ایموجیز کے پیچھے چھپے لوگوں کی دلچسپ مگر پوشیدہ کہانیاں

سارہ ٹرینر اور ویویئن نیونس - بزنس رپورٹرز، بی بی سی ورلڈ نیوز

Peter Tosh
Getty Images
آپ روزانہ کی بنیادوں پر جو ایموجیز استعمال کرتے ہیں شاید آپ ان کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں سوچتے ہوں گے۔ درحقیقت ان ایموجیز کے پیچھے انتہائی دلچسپ لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

کنگزٹن، جمیکا میں اپنے گھر سے بات کرتے ہوئے ریگے موسیقار اینڈرو ٹوش کا کہنا ہے کہ ’میرے والد کی موسیقی بامقصد ہے جس کا مقصد دنیا کو بیدار کرنا تھا۔‘

کنگزٹن کے والد پیٹر ٹوش 1960 کی دہائی میں ’ویلرز‘ نامی بینڈ کے شریک بانی تھے۔ اس بینڈ میں باب مارلے اور بنی ویلر بھی تھے۔

پیٹر ٹوش کی کہانی کا اختتام کچھ اچھا نہیں تھا۔ انھیں 1980 کی دہائی میں ایک حوفناک حملے میں قتل کر دیا گیا مگر انھوں نے اپنی موسیقی اور سیاسی وراثت پیچھے چھوڑی ہے۔

اور اگر آپ اپنا ایموجی کیبورڈ کھولیں اور ’لیویٹیٹنگ‘ سرچ کریں تو آپ کو ایک شخص کی تصویر ملتی ہے جو کہ ایک کالے سوٹ، ٹوپی، اور سن گلاسز میں ملبوس ہے۔

وہ شخص پیٹر ٹوش ہیں۔

پیٹر ٹوش کی بیٹی نیامبے مکنٹوش ان کی وفات کے بعد اُن کی وراثت کے معاملات دیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کا ورثہ انصاف اور انسانی حقوق کے بارے میں ہے اور وہ ان کا کام جاری رکھنے پر فخر محسوس کرتی ہیں۔

’وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ صرف ناچیں۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ اپنی سیاسی بیداری پر جھومیں۔‘

جب انھیں پتا چلا کہ ان کے والد کو ایک ایموجی کے ذریعے امر کر دیا گیا ہے تو وہ حیران ہو کر ہنسنے لگتی ہیں۔

Andrew Tosh singing in reggae hat

Getty Images

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یہ معلوم نہیں تھا۔ مگر مجھے اس تصویر کا معلوم ہے جس پر یہ مبنی ہے، اس میں باب، بنی، اور میرے والد سوٹ پہنے ہوئے ہیں اور میرے والد کافی سیدھے کھڑے ہوئے ہیں۔‘

یہ بات ان کے بھائی اینڈو کے لیے بھی نئی تھی۔ وہ کہتے ہیں ’اوہ کول! مجھے یہ تصویر یاد ہے۔ یہ پیٹر ٹوش کی جوانی کی ہے۔‘

تو ایک ریگے سٹار ایک ایموجی کیسے بن گئے؟

ویب (ڈنگز) کی تاریخ

یہ ایک ایسی کہانی ہے جو اپ کو جمیکا سے امریکہ کے شہر سیئٹل لے جاتی ہے خاص طور پر 1990 کی دہائی کے وسط میں مائیکرو سافٹ کے صدر دفتر میں۔

اس وقت پرسنل کمپیوٹر کا انقلاب برپا ہونا ابھی شروع ہو رہا تھا اور ٹائیپوگرافر ونسنٹ کونیئر نئی فونٹس پر کام کر رہے تھے۔

انھوں نے جو فونٹس ڈیزائن کیں ان میں ویب ڈنگز بھی تھی جو کہ ایک تصویری فونٹ تھا اور اسے ابتدائی ویب سائٹوں پر استعمال کیا جانا تھا۔

ونسنٹ کونیئر موسیقی کے مداح تھے خاص کر سکا قسم کی موسیقی کے۔ ان کے پسندیدہ بینڈز میں ایک برطانوی سکا بینڈ تھا جس کا نام تھا ’دی سپیشلز‘۔ ان کے لیبل، ٹو ٹون ریکارڈز کا ایک لوگو تھا جو کہ ویلرز کی ابتدائی تصویر پر مبنی تھا۔

The Wailers

Getty Images

اس تصویر میں پیٹر ٹوش باب مارلی کی طرف کمر کر کے کھڑے ہیں اور سن گلاسز پہننے ہوئے وہ کیمرے کے فریم سے باہر دیکھ رہے ہیں۔ ٹو ٹون ریکارڈز کے ڈیزائنر اس تصویر سے متاثر ہوئے۔

اور یہی لوگو ہے جو کونیئر نے دو دہائیوں بعد ویب ڈنگز کے لیے استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیے

ملیے عرب ایموجیز سے

ورلڈ ایموجی ڈے منانے کی تیاریاں جاری

’چٹکی والی‘ ایموجی: آخر اس کا مطلب کیا ہے؟

وہ دہائی جس میں سوشل میڈیا نے زندگیاں بدل کر رکھ دی

ان کے ورژن میں سوٹ پہننے ہوا شخص چھلانگ لگا رہا ہے، یا پوگوئنگ کر رہا ہے جو کہ سپیشلز کے مداحوں میں مقبول تھا اور اس کا مقصد تھا کہ ایک صفحے سے دوسرے صفحے کی چھلانگ کی عکاسی کی جائے۔

کئی سالوں بعد ویب ڈنگز کے سمبلز کو ایموجیز بنا دیا گیا اور دنیا کے ہر سمارٹ فون کے لیے ریلیز کر دیا گیا۔

کونیئر نے کئی اور سمبلز بھی بنائے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم تو سب اِدھر اُدھر دیکھتے تھے اور جو نظر آتا تھا بنا دیتے تھے۔‘ وہ بھی اپنی وراثت پر حیران سنائی دیتے ہیں۔

ایموجی کی یادیں

ایموجی کو منظور اور سرکاری سیٹ میں شامل سلیکون ویلی میں تنظیم یونی کوڈ کرتی ہے۔

اور ییینگ لو اور ان جیسے دیگر لوگوں کے لیے اس میں شامل ہونا کافی خاص بات ہے۔

ییینگ شنگائی میں پیدا ہونے والی ایک ڈیزائنر ہیں جنھوں نے کئی بار سرکاری کیبورڈ کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔ ڈمپلگنز، چوپ سٹکس، فورٹین کوکی، ٹیک اوے باکس اور ببل ٹی ان کی ہی تجاویز تھیں۔ یہ ان کی چینی امریکی شناخت کو اجاگر کرتی ہیں۔

Takeout box, fortune cookie, dumpling ,chopstick emoji designs

Yiying Lu

وہ علامتوں کے معنی پرکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور لوگوں کی ثقافت کے بارے میں سوچ وسیع تر کرنا چاہتی ہیں۔ اور وہ ہمیں فخر کے ساتھ سان فراسسکو میں چائنا ٹاؤن کمیونٹی سے اپنے روابط کا بتاتی ہیں۔

مگر جس ایموجی پر انھوں نے کام کیا ہے اس کا تعلق ان کی ثقافت کے کھانوں سے نہیں ہے۔

وہ ایک مور ہے۔

چند سال پہلے وے ایک ایموجی کانفرنس میں ایرین چو سے ملی تھیں جو کہ ایک کوریئن امریکی ہیں اور سان فراسسکو میں مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ایرین نے ہالی وڈ میں کام بھی کیا ہے اور ایک مقبول ریسٹورانٹ برما لو میں بھی کام کیا ہے۔ ان دونوں کی فوراً دوستی ہو گئی۔

برما لو ریسٹورانٹ موروں کی تصاویر سے سجا ہوا تھا اور انھوں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے۔

Yiying Lu holding two takeout boxes

BBC

جب انھیں پتا چلا کہ مور برما کے کلچر میں انتہائی اہم ہے تو انھوں نے سوچا کہ ایک دن وہ مور کو بطور ایک ایموجی تجویز کریں گی۔ مگر اس سال کی کانفرنس اور تجاویز بھیجنے کی تاریخ ایک دن میں ختم ہو رہی تھی۔

ان دونوں نے سوچا کہ ساری رات کام کریں۔ ییینگ نے اس تصویر پر کام کیا اور ایرین نے اس کے حوالے سے تجویز لکھی۔ انھوں نے ڈیڈ لائن سے چند منٹ پہلے مور کی ایموجی کی تجویز بھجوائی۔

Irene Cho in front a store with peacocks in the window display

Yiying Lu

چند ماہ بعد یونیکوڈ نے اعلان کیا کہ مور کی ایموجی کو شارٹ لسٹ کر لیا گیا ہے۔ جب ییینگ نے ایرین کو یہ خود خبری سنانے کے لیے رابطہ کیا تو انھیں کویی جواب نہیں آیا۔

’میں اسے ٹیکسٹ میسج بھیج رہی تھی، زبردست، یہ ہونے لگا ہے! مگر اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔‘

تقریباً ایک سال بعد ییینگ نے اس ریسٹورانٹ کا ایک سٹینڈ سان فراسسکو میں ایک تقریب میں دیکھا تو انھوں نے ایرین کے بارے میں پوچھا۔

انھیں معلوم ہوا کہ ایرین کی سٹروک کی وجہ سے اچانک موت ہو چکی تھی۔ ان کی موت ان کی فیملی کے لیے حیران کُن تھی۔

یہ اسی مہینے ہوئی تھی جس مہینے ایموجی کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ ان کے بہت سے دوستوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ایرین نے ایموجی کی تجویز بھیجی تھی۔

Yiying and Irene dressed as emoji

Yiying Lu

ایرین کی قریبی دوست بروک لی کو جب ہم نے بتایا کہ ان کے فون میں موجود مور ان کی دوست کا کام تھا تو وہ کہتی ہیں کہ ’یہ جیسے جنت سے ایک پیغام ہے۔ یہ ایسے ہے کہ وہ کہہ رہی ہیں کہ میں ابھی بھی یہاں ہوں اور مجھے موت بھی روک نہیں سکتی۔‘

ایموجی سادہ علامتیں ہیں یا اپنے پیغامات میں رنگ ڈالنے کا ایک مزیدار طریقہ ہیں مگر بروک، ییینگ اور دیگر کئی لوگوں کے لیے یہ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

بروک کہتی ہیں ’ایرین اس پر یقیناً فخر محسوس کرتی۔ نمائندگی اہم ہوتی ہے۔ جو چیزیں آپ کی اس میں مدد کریں کہ آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ کو دیکھا جا رہا ہے، اہم ہوتی ہیں۔‘

Peacock design

Yiying Lu

ییینگ ان سے متفق ہیں۔ وہ اپنی دوست کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’مجھے خوشی ہے کہ میں یہ کہانی آپ کے ساتھ شیئر کر سکی ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words