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ماہرین فلکیات کو خلا کی گہرائیوں میں سیاروں کی تخلیق کے عمل کو اور کہکشاؤں کے مرکز کو دیکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

اس مرتبہ ماہر فلکیات کی ٹیم نے کہکشاؤں کی سب سے نمایاں اور تفصیلی تصاویر حاصل کرنے کے لیے جو نیا کام کیا ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے نو یورپی ممالک میں نصب 70 ہزار سے زائد چھوٹے ریڈیو ویوز انٹیناؤں کو ایک ساتھ جوڑ کر ان ریڈیو تصاویر کی ریزولیوشن کو حیران کن حد تک بڑھا دیا ہے۔

لیکن اتنے سارے ریڈیو انٹیناؤں کے سگنلز کو ایک ساتھ ملانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کے لیے ماہر فلکیات کی ٹیم نے چھ برس تک ایک ایسے نظام کو ترتیب دیا جو ہر انٹینا سے سگنل لے، اسے ڈیجیٹل بنائے اور پھر اسے اس نظام کے مرکزی پروسیسر تک پہنچائے۔

اس تمام ڈیٹے کو یکجا کرنا نہ صرف ایک بہت ہی اہم سائنسی تجربہ تھا بلکہ اس سے حاصل ہونے والے نتائج انتہائی مسحورکن اور دلکش تھے۔

اس تکینکی کامیابی حاصل کرنے والی ٹیم کی سربراہی برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی کی ڈاکٹر لیھ موروبیٹو کر رہی تھیں۔

ریڈیو انٹینا

BBC

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’اس ڈیٹا پر اتنا عرصہ کام کرنا اور بالآخر انتہائی تفصیلی اور خوبصورت تصاویر حاصل کرنا اور یہ سب کچھ کیسا دکھتا ہے یہ جاننے والا پہلا شخص بننا بہت ہی شاندار تھا۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس دن میں پورا وقت اپنے چہرے پر بڑی سے مسکان سجائے گھومتی رہی کیونکہ مجھے بہت فخر تھا کہ میں یہ تصاویر حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہوں اور اس کو دیکھ پائی ہو جو آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا۔‘

ڈاکٹر مورابیٹو کی ٹیم کے رکن کی جانب سے حاصل کردہ کہکشاؤں کی ایک تصویر جو اس مضمون میں سب سے اوپر استعمال کی گئی ہے اس میں ایک کہکشاں کو بمشکل دیکھا جا سکتا ہے جو جیٹ طیاروں کے دھویں کے بادل کی طرح نظر آنے والے دو نارنجی رنگ کے فلکیاتی مواد کے درمیان سے نظر آ رہی ہے۔ یہ دونوں حصے کہکشاں سے بڑے ہیں۔

یہ مواد کہکشاں کے مرکز میں ایک انتہائی بڑے بلیک ہول کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، ایک ایسی شے جس میں اتنی کشش ثقل ہوتی ہے کہ روشنی بھی نہیں گزر سکتی۔ یہ عام طور پر مادے کو اپنی طرف کھینچتا ہے لیکن اندرونی کھچاؤ سے بلیک ہول کے ارد گرد قوتیں بھی پیدا ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں مواد خلا میں دور تک پھیل جاتا ہے۔

ماہر فلکیات نے ایسا مواد پہلے بھی دیکھا ہے لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ اس کے بارے میں انھوں نے نئی سائنسی تحقیق کی ہے جسے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ اس تصویر میں نظر آنے والا یہ مواد اس کہکشاں کے بلیک ہول کی ایک عرصے تک کوئی سرگرمی نہ کرنے کو ظاہر کرتا ہے کیونہ اس نے بہت کم مواد خلا میں پھیلایا ہے۔

لہذا یہ تصویر محققین کو بلیک ہول کے ’سلیپ سائیکل‘ کے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔

اوپر دی گئی تصویر میں دو کہکشاؤں کو آپس میں ٹکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، دائیں جانب چمکتا ہوا روشن حصہ ستاروں کے پھٹنے کی باعث بنا ہے اور یہ ایک مؤثر گالیکٹن ونڈ پیدا کر رہا ہے جو گیس اور دھول کو دور اڑا رہی ہے۔

اس کہکشاں کے بالکل اوپر نظر آنے والی روشنی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب کائنات 2.6 ارب برس پرانی تھی۔ اس کے اوپر اور نچلی طرف جیٹ مواد ہے جو بلیک ہول نے پھیلایا ہے۔

عام طور پر اس طرح کی پرانی اور خلا میں دور کہکشاؤں کا تفصیلی جائزہ لینا ممکن نہیں تھا لیکن اب پہلی مرتبہ ماہر فلکیات نے ریڈیو فریکوئنسی کے ذریعے ان میں سے ایک کے خد و خال کو جاننے کی کوشش کی ہے جو اس بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے کہ خلا میں موجود بلیک ہول اپنے گرد کیا اثرات مرتب کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا کائنات میں انسان واقعی اکیلا ہے؟

نظام شمسی کے گرد برفانی بادلوں کا راز کیا ہے؟

ایک سیارے سے آنے والا سگنل جو ’خلائی مخلوق کا سراغ ہو سکتا ہے‘

نظام شمسی کا نواں ’خفیہ‘ سیارہ جس کی تلاش سائنسدانوں کی زندگیاں کھا گئی

یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ڈاکٹر نیل جیکسن کے مطابق یہ تصاویر عیاں کر رہی ہیں کہ کہکشائیں ستاروں کے جھرمٹ کے علاوہ بھی بہت کچھ ہیں۔ یہ سورج اور سیارے بنانے کی زبردست فیکٹریاں ہیں جنھیں بلیک ہول سے قوت ملتی ہے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’جب تجربہ کار ماہر فلکیات ان تصاویر کو دیکھیں گے تو وہ بھی حیران ہو جائیں گے۔‘

ڈاکٹر جیکسن کا کہنا ہے کہ ’کہکشاں کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے یہ بہت واضح ہو گیا ہے، ہمیں بلیک ہول کے اندر تک مرکز کو سمجھنا ہو گا کیونکہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا کہکشاؤں کے ارتقا پر کافی اثر ہے، اور یہ تصاویر ہمیں ایسا کرنے میں مدد دیں گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ہائی ریزولیوشن تصاویر ہمیں یہ جاننے اور وہاں تک دیکھنے میں مدد دے گی کہ جب یہ بڑے بڑے بلیک ہول خلا میں جیٹ مواد پھینکتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر مورابیٹو کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تصاویر ماہر فلکیات کو یہ عمل سمجھنے میں مدد دے رہی ہیں اور وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے نظام شمسی سمیت ستارے اور سیارے کیسے معرض وجود میں آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں کہ کہکشائیں کیسے جنم لیتی ہیں اور بلیک ہول ان کے اہم حصے ہیں کیونکہ ان کا نکالا گیا جیٹ مواد ستاروں کی تخلیق میں مدد کرتا ہے۔ اور جب وہ اسے باہر کی طرف دھکیلتے ہیں تو وہ کہکشاؤں کو ہلا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ستاروں کی تشکیل کو متحرک کرسکتے ہیں یا اسے بجھا سکتے ہیں اور اسے کم کر سکتے ہیں۔‘

ان نتائج کی روشنی میں کہکشاؤں میں موجود زبردست بلیک ہول پر نو سائنسی تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں لیکن یہ اس ٹیم کے لیے محض ابتدا ہے۔ وہ اگلے چند برسوں کے دوران خلا میں موجود لاکھوں کہکشاؤں پر تحقیق کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر موابیٹو کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ جاننے کے قابل ہو جائیں گے کہ بلیک ہول کہکشاں کی تخلیق پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں ہمیں مزید حیران کن انکشافات ہوں گے، جب بھی فلکیات کی دنیا میں آپ کچھ نیا کرنا شروع کرتے ہیں آپ کو کچھ ایسا ملتا ہے جس کی توقع نہ ہو، اور میں بھی کچھ ایسے کی امید کرتی ہوں۔‘

ٹیلی سکوپ کے اس بین الاقوامی نیٹ ورک کو لو فریکوئنسی ایرے یا ’لوفار‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر انٹینا ایکسلو نیدرلینڈز میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words