کانسٹیبل جمیل کلہوڑو: خیرپور سٹیشن پر ڈرامائی انداز میں ایک شخص کی جان بچانے والے پولیس کانٹسیبل جن سے عمران خان بھی مرعوب ہیں

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

رات کا وقت تھا پولیس کانسٹیبل جمیل احمد کلہوڑو کی ڈیوٹی خیرپور سٹیشن پر تھی اسی دوران خیرپور سے روھڑی جانے والی ٹرین رکی۔ یہ آٹھ محرم، منگل کا روز تھا اس لیے سٹیشن پر رش معمول سے کہیں زیادہ تھا۔

عزاداروں کی بڑی تعداد بھی اس وقت سٹیشن پر موجود تھی اور ٹرین میں جگہ نہ ہونے کے باعث کچھ دروازوں، تو کچھ ٹرین کی چھت پر چڑھ گئے۔ لیکن جب یہ ٹرین چلنا شروع ہوئی تو دروازے سے ایک عزادار پھسل کر ٹرین اور پلیٹ فارم کے تھلے کے درمیان پھنس گیا۔

ٹرین آہستہ رفتار پکڑ رہی تھی کہ اچانک کانسٹیبل جمیل احمد کلہوڑو کی نظر اس شخص پر پڑی اور وہ بغیر توقف کے دوڑتے ہوئے اس شخص کے پاس پہنچے اور اسے کھینچ کر باہر نکال لیا اور اس کی زندگی بچا لی۔

یہ کانسٹیبل جمیل کلہوڑو تھے اور ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان ڈرامائی لمحات کو ان کی دائیں جانب موجود ایک شخص فلم بند بھی کر رہا تھا۔

لیکن یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھی کانسٹیبل جمال کلہوڑو کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کی یہ ویڈیو وزیراعظم عمران خان تک پہنچ جائے گی جو نہ صرف ان کے اس عمل کو سراہیں گے بلکہ اگلے برس 23 مارچ کو پوری لگن سے اپنے فرائض سرانجام دینے پر انھیں اعزاز سے بھی نوازیں گے۔

عمران خان کی جانب سے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ‘یہ وہ مقام ہے جہاں فرض تقدیس سے ہمکنار ہوتا ہے۔ عوام الناس کی خدمت کے حوالے سے اس نوجوان سپاہی کی جانب سے دکھائی دینے والا عزم قابلِ تحسین ہے۔’

‘میں نے کچھ سوچا نہیں، بس دوڑ لگا دی’

کانسٹیبل جمیل کلہوڑو 2014 سے پولیس میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اس روز شام چھ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک میری ڈیوٹی ریلوے سٹیشن پر تھی۔’ یعنی تمام ٹرینیں گزرنے تک انھیں وہیں رکنا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ‘رات کے تقریباً ساڑھے دس بجے ہوں گے جب انھوں نے روھڑی جانے والی ٹرین سے مسافر کو گرتے دیکھا اور دوڑ لگاکر بچایا۔ ‘پولیس جوان ہوں بس جذبہ جاگ گیا، زندگی بچانے والی ذات تو خدا کی ہے، ہرگز ڈر نہیں لگا کہ مسافر کھینچ سکتا ہے میں بھی ٹرین کے نیچے آسکتا ہوں۔ میں نے کچھ سوچا نہیں بس دوڑ لگا دی۔’

خیرپور سندھ کا واحد ضلعہ ہے جہاں شیعہ آبادی کی اکثریت رہتی ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں قریبی اضلاع شکارپور اور جیکب آباد میں خودکش بم حملے بھی ہوچکے ہیں جبکہ خیرپور کے بعض علاقوں میں محرم کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ایام میں یہاں پولیس زیادہ چوکس ہوتی ہے۔

پولیس کانسٹیبل جمیل کلہوڑو نے بتایا کہ ‘خیرپور کے علاقے لقمان میں ایک بڑا ماتمی جلوس نکلتا ہے جس کے بعد عزادار رات کو ہی روھڑی جاتے ہیں جہاں نو محرم کو جلوس نکالا جاتا ہے، جس میں آس پاس کے دیگر اضلاع کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں۔’

https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1428394661618634756?s=20

انھوں نے بتایا کہ ‘اس مسافر کو معمولی سے خراشیں آئیں تھیں اور فوری طور پر اس کے دوست وہاں پہنچ گئے تھے اور اسے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ یہ بندہ تھوڑا خوفزدہ تھا میری اس سے کوئی بات نہیں ہوئی نہ انھوں نے کچھ کہا میں واپس آکر اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا۔’

جمیل کلہوڑو بتاتے ہیں کہ ‘اتنے میں کچھ نوجوان ان کے پاس آئے اور کہا کہ انھوں نے اس کی ویڈیو بنائی ہے تو میں تھوڑا گھبرا گیا کیونکہ پولیس کی حمایت میں تو کوئی ویڈیو نہیں بناتا۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس کے بعد انھوں نے مجھے یہ ویڈیو دکھائی اور میرا نمبر لے کر مجھے واٹس ایپ کر دی اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی ڈال دی، یہ کراچی کے لڑکے تھے جو محرم میں خیرپور آئے ہوئے تھے۔’

یہ بھی پڑھیے

پولیس کانسٹیبل سے پی ایچ ڈی بننے تک کا سفر

لاہور دھماکے میں زخمی ‘بہادر’ پولیس کانسٹیبل: ‘کسی نے ہسپتال پہنچانے کے لیے گاڑی نہیں روکی’

’خدشہ تھا کہ گھر والے پولیس کی نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھنے کا نہ کہہ دیں‘

اسلام آباد میں ڈکیتی کی واردات: ’ڈاکوؤں کو جانے دیتا تو سات گولیوں سے بچ جاتا جو مجھے قبول نہیں تھا‘

ویڈیو بنانے والے ہارون

ویڈیو بنانے والے دراصل محمد ہارون تھے جنھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے عام طور پر موبائل سے ویڈیوز بنانے کا شوق ہے۔ اس وقت میں خیرپور اسٹیشن پر موجود تھے اور پولیس اہلکار کے بالکل پیچھے کھڑا تھا اور پولیس اہلکار بھی لاعلم تھا کہ میں ویڈیو بنا رہا ہوں۔

‘جیسے ہی مسافر گرا پولیس اہلکار نے دوڑ لگائی اور موبائل کیمرہ سے اس کو فالو کرکے زوم کیا اور اس پورے منظر کو فلم بند کرلیا۔’

ہارون کے مطابق ‘مسافر بے ہوش تھا اس کو لوگ ریلوے کے کمرے میں لے گئے جبکہ ٹرین رکی نہیں کیونکہ اس پر بہت ہجوم تھا وہ چلتی گئی۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘میں نے ویڈیو اس پولیس اہلکار کے ساتھ بھی شیئر کی اور ٹوئٹر، فیس بک اور واٹس ایپ پر بھی شائع کر دی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنی وائرل ہو جائے گی میں تو یہ چاہتا تھا کہ اس پولیس اہلکار کو شاباش ملے، ویسے بھی دنیا میں واقعات تو کئی ہوتے ہیں لیکن مقبول تو وہ ہوتے ہیں جن کو برقوت کیپچر کیا جاتا ہے یقیناً اگر میرا موبائل اس کو ریکارڈ نہیں کرتا تو یہ ویڈیو وائرل نہ ہوتی اور پولیس اہلکار کو شاباش نہیں ملتی، اصل ہیرو وہی پولیس اہلکار ہی ہے۔’

‘یہ سب خواب جیسا لگ رہا ہے’

جمیل احمد ان دنوں پولیس کے ہیرو ہیں وہ بتاتے ہیں کہ انھیں یہ سب کچھ خواب جیسا ہی لگ رہا ہے۔

‘دوستوں اور ایس ایس پی کے پی آر او نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے شاباش دی ہے۔ اس کے علاوہ جو پولیس کے ساتھی ہیں وہ انھیں جانتے ہوں یا نہیں فون کر کے اور ملاقات کر کے گلے لگا رہے ہیں ہر طرف تعریف ہی تعریف سننے کو مل رہی ہے۔

‘ایسا کم ہوتا ہے کیونکہ پولیس اہلکاروں کو کم ہی شاباش ملتی ہے، اس لیے انہیں خوشی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پولیس جوانوں کی ہمت کو سراہا ہے۔’

آئی جی سندھ مشتاق مہر نے پولیس کانسٹیبل جمیل کلہوڑو کو ہمت پر انھیں داد دی ہے جبکہ ایس ایس پی خیرپور ملک ظفر اقبال کے مطابق انھوں نے جمیل احمد کو اپنی طرف سے انعام دیا ہے اور مزید انعام کے لیے حکام بالا سے سفارش کی ہے۔

’بہت اچھا اقدام ہے لیکن اللہ نہ کرے کوئی سانحہ بھی ہو سکتا تھا‘

سوشل میڈیا پر جب عمران خان کی جانب سے یہ ویڈیو شیئر کی گئی تو جہاں پولیس کانٹسیبل کی تعریف کی گئی وہیں لوگ ٹرین کی چھت پر سوار افراد کو دیکھ کر خاصے حیران بھی ہوئے اور وزیرِ اعظم سے وزیرِ ریلوے سے جواب طلبی کا کہنے لگے۔

ایک صارف نبیل چوہدری نے لکھا کہ ’ماشا اللہ زبردست ایک شخص کی جان بچانا انسانیت کو بچانا ھے اس پولیس آفیسر کو میری طرف سے بھی سلام۔ دوسری طرف میں بنیادی طور پر سمجھتا ہوں کہ وزیر ریلوے کو جوابدہ ھونا ہو گا کہ ٹرین اوور لوڈ تھی جو بھی مجبوری ہو یہ غیر قانونی اقدام کیسے ہوا، اللہ نہ کرے کوئی سانحہ بھی ہو سکتا تھا۔‘

میاں شمس الحق نامی ایک صارف نے بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’بحیثیت وزیراعظم آپ کے لیے شرم کا مقام ہے کہ تین سال گزر گئے لیکن ریلوے کا نظام بہتر کرنے کی بجائے بدتر ہو گیا اور لوگ چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ پولیس والے کے جذبے کو سلام لیکن آپ نے آج تک کیا کیا ہے ریلوے کی بہتری کے لیے؟‘

ایک صارف زیشان سرکار کی جانب سے عمران خان کے پولیس کانسٹیبل کو اعزاز سے نوازنے کے فیصلے کو سراہا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی شخص آپ کو خواب دیکھنے کا حوصلہ دیتا ہے، آپ کو متاثر کرتا ہے، اور محنت کرنے کی طرف راغب کرتا ہے تو یقیناً وہ ایک بڑا لیڈر ہے۔‘

اکثر افراد نے پولیس کانٹسیبل کی تعریف کی اور انھیں ’جینٹلمین‘ کہتے دکھائی دیے اور ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس پولیس اہلکار پر فخر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words