انڈیا کے زندہ مردے: انڈیا کے وہ شہری جنھیں جائیداد ہتھیانے کے لیے مردہ قرار دیا گیا

پادیسر یادیو زندہ اور صحت مند ہیں لہذا انھیں اس وقت حیرانگی ہوئی جب انھیں یہ علم ہوا کہ کاغذوں میں انھیں مردہ قرار دے دیا گیا ہے
BBC
اگر آپ فوت ہو چکے ہیں تو آپ زمین کے مالک نہیں ہو سکتے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انڈیا میں ہزاروں افراد کو سامنا ہے جنھیں ان کی زندگی میں ہی مردہ قرار دے دیا گیا ہے اور انھیں ان کی جائیدادوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے بہت سے ایسے افراد ہیں جنھیں یہ علم ہوا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے اس عمل کے خلاف شاید ہی کچھ کر سکتے ہیں۔

اس بارے میں مزید بتا رہے ہیں بی بی سی کے نامہ نگار کلوئے ہدجی ماتھیو۔


پادیسر یادیو زندہ اور صحت مند ہیں لہذا انھیں اس وقت حیرانی ہوئی جب انھیں معلوم ہوا کہ کاغذوں میں انھیں مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اپنی زندگی کی 70ویں دہائی میں، اپنے بیٹی اور داماد کی وفات کے بعد انھیں اچانک سے دو نواسے نواسیوں کو پالنا پڑا تھا۔

لہذا اُن کی پرورش اور تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے انھوں نے اپنے والد سے وراثت میں ملنے والی زمین کا کچھ حصہ فروخت کر دیا تھا۔ چند ماہ بعد انھیں ایک عجیب فون کال موصول ہوئی۔

’جس شخص کو میں نے زمین فروخت کی تھی اس نے مجھے کال کر کے کہا کہ میرے خلاف ایک قانون مقدمہ درج ہوا ہے۔ اس نے بتایا کہ میرا بھتیجا سب کو بتا رہا ہے کہ میں مر چکا ہوں اور ایک دھوکے باز نے جعل سازی سے یہ زمین بیچی ہے۔‘

یادیو فوراً کولکتہ سے اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں واقع اپنے آبائی گاؤں پہنچے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو لوگ انھیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔

’انھوں نے مجھے ایسے گھورا جیسے وہ کوئی بھوت دیکھ رہے ہوں اور انھوں نے کہا ’تم مر چکے ہو، تمھاری آخری رسومات بھی ادا کر دی گئیں ہیں۔‘

یادیو کا کہنا ہے کہ ان میں اور ان کے بھتیجے میں کافی محبت ہے اور وہ جب بھی شہر آتے تو اکثر اس سے ملاقات کرنے آتے۔ لیکن جب یادیو نے انھیں بتایا کہ وہ خاندانی زمین فروخت کا سوچ رہے ہیں تو اُن کے بھتیجے نے ان کی طرف آنا بند کر دیا۔ انھیں تب پتا چلا تھا کہ ان کا بھتیجا اس زمین پر اپنے وراثتی حق کا دعویٰ کر رہا تھا، لہذا یادیو نے اس کی مخالفت کی۔

یادیو کا کہنا ہے کہ ’اس نے کہا کہ میں نے اس شخص کو کبھی پہلے نہیں دیکھا، میرے چچا مر چکے ہیں، میں یہ سن کر سکتے میں آ گیا۔ میں نے کہا لیکن میں زندہ ہوں اور یہاں تمھارے سامنے کھڑا ہوں تم کیسے مجھے پہچاننے سے انکار کر رہے ہو؟‘

یادیو کہتے ہیں کہ وہ بہت دنوں تک روتے رہے اور پھر انھوں نے اپنے آپ کو یکجا کیا اور انڈیا کی زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ’ایسوسی ایشن آف لیونگ ڈیڈ آف انڈیا‘ کو کال کی۔

لال بہاری مریتک

BBC
لال بہاری مریتک

یہ تنظیم لال بہاری مریتک چلاتے ہیں۔ یہ وہ شخص جنھیں اپنی عمر کی ساٹھ کی دہائی میں اپنے مردہ قرار دیے جانے کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اور وہ اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ بطور مردہ شخص گزار چکے ہیں۔ بہاری کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے ہے۔ انھوں نے کبھی تعلیم حاصل نہیں کی کیونکہ انھیں سات برس کی عمر میں ساڑھیاں بنانے والی ایک فیکٹری میں کام پر لگا دیا گیا تھا۔

اپنی عمر کی بیس کی دہائی میں انھوں نے ایک قریبی شہر میں اپنی ایک ٹیکسٹائل ورکشاپ کھولی۔ لیکن انھیں کاروبار چلانے کے لیے قرض کی ضرورت تھی اور بینک کو اس کے لیے کوئی ضمانت درکار تھی۔

اس کے لیے وہ اعظم گڑھ ضلع میں ہی اپنے گاؤں خلیل آباد کے مقامی سرکاری دفتر اس امید کے ساتھ گئے کہ انھیں اپنے والد سے ملنے والی وراثتی زمین کے کاغذات مل جائے گے۔ گاؤں کے اکاؤنٹنٹ نے ریکارڈ میں ان کا نام تلاش کیا اور اسے کاغذات مل گئے لیکن اسے ان کاغذات کے ساتھ ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی ملا جس کے مطابق لال بہاری مر چکے تھے۔

بہاری نے اس پر سخت احتجاج کیا کہ وہ کیسے مردہ ہو سکتے ہیں جبکہ وہ وہاں اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ بہاری کو جو بتایا گیا وہ انھیں یاد ہے کہ ’ان کاغذوں میں یہ صاف صاف لکھا ہے کہ تم مر چکے ہو۔‘

جب بہاری کے موت کا مقامی اتھارٹی میں اندراج کروایا گیا تو اس کی زمین اور جائیداد جو انھیں والد سے وراثت میں ملی تھی وہ ان کے چچا کے خاندان کو چلی گئی۔ بہاری کہتے ہیں کہ آج تک یہ علم نہیں ہو سکا کہ یہ کوئی دفتری غلطی تھی یا ان کے چچا کے کوئی جعلسازی کی تھی۔

دونوں صورتوں میں بہاری برباد ہو چکے تھے، انھیں اپنی ورکشاپ بند کرنا پڑی اور ان کا خاندان غربت میں ہی رہا۔ لیکن بہاری نے اپنی مبینہ موت پر خاموشی اختیار نہ کرنے اور اس کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا اور انھیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ اس جدوجہد میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔

ملک بھر میں لوگوں کو ان کے رشتہ داروں نے جھانسہ دے کر مردہ قرار دے دیا تھا تاکہ وہ ان کی زمین ہتھیا سکیں۔

بہاری نے ایسے زندہ مگر مردہ قرار دیے جانے والے افراد کے لیے ایک تنظیم بنائی اور ایسے افراد کو ایک جگہ اکٹھا کیا۔ ایک اندازے کے مطابق صرف اتر پردیش ریاست میں 40 ہزار افراد ایسے ہیں جو زندہ ہیں اور انھیں مردہ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر غریب، ان پڑھ یا نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔

بہاری نے ان سب کو اکٹھا کر کے ایک تحریک کا آغاز کیا تاکہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی طرف توجہ دلا سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

بیوی زندہ مگر شوہر قتل کے الزام میں جیل میں

جب دلھن نے مردہ بیٹے کے دل کی دھڑکن سنی

مردہ سمجھ کر سرد خانے میں رکھا جانے والا شخص انتقال کر گیا

انھوں نے اپنے نام کے ساتھ ’مریتک‘ لفظ کا اضافہ کر لیا جس کا مطلب ’مرحوم‘ ہوتا ہے اور ان کا نام ’مرحوم لال بہاری‘ بن گیا۔ اس صورتحال میں انھوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر احتجاج کیے تاکہ انھیں میڈیا کی توجہ حاصل ہو سکے۔ لیکن ان کے حالات بدلنے کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔

لال بہاری مریتک

Getty Images

پھر انھوں نے قومی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور وہ ایک مردہ آدمی کا نام ووٹ کے بیلٹ پر لانے میں کامیاب رہے۔ جب وہ حکام کو اس بارے میں مطمئن کرنے میں ناکام رہے کہ وہ زندہ ہیں تو انھوں نے تین مرتبہ بھوک ہڑتال کر کے خود کو تقریباً مارنے کی کوشش کی۔

اضطراب اور بے چینی میں آخر کار انھوں نے اپنے چچا کے لڑکے کو اغوا کر کے قانون توڑنے کا فیصلہ کیا۔ انھیں امید تھی کہ پولیس انھیں گرفتار کرے گی اور اس طرح انھیں مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ زندہ ہیں کیونکہ مردہ آدمی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن پولیس کو اندازہ ہو گیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور انھوں نے اس معاملے میں پڑنے سے انکار کر دیا۔ آخر میں بہاری کو انصاف مل گیا لیکن یہ ان کی کسی کاوش کی وجہ سے نہیں تھا لیکن اسی نظام کی وجہ سے تھا جس نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔

اعظم گڑھ میں ایک نئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ازسر نو ان کے کیس کا جائزہ لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ انھیں مردہ قرار دینے کے 18 برس بعد لال بہاری زندہ ہیں۔

بہاری کا کہنا ہے کہ ان کی لیونگ ڈیڈ ایسوسی ایشن کے ذریعے انھوں نے انڈیا بھر کے ہزاروں ایسے افراد کی مدد کی ہے جو اسی طرح کی مشکلات کا شکار تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر ان کی طرح خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے۔ ان میں سے کچھ نے برسوں انصاف کی تلاش میں کوشش کرتے اور امید ہارتے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر لیا تھا جبکہ کچھ اپنے مقدموں کے فیصلوں سے قبل ہی طبعی موت مر گئے۔

ایک ستر سالہ شخص تلک چند دھکڈ جو اپنی اس جدوجہد کے ابتدائی مراحل میں ہیں، جب وہ مادھیا پردیش کے ایک کھیت میں جاتے ہیں جہاں وہ پلے بڑے تھے۔ اب انھیں اسے ایک باڑ کے پیچھے سے دیکھنا پڑتا ہے۔ اس بزرگ شخص کو متعدد طبی مسائل کا سامنا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ ان کھیتوں میں دوبارہ چلنے تک شاید زندہ نہیں رہیں گے۔

ایک جوان مرد کے طور پر دھکڈ بہتر ذریعہ آمدن اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے شہر منتقل ہوئے تھے۔ جب وہ شہر میں تھے تو انھوں نے اپنی زمین ایک جوڑے کو کرائے پر دی تھی۔ ایک مرتبہ جب وہ کچھ کاغذات دستخط کرنے گاؤں واپس آئے تو تب انھیں یہ پتہ چلا کہ اب وہ اس زمین کے مالک نہیں رہے ہیں کیونکہ انھیں مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔

دھکڈ

BBC
دھکڈ کو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ جس شادی شدہ جوڑے کو اس نے اپنی زمین کرائے پر دی تھی انھوں نے انھیں سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دلوا دیا تھا

وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’مقامی اتھارٹی کے دفتر کے ایک افسر نے مجھے بتایا کہ میں مر چکا ہوں، میں نے سوچا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بہت خوفزدہ ہو گیا تھا۔‘

دھکڈ کو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ جس شادی شدہ جوڑے کو اس نے اپنی زمین کرائے پر دی تھی انھوں نے انھیں سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دلوا دیا تھا اور اس عورت نے ان کی بیوہ بن کر عدالت میں یہ بیان دیا تھا کہ وہ زمین کی منتقلی کے کاغذات پر دستخط کرنے پر راضی ہے۔

جب بی بی سی نے اس جوڑے سے رابطہ کیا جن پر دھکڈ نے ان کی زمین ہتھیانے کا الزام عائد کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے۔

انیل کمار جنھوں نے مردہ قرار دیے جانے والے بہت سے افراد کے مقدمات لڑے ہیں کے اندازے کے مطابق اعظم گڑھ ضلع میں جہاں لال بہاری رہتے ہیں وہاں کم از کم ایک سو ایسے افراد ہوں گے جنھیں وقت سے پہلے ہی مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر مقدمہ ہی پیچیدہ ہے، بعض اوقات کوئی دفتری غلطی ہوتی ہے اور بعض اوقات سرکاری اہلکاروں کو جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے رشوت دی گئی ہوتی ہے۔

انڈین حکومت کی ترجمان شائنا این سی نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ حکومت اس بارے میں بہت متحرک ہے اور وہ کرپشن کے سدباب کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا جیسے بڑے ملک میں وقتاً فوقتاً ایک دکا ایسے کیس سامنے آ جاتے ہیں لیکن زیادہ تر واقعات کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی اچھی طرز حکمرانی کے باعث حل کر لیے جاتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی کرپشن کا کیس سامنے آتا ہے تو پارلیمنٹ کے پاس کافی قوانین موجود ہیں کہ مجرمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔‘

لیکن انیل کمار کا کہنا ہے کہ جب یہ کیسز جعلسازی اور دھوکہ بازی کا نتیجہ ہیں تو اس پر انصاف بھی فوری اور واضح ملنا چاہیے۔ ایک مقدمے جو انھوں نے لڑا تھا اس میں یہ ثابت کرنے میں انھیں چھ برس لگے کہ ان کا موکل زندہ ہے اور اس کے 25 برس بعد وہ اب بھی اس کیس کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں جس میں ان کے موکل کو مبینہ طور پر مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔

کمار کا کہنا ہے کہ ’اگر اس نوعیت کے مقدمات پر فوری فیصلے ہو اور مجرموں کو سزا ملے تو لوگوں میں خوف بیٹھ جائے گا اور وہ اس طرح کے جرائم کرنے سے باز رہیں گے۔‘

لال بہاری مریتک

BBC

لال بہاری کو مردہ قرار دیے 45 برس سے زائد کا وقت گزر چکا ہے اور دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے کہ وہ خود کو زندہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ لیکن وہ اب بھی ہر سال اپنے دوبارہ جنم کا دن ایک خوبصورت سے بڑے کیک کے ساتھ دوستوں کے ساتھ مناتے ہیں اور جب وہ کیک کاٹتے ہیں تو ان کے مہمانوں کو یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک جعلی گتے سے بنا کیک ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اندر سے یہ خالی ہوتا ہے جیسے کچھ سرکاری افسران جو اندر سے کھوکھلے اور بے ایمان ہیں۔ لہذا میں یہ کیک کسی تقریب کے طور پر نہیں بلکہ اس یاد دہانی کے لیے کاٹتا ہوں جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں۔‘

لال بہاری کا کہنا ہے کہ انھیں اب بھی ملک بھر سے لوگوں کی کالز موصول ہوتی ہیں جو ان سے مدد لینا چاہتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ زندہ ہیں لیکن اب 66 برس کی عمر میں ان میں ہمت کم ہوتی جا رہی ہے اور وہ اب اس جدوجہد سے کنارہ کشی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اب میرے پاس ہمت اور پیسہ نہیں ہے کہ میں لیونگ ڈیڈ ایسوسی ایشن کو چلا سکوں اور میرے بعد کوئی اس کو چلانے والا نہیں ہے۔‘

وہ ہمیشہ یہ امید کرتے رہے کہ قومی میڈیا ایسے افراد کی داد رسی کرے گا اور حکومت رشوت خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی لیکن ایسا اب تک نہیں ہوا۔

وہ شخص جس نے اپنی زندگی کے 18 برس یہ ثابت کرنے میں گزار دیے کہ وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے وہ ایک دن حقیقت میں ان تمام تبدیلیوں کے بنا جن کے لیے وہ لڑ رہا ہے ابدی نیند سو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words