کابل میں طالبان: افغانستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہو گا؟

اینڈریو واکر - بی بی سی، نامہ نگار برائے اقتصادی امور

کابل میں طالبان جنگجوں
EPA
طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے افغانستان کو مالی امداد دینے والے ممالک فکر مند ہیں
افغانستان کی معیشت کی حالت ’نازک‘ ہے اور اس کا انحصار بیرونی مالی امداد پر ہے۔

طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے چند ماہ پہلے ہی ورلڈ بینک نے افغانستان کی معیشت کے بارے میں یہ پریشان کُن تجزیہ پیش کیا تھا۔

افغانستان کی معیشت کا مستقبل اب مزید غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ اس کو ملنے والی مالی امداد مستقبل میں بھی ملتی رہے گی یا نہیں اس پر شک و شبہات کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں امداد دینے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

افغانستان کے پاس کافی تعداد میں معدنی وسائل ہیں لیکن موجودہ سیاسی صورتحال نے اُن کا صحیح استعمال کرنے کی سارے امکانات کو دھندلا دیا ہے۔

افغانستان جس طرح سے بیرونی مالی امداد پر انحصار کرتا ہے یہ ایک حیران کُن بات ہے، سنہ 2019 میں ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ترقیاتی کاموں کی مد میں ملنے والی امداد ملک کی گراس نیشنل آمدن کا 22 فیصد تھی۔

یہ اعدادوشمار بہت گھمبیر ہیں لیکن آج سے دس برس قبل ورلڈ بینک نے ہی اس شرح کو 40 فیصد بتایا تھا۔

لیکن اب یہ مالی امداد جاری رہے گی یا نہیں اس بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ ہیک ماس نے گذشتہ ہفتے ’زیڈ ڈی ایف‘ نامی نشریاتی ادارے کو بتایا تھا کہ ’اگر طالبان افغانستان پر قبضہ کرتے ہیں اور شرعی نظام نافذ کرتے ہیں تو ہم ان کو ایک پائی بھی نہیں دیں گے۔‘

جرمنی کے علاوہ امداد دینے والے دوسرے ممالک بھی افغانستان میں جاری سیاسی بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کے بعد ہی امداد سے متعلق فیصلہ کریں گے۔

بدعنوانی سے پیدا ہونے والی مشکلات

طالبان

Getty Images

افغانستان کی معیشت کی جس نازک حالت کی ورلڈ بینک بات کر رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے افغانستان کی حکومت کل جی ڈی پی کا 29 فیصد صرف سکیورٹی پر خرچ کرتی تھی۔ اگر افغانستان کا موازنہ کم آمدنی والے دیگر ممالک سے کیا جائے تو بیشتر دیگر ممالک اپنی جی ڈی پی کا صرف تین فیصد تک ہی سکیورٹی پر خرچ کرتے ہیں۔

سکیورٹی خدشات اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی افغانستان کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ جس کا سیدھا مطلب ہے کہ افغانستان میں بیرونی سرمایہ کاری بہت کم ہے۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ دو برسوں سے افغانستان میں ایک بھی ’گرین فیلڈ‘ سرمایہ کاری کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ گرین فیلڈ سرمایہ کاری کے تحت بیرونی تجارتی کمپنیاں ایک ملک میں آتی ہیں اور نئے کاروبار یا کمپنیوں کی بنیاد رکھتی ہیں۔

افغانستان میں سنہ 2014 کے بعد سے اس نوعیت کی صرف چار سرمایہ کاریاں ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دو دہائیوں تک امریکہ کا مقابلہ کرنے والے طالبان کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟

افغانستان میں طالبان کے قبضے سے انڈیا کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟

کابل: گارڈز کے یونیفارم سے قومی جھنڈا غائب، طالبان کی شیعہ برادری کی مجلس میں شرکت

اگر اس بارے میں افغانستان کا موازنہ جنوبی ایشیا کے ممالک سے کیا جائے تو اس مدت کے دوران چھوٹے سے ملک نیپال میں دس گنا اور سری لنکا میں پچاس گنا زیادہ گرین فیلڈ سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق افغانستان کا پرائیوٹ سیکٹر بہت مختصر ہے۔ زیادہ تر روزگار کم پیداوار والی کاشتکاری سے منسلک ہے۔ 60 فیصد گھروں کو کھیتی باڑی سے کچھ آمدنی ہو جاتی ہے۔

افغانستان میں ایک بڑی معیشت ایسی ہے جو قانونی دائرے سے باہر ہے۔ اس میں غیر قانونی طریقے سے کی گئی کان کنی، افیوم کی پیداوار اور سمگلنگ سے متعلق کاروبار ہیں۔

طالبان کے لیے منشیات کی تجارت آمدنی کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے۔

معدنی وسائل

جو بھی ہو لیکن 2001 میں امریکی مداخلت کے بعد سے افغانستان کی معیشت بہتر ہوئی ہے۔

افغانستان سے متعلق اعدادوشمار بہت قابل اعتماد نہیں ہیں۔ لیکن ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2003 سے اب تک سالانہ ترقی کی شرح اوسطاً نو فیصد رہی ہے۔ اس کے بعد یہ سست روی کا شکار ہو گئی ( جس کی ایک بڑی وجہ بیرونی امداد میں کٹوتی ہو سکتی ہے)۔ سنہ 2015 سے سنہ 2020 تک ترقی کی شرح اوسطاً 5۔2 فیصد رہی۔

افیوم

EPA
’طالبان کے لیے ماضی میں منشیات کی تجارت آمدنی کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے‘

افغانستان میں جتنے قدرتی وسائل ہیں اگر کسی ایسے ملک میں ہوتے جہاں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو اور بدعنوانی کم ہو، تو بڑی تعداد میں بیرونی ممالک سرمایہ کاری کرنے کے لیے وہاں کا رُخ کرتے۔

افغانستان میں بڑی تعداد میں معدنی وسائل موجود ہیں جن میں تانبا، کوبالٹ، کوئلہ اور خام لوہا اہم ہے۔ اس کے علاوہ وہاں تیل، گیس اور قیمتی پتھروں کے وسائل بھی ہیں۔

اس سب کے علاوہ وہاں لیتھیم بھی پایا جاتا ہے، لیتھیم موبائل آلات اور الیکرٹک کاروں کی بیٹریاں بنانے میں کام آتا ہے۔ لیتھیم کی اہمیت ایک ایسے وقت میں مزید بڑھ گئی ہے جب موٹر انڈسٹری زیرو کاربن اخراج کرنے والی گاڑیاں بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

سنہ 2010 میں ایک اعلی امریکی جنرل نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹریو میں کہا تھا کہ افغانستان میں معدنی وسائل ’حیران کن ہیں لیکن ان کے حصول میں متعدد مسائل ہیں۔‘

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ امریکہ کے محکمہ دفاع کے ایک میمو میں کہا گیا تھا کہ افغانستان ’لیتھیم کا سعودی عرب‘ بن سکتا ہے۔ یعنی جیسے سعودی عرب میں تیل کے وسائل ہیں اسی طرح افغانستان میں لیتھیم کے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان وسائل کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ افغان عوام نے ان کو بہت کم دیکھا ہے، ان سے فائدہ اٹھانے کی بات تو دور کی بات ہے۔

فوجی

Getty Images
سنہ 2001 کے بعد سے بڑی تعداد میں غیرملکی افواج افغانستان میں موجود تھیں

بیرونی طاقتیں

اس طرح کی متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ چین افغانستان میں اپنی موجودگی قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے طالبان سے دیگر مغربی ممالک کی نسبت بہتر تعلقات ہیں۔ اگر طالبان کا اقتدار قائم رہتا ہے تو چین اس سے مستفید ہو سکتا ہے۔

چین کی بعض کمپنیوں کو تانبے اور تیل کے آپریشنز چلانے کے کچھ کانٹریکٹ ملے تھے لیکن اس میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایسی امید کی جا رہی ہے کہ چین افغانستان میں دلچسپی لے گا۔ اس کے لیے وہاں مواقع کافی واضح ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد بھی بہت چھوٹی ہے۔ چین کی ایجنسیاں (چاہے وہ سرکاری ہوں یا تجارتی) وہاں کامیابی حاصل کرنا چاہیں گی۔ وہ تب تک وہاں سرمایہ کاری کا عہد نہیں کریں گے جب تک انھیں یہ یقین دہانی نہ کروائی جائے کہ سکیورٹی اور بدعنوانی اس تجارتی مال کی صحیح مقدار نکالنے کے اُن کے حدف میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔

مزید پڑھیے

طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

افغانستان کی بساط پر چین، ایران اور روس کہاں کھڑے ہیں؟

طالبان نے دس دن میں افغانستان کے اہم ترین علاقوں پر کیسے قبضہ کیا؟

امراللہ صالح، احمد مسعود کا مزاحمت کا اعلان: کیا افغانستان میں جنگ واقعی ختم ہو چکی؟

چین یا کسی بھی دوسرے ملک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کے ذہن میں یہ سوال ضرور آئے گا کہ کیا طالبان ماضی کی حکومت کے مقابلے انھیں تجارت کرنے کا سازگار ماحول پیدا کرنے کے زیادہ اہل ہوں گے یا نہیں۔

افغان معیشت کو جو ایک اور بات متاثر کر سکتی ہے وہ ہے خواتین کا روزگار۔ گذشتہ ایک دہائی میں 15 برس سے زیادہ عمر کی خواتین کی ملازمت کرنے کی شرح میں ڈرامائی حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سنہ 2019 میں یہ شرح 22 فیصد تھی جو افغانستان کے معیار سے بہت زیادہ ہے لیکن عالمی معیار سے ابھی بھی بہت کم ہے۔ طالبان کے دور میں اس شرح میں واضح کمی آنے کا خدشہ ہے جس سے معیشت کو ایک بڑا دھچکا لگے گا۔

مستقبل میں معاشی استحکام غیر یقینی کا شکار نظر آتا ہے۔ لوگوں کے ہجوم کے ہجوم بینکوں سے اپنا پیسہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغان اسلامک پریس کے مطابق طالبان کے ترجمان بینک کے مالکان، کرنسی تبدیل کرنے والوں، تاجروں اور دکانداروں کو یہ یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ ان کی زندگیاں اور جائیداد کا تحفظ کیا جائے گا۔

یہ حقیقت کہ ناظم مالیات کی جان کو خطرہ ہے ایک حیران کن بات ہے۔ انھیں اس اعتماد کی ضرورت ہے کہ افغانستان کا مالیاتی نظام چل رہا ہے۔ لیکن صارفین کو بھی یہ احساس ہونا ضروری ہے کہ ان کا پیسہ محفوظ ہے۔ یہ کام بہت جلد نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words