میکہ پاکستان میں اور انڈیا میں سسرال، کیسے سلجھیں گے یہ رشتے؟

دیوینا گپتا - نمائندہ بی بی سی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر عمرکوٹ کی رہائشی سریتا جب اپنے گھر سے رخصت ہو رہی تھیں تو کچھ دیر کے لیے وہ دریائے سندھ کے پل پر رک گئیں۔

راجپوت برادری سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ سریتا کماری نے دریائے سندھ میں ایک سکہ پھینکا اور دریا عبور کر کے انڈیا جانے کی اجازت مانگی۔ انھوں نے ایک نذر مانی کیونکہ سرحد کے اس پار کسی دوسرے ملک میں بسنے کے لیے وہ ایک نئے سفر پر نکل رہی تھیں اور اب انڈیا ان کا گھر بننے والا تھا۔

یہ سنہ 1984 کا واقعہ ہے۔ سریتا دریائے سندھ عبور کر کے راجستھان کے گھنے راؤ پہنچیں جہاں ان کی شادی ٹھاکر ہمت سنگھ سے ہوئی۔

سریتا نے مجھے بتایا: ‘وہ ایک رسم تھی جو میرے والد نے مجھے سکھائی تھی اور میں نے بھی اسے اچھی طرح یاد کر لیا تھا۔ راجپوت لڑکیوں کی شادی ان کے اپنے گوتر (قریبی خاندان) میں نہیں ہوتی۔ پاکستان میں ہم صرف سوڈھا راجپوت رہ گئے تھے۔’

‘یہ بات سب کے ذہن میں رہتی ہے کہ ایک دن مجھے انڈیا میں اپنے لیے دولہا تلاش کرنا پڑے گا۔ میں پہلی بار شادی میں شرکت کے لیے انڈیا آئی تھی۔ اس وقت میری عمر صرف 19 سال تھی۔ وہاں میری مستقبل کی ساس نے مجھے دیکھا اور میری کنڈلی (زائچہ) ملائی۔ میں نے شادی سے پہلے اپنے شوہر کو صرف ایک بار دیکھا تھا۔’

نئی زندگی کا آغاز

سریتا کو ہندی سیکھ کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں: ‘اگرچہ راجستھان اور سندھ کے درمیان ریگستان میں محض ایک لکیر کھینچی گئی ہے لیکن ابتدا میں خود کو ڈھالنا مشکل ہے۔ راجستھان میں لوگ یہ کہتے رہے کہ ‘بندنی نی کچھ نا آوے’ جس کا مطلب ہے کہ اسے کچھ نہیں آتا۔’

‘میں اخبار نہیں پڑھ سکتی تھی۔ دیواروں پر لٹکتے بورڈز پر تحریر عبارتیں نہیں سمجھ سکتی تھی۔ میں یہاں الجھ کر رہ گئی تھی۔ مجھے کچھ سال لگے اور جب میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اس کے ساتھ ہندی سیکھی۔ میں نے راجستھانی بھی سیکھی اور مذہبی کتابیں پڑھنے کے لیے سنسکرت بھی سیکھی۔’

ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے سریتا بتاتی ہیں کہ کس طرح انھیں انڈیا میں اپنے معاشرے میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کے تعصبات صرف زبان کے بارے میں نہیں تھے بلکہ کھانا پینا بھی ایک مسئلہ تھا۔

شادی کے بعد انڈیا آنے کے بعد کیا ہوا؟

سریتا کے میکے کا کھانا پینا اس کے سسرال والوں سے مختلف تھا اور انھوں نے اسے بھی اپنا لیا۔ پانچ سال بعد سریتا کو انڈیا کی شہریت مل گئی اور وہ آج کل پاکستان سے آنے والی ہندو دلہنوں کو اپنی خانگی زندگی میں چیزوں کو سمجھنے میں مدد کے لیے رسومات پر ایک کتاب لکھ رہی ہے۔

سریتا کے شوہر سنہ 2017 سے گھنے راؤ کے 18 ویں ٹھاکر صاحب ہیں۔ ان کا خاندان اس علاقے میں ہوٹل اور لاجز چلاتا ہے۔ انھیں افسوس ہے کہ اپنے والد کی موت کے وقت وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیے اپنے میکے نہیں جا سکیں۔

وہ کہتی ہیں: ‘نوے کی دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان ماحول کشیدہ تھا اور میں تین چار سال تک پاکستان نہیں جا سکی تھی۔ جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میں وہاں نہیں تھی کیونکہ میں نہیں جا سکی۔ جب میرا بچے پیدا ہوا تو، کوئی بھی اسے دیکھنے کے لیے میرے میکے سے نہیں آسکتا تھا اور میں بھی کسی مصیبت یا بیماری کے وقت پاکستان میں اپنے خاندان کے پاس نہیں جا سکتی تھی۔’

سریتا کمار سوڈھا کی والدہ اور ان کے بھائی اب بھی عمرکوٹ میں رہتے ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد نے مغل شہنشاہ ہمایوں کو پناہ دی، بادشاہ اکبر وہیں پیدا ہو‏ئے اور وہ شہر آج بھی اپنے شاندار ماضی کے آثار سے بھرا ہوا ہے۔

محبت، انتظار اور فیض کی شاعری

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر، تو آرزو ہی سہی

آپ جسے چاہتے ہیں اور اس شخص سے نہیں مل سکتے تو ایسی صورت میں ملاقات کی توقع پر بھی کچھ عرصہ گزارا جا سکتا ہے۔ اردو کے مشہور شاعر فیض احمد فیض نے مندرجہ بالا شعر میں شاید یہی بات کہی ہے۔

زندگی کی 42 بہاریں دیکھنے والی شازمان منصور کا یہی حال کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا۔ وہ سنہ 2008 میں کراچی ایئرپورٹ پر انڈیا جانے والی فلائٹ کا انتظار کر رہی تھیں اور اس وقت انھیں بتایا گیا کہ فلائٹ منسوخ کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھیے

شادی کرنی ہے تو پانی کا ٹینکر لاؤ!

’سکھ شادی ایکٹ تو انڈیا میں بھی موجود نہیں‘

’شادی کے تیسرے ماہ مس کیرج ہوا تو سسرال والوں نے کہا شوہر کو کچھ نہیں بتانا‘

وہ خصوصی ویزے پر پاکستان اپنے میکے گئی تھیں اور انھیں انڈیا واپس آنا تھا۔ ان کے شوہر منصور ممبئی میں ان کا انتظار کر رہے تھے۔

منصور علی بتاتے ہیں: ‘یہ بہت تکلیف دہ تھا کیونکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست فلائٹ سروسز آخری لمحے میں منسوخ کر دی گئی تھی۔ ہم بہت پریشان تھے کیونکہ اگر شازمان بروقت واپس نہ آ‏ئیں تو ان کا ویزا ختم ہو جائے گا۔ چار دن تک ہم بے بس رہے اور آخر کار میں نے اس کے لیے سری لنکا کے راستے انڈیا واپس آنے کے لیے ٹکٹ بک کرایا۔

شازمان ان سینکڑوں خواتین میں شامل ہیں جو پاکستان سے انڈیا شادی کر کے لیے آئی ہیں۔ ان کی شادی منصور سے سنہ 2005 میں ہوئی تھی اور اس کے بعد سے وہ انڈیا میں ہی سکونت پذیر ہوئی۔

شازمان بتاتی ہیں: ‘بنگلور میرے بابا کا شہر تھا۔ تقسیم کے وقت ان کا خاندان پاکستان چلا گیا۔ وہ اس وقت بچے تھے۔ لیکن بنگلور کی میٹھی یادیں اب بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں منصور سے شادی کروں اور ان کی یادوں اور رشتوں کو دوبارہ جوڑ دوں اور میں راضی ہو گئی۔’

مشکلات کا سامنا

لیکن سرحد پار انڈیا میں گھر بسانے کا یہ مطلب یہ ہے کہ آپ دونوں ممالک کے درمیان بدلتے سیاسی رشتوں کے سائے سے نہیں بچ سکتے۔ اگر تناؤ بڑھتا ہے تو ایک طرف سے دوسری طرف آنا اور جانا مشکل ہو جاتا ہے۔

پاکستانی لڑکیاں جو یہاں انڈین مردوں سے شادی کرنے آتی ہیں وہ زیادہ تر قلیل مدتی ویزے پر آتی ہیں۔ انھیں انڈیا میں اپنے قیام کے بارے میں پولیس سٹیشن میں معلومات دینا ہوتی ہے۔

پولیس باقاعدہ وقفے وقفے سے سخت تحقیقات کرتی ہے۔ اس کے بعد وہ طویل مدتی ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور پھر شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

انگریزی اخبار ‘ڈیکن ہیرالڈ’ کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2011 سے مارچ 2020 تک صرف 4085 پاکستانی شہریوں کو انڈیا کی شہریت دی گئی ہے جبکہ اسی عرصے میں 15 ہزار سے زائد بنگلہ دیشی لوگوں کو انڈین شہریت ملی ہے۔

تاہم وزارت داخلہ نے یہ نہیں بتایا کہ انڈیا کی شہریت حاصل کرنے والوں میں کتنے لوگ کس مذہب کے تھے اور کتنے مرد تھے اور ان میں کتنی خواتین تھیں۔

شازمان کو سنہ 2018 میں ہندوستان کی شہریت ملی۔ اسی سال وہ آخری بار پاکستان اپنے میکے گئیں۔ اب وہ ایک انڈین شہری ہیں اور موجودہ سیاسی صورتحال کو پیش نظر، وہ اپنے پاکستانی جڑوں کے بارے میں لوگوں کو کم ہی بتاتی ہیں۔

شازمان نے کہا: ‘میرا ایک اصول ہے۔ اگر میں پہلی بار کسی شخص سے مل رہی ہوں تو میں اسے یہ نہیں بتاتی کہ میں پاکستان سے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ غصے سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

وہ شادی جو 14 فروری کی وجہ سے نہ ہوسکی۔۔۔

پاکستان سے انڈیا لوٹنے والے کشمیری جنھیں اپنوں نے ہی قبول نہیں کیا

’شادی کے تیسرے ماہ مس کیرج ہوا تو سسرال والوں نے کہا شوہر کو کچھ نہیں بتانا‘

انھوں نے بتایا کہ ‘ایک بار جب میں اپنی بیٹی کے ساتھ ایک پارک میں تھی اور میں نے اپنے دوپٹے کو مختلف انداز میں لے رکھا تھا تو ایک خاتون آئی اور مجھ سے پوچھا کہ میں کہاں سے ہوں؟ میں نے انھیں بتایا کہ میں پاکستان سے ہوں تو اس نے زور سے کہا کہ ‘پاکستانی دہشت گرد ہیں’۔ میں دنگ رہ گئی۔ دیکھیے، یہاں سے کبھی کوئی پاکستان نہیں گیا لیکن اس کے باوجود یہ ایک عام خیال ہے کہ پاکستان کے لوگ دہشت گرد ہیں۔’

شازمان کے شوہر منصور غصے کو قابو میں کرنے کی تکنیک کا سہارا لیتے ہیں اور شازمان کے ساتھ جو اس دن پارک میں واقع ہوا ایسی نوبت آنے پر اسے مذاق میں ٹال دیتے ہیں۔

منصور بتاتے ہیں: ‘میں پرسکون رہنے کی کوشش کرتا ہوں اور 20 تک گنتی شمار کرتا ہوں کیونکہ میں تھوڑا سا گرم مزاج ہوں۔ میں ان لوگوں سے ملتا ہوں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ مجھے پاکستانی لڑکی سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ بعض اوقات لوگ براہ راست پوچھتے ہیں اور میں ان سے کہتا ہوں کہ انڈیا کا آئین کہتا ہے کہ تمام انڈینز بھائی بہن ہیں، اس لیے میں نے ایک پاکستانی سے شادی کی۔ کچھ لوگ اس جواب پر ہنس دیتے ہیں اور میرا تناؤ کم ہو جاتا ہے۔’

‘ہم کینیڈا کی شہریت لینا چاہتے تھے’

میر عرفان حسین نجفی جب دبئی میں ایک دوست کے لیے ‘ہاشمی سرمہ’ تلاش کر رہے تھے تو انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ تلاش انھیں اپنی ہونے والی بیوی سے متعارف کرائے گی۔ یہ سرمہ صرف کسی پاکستانی سٹور پر ہی مل سکتا تھا۔

زویا فاطمہ رضوی پہلی ہی ملاقات میں میر کی محبت میں گرفتار ہوگئیں۔ سنہ 2012 میں دونوں نے شادی کی اور زویا نے ایک بڑا فیصلہ کیا۔

زویا کہتی ہیں: ‘میں نے اس بارے میں کہانیاں سن رکھی تھیں کہ پاکستانی خواتین کو جنھوں نے شادی کی اور انڈیا میں سکونت اختیار کی انھیں دستاویزات سے متعلقہ مسائل کا کس قدر سامنا کرنا پڑا۔ ملک چھوڑنے کے لیے حکومت سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ اس لیے میں قدرے سہمی ہوئی تھی اور میں نے ان سے کہا کہ میں دبئی یا کینیڈا جیسے کسی غیر جانبدار ملک میں رہنا چاہتی ہوں۔’

لیکن اس کے باوجود انھیں لوگوں کے تعصبات کا سامنا کرنا پڑا۔

رشتے اور تلخیاں

میر عرفان بتاتے ہیں: ‘میرے ایک دوست نے میری شادی میں شرکت سے انکار کر دیا۔ انھوں نے مجھ پر انڈیا کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام لگایا۔ یہاں تک کہ میرے کچھ رشتہ داروں نے زویا کے رشتہ داروں کے ساتھ تصویر کھنچوانے سے بھی انکار کر دیا کیونکہ دونوں ممالک کی تاریخ کے پس منظر میں ان کے ذہنوں میں تلخیاں تھیں۔’

یہاں تک کہ دونوں ممالک کے پیچیدہ تعلقات بعض اوقات ذاتی تعلقات پر سایہ ڈالنے لگے۔ خاص طور پر جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ جاری ہو تو گھر میں بھی مورچہ بندی شروع ہو جاتی ہے۔

میر عرفان نے کہا: ‘میں ہمیشہ انڈیا کی اور زویا پاکستان کی حمایت کرتی ہیں۔’

دونوں اب کینیڈا منتقل ہو چکے ہیں۔ میر کے پاس اپنی دو بیٹیوں کو اپنے گھر سے منسلک رکھنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

وہ کہتے ہیں: ‘ہم ویزا سے متعلق مسائل کی وجہ سے ایک ساتھ انڈیا یا پاکستان نہیں جا سکتے۔ میں اپنے پورے خاندان کے ساتھ انڈیا اور پاکستان جانا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ یہ جلد ممکن ہو جائے گا۔’

اور ستم ظریفی یہ ہے کہ میر اور زویا اپنے اپنے وطن سے دور انڈیا اور پاکستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words