گوادر میں چینی قافلے پر خودکش حملہ: وزارت داخلہ

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

گوادر
AFP
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بم کے ایک دھماکے میں کم از کم دو بچے ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ جمعہ کو ہونے والے اس دھماکے میں چینی انجینیئروں اور کارکنوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا ۔

وزارت داخلہ پاکستان کے ایک بیان کے مطابق یہ خود کش حملہ تھا جس میں ایک چینی شہری زخمی ہوا۔

دھماکہ گوادر کے کس علاقے میں ہوا؟

گوادر میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ نگوری وارڈ کے علاقے میں زیر تعمیر ایکسپریس وے پر ہوا۔ گوادر کے مشرقی ساحل پر یہ روڈ گزشتہ تین سال سے زیرتعمیر ہے ۔

وزارت داخلہ پاکستان کی ایک پریس ریلیز کے مطابق جمعہ کی شام تین گاڑیوں میں چینی شہریوں کو فوج اور پولیس کی نگرانی میں لے جایا جارہا تھا۔

جب چینی شہریوں کا قافلہ ایسٹ بے ایکسپریس وے پر ماہی گیروں کی کالونی کے قریب پہنچا تو وہاں سے ایک نوجوان لڑکا نکلااور چینی شہریوں کی گاڑیوں کو ہدف بنانے کے لیے بھاگا۔

اس موقع پر سادی کپڑوں میں ملبوس فوج کے اہلکار حملہ آور کو روکنے کے لیے بڑھے تو حملہ آور نے اپنے آپ کو قافلے سے 15سے 20میٹر کے فاصلے پر اڑا دیا ۔

محکمہ داخلہ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ایک چینی شہری بھی زخمی ہوا۔ انھیں گوادر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے پاکستان اور چین اپنے ممالک کے عوام کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کررہے ہیں اور دونوں ممالک اس باہمی تعاون کو خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ان خطرات کے پیش نظر حکومت پاکستان پہلے چینی بھائیوں کی تحفظ کے اقدامات پر جامع نظرثانی کررہی ہے اور ترقی کے سفر میں پاکستان میں قیام کے دوران ان کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت چینی بھائیوں کو ان خطرات سے جامع طور پر نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی یقین دہانی کراتی ہے ۔

بیان میں معصوم پاکستانی بچوں کی ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے دونوں ممالک اپنی دوستی اور تعاون کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اکھٹے کھڑے ہیں۔

اس دھماکے حوالے سے جائے وقوعہ کی جو تصاویر سوشل میڈیا آئیں اس میں انسانی اعضاءبکھرے ہوئے پڑے ہیں ۔

ٹویئٹر پر اس خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

گوادر میں چینی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود

ضلع گوادر میں چینی کارکنوں کی آمد کا سلسلہ سابق صدر پرویز مشرف کے دورمیں اس وقت شروع ہوا جب گوادر پورٹ کی تعمیرکا ٹھیکہ ایک چینی کمپنی کو دیا گیا۔

پورٹ کی تعمیر کے بعد نہ صرف پورٹ کو چلانے کے لیے ایک چینی کمپنی کے حوالے کیا گیا بلکہ سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے بھی چینی کارکن گوادر آئے۔

چینی کارکنوں کو ماضی میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

مارچ 2004ء میں ایک بم حملے میں گوادر میں تین انجنیئر ہلاک ہوئے تھے۔

گوادر کے علاوہ کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ کے علاقے حب اوربلوچستان کے بعض دیگر علاقوں میں بھی چینی کارکنوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

گوادر انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

اس ڈویژن کے دو دیگر اضلاع کیچ اور پنجگور سمیت بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں بھی بم حملوں اور بد امنی کے دیگر واقعات پیش آرہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words