مینارِ پاکستان کیس کی تحقیقات جاری، ایک اور خاتون کو سرعام ہراساں کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو لاہور

خاتون
Science Photo Library
پاکستان میں صرف چند روز کے اندر خواتین کو ہراساں کرنے کی دوسری ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک نوجوان کو رکشہ میں سوار خواتین کو ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ حال ہی میں 14 اگست کو جشنِ آزادی کے دوران کی ہے اور صوبہ پنجاب کے شہر لاہور ہی سے ہے۔

پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل انعام غنی نے لاہور پولیس کے سربراہ سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کو ’واقعہ کی تحقیقات کر کے سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزم کو پکڑنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔‘

لاہور پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس ویڈیو کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ یہ واقعہ کہاں اور کب پیش آیا تھا۔‘

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک رکشہ پر ایک بچے سمیت دو خواتین سوار ہیں اور ایک نوجوان رکشے پر چھلانگ لگا کر ایک خاتون کا بوسہ لینے کی کوشش کرتا ہے اور بھاگ جاتا ہے تاہم نوجوان کا چہرہ واضح طور پر نظر نہیں آتا۔

دوسری جانب چند ہی روز قبل سامنے آنے والے واقعے، جس میں مینارِ پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ویڈیو بناتی ہوئی خاتون کو ایک ہجوم کی طرف سے ہراساں کیا گیا تھا، لاہور پولیس نے تاحال ایک سو سے زائد افراد کو شک کی بنا پر حراست میں لیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق ’ان میں سے 22 کے لگ بھگ افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ وہ افراد تھے جن کے بارے میں نادرا کے ریکارڈ اور دیگر تحقیقات کے ذریعے واقعے میں ملوث ہونے کے حوالے سے تصدیق کی گئی۔‘

پولیس نے مدعیہ لڑکی کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں دفعہ 342 کا اضافہ کر دیا ہے جس کے مطابق ملزمان نے مدعیہ کو حبسِ بے جا یا غیر قانونی حراست میں رکھا تھا۔

مینار پاکستان

Getty Images

متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟

پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایف آئی آر میں اس نئی دفعہ کا اضافہ متاثرہ خاتون کے میڈیکل کی رپورٹ آنے کے بعد کیا گیا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں بظاہر کوئی جسمانی ایضا یا زخم کے شواہد سامنے نہیں آئے۔‘

’ان کے جسم کے کچھ حصوں پر معمولی خراشیں پائی گئیں تھین لیکن کوئی زخم وغیرہ کے نشانات نہیں ملے۔ اس لیے پولیس نے ایف آئی آر میں دفعہ 342 کا اضافہ کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہجوم میں شامل افراد نے انھیں ناجائز طریقے سے حراست میں رکھا یا ان کی سانس دبانے کی کوشش کی گئی۔‘

’ہجوم نے خاتون کے ساتھ دست درازی کی‘

پولیس نے جمعے کے روز متاثرہ خاتون کو گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروانے کی غرض سے طلب کیا تھا۔ پولیس کے اہلکار کے مطابق اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد وہ واپس چلی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی طرف سے انھیں اپنی حفاظتی تحویل میں لینے یا سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے سامنے آنے والی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔

پولیس کی تحقیقات کے حوالے سے علم رکھنے والے ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ تاحال تحقیقات کی روشنی میں جو حقائق سامنے آئے ہیں، ان سے بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ ’ہجوم میں شامل افراد نے خاتون کے ساتھ دانستاً دست درازی کی اور انھیں ہراساں کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتوں اپنے ساتھی کے ہمراہ مینار پاکستان کے پاس کھڑی ویڈیو بنا رہی تھیں جب قریب موجود مرد ان کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

خواتین محفوظ نہیں کیونکہ ’مرد سمجھتے ہیں کہ سڑکیں ان کی جاگیر ہیں‘

’دس برس پرانی ویڈیو وائرل ہونے سے شادی شدہ زندگی داؤ پر لگ گئی‘

’ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خواتین آسان ہدف بن جاتی ہیں‘

’جوں جوں ہجوم بڑھتا گیا تو ان کے ارد گرد کھڑے لوگ ان کے قریب ہوتے گئے اور ایک موقع پر چند افراد نے انھیں ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ دیکھا دیکھی ہجوم میں شامل مزید لوگ بھی خاتون کو ہراساں کرنے میں شریک ہوتے گئے۔‘

تاحال یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ متاثرہ خاتون نے پولیس کو کال کی اور اگر کی تو پولیس کتنی دیر میں ان کی مدد کو پہنچی؟

کیا پولیس وقت پر پہنچی؟

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے خاتوں کے بیانات کے مطابق ’پولیس کو کال کرنے کے باوجود پولیس نے وقت پر وہاں پہنچ کر ان کی مدد نہیں کی۔‘

انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گریٹر اقبال پارک کے سکیورٹی پر مامور افراد نے بھی بروقت ان کی مدد نہیں کی تھی۔

ایسے الزامات کے حوالے سے جمعہ کے روز وزیرِاعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے مینارِ پاکستان واقعے پر پنجاب پولیس سے جامع رپورٹ طلب کی تھی جس کے بعد وزیرِاعلٰی کی صدارت میں ایک اجلاس بھی ہوا۔

وزیرِاعلی آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اجلاس کے دوران وزیرِاعلٰی پنجاب نے ’اس واقعے کے حوالے سے پولیس کے ردِعمل میں تاخیر اور فرائض سے غفلت برتنے پر برہمی کا اظہار کیا‘ اور ڈی آئی جی آپریشنز سمیت کئی پولیس افسران کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔

’وزیرِاعلٰی پنجاب نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ساجد کیانی کو او ایس ڈی بنانے کے احکامات جاری کیے جبکہ ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی سٹی کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ ان کے علاقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او تھانہ لاری اڈا کو بھی معطل کر دیا گیا۔‘

پولیس کے ردِعمل میں مبینہ تاخیر کی تحقیقات کہاں پہنچیں؟

یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس انعام غنی نے اس سے قبل پولیس کی طرف سے مبینہ غفلت برتنے کے حوالے سے تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی ٹیم 18 تاریخ کو تشکیل دی تھی جس نے یہ پتہ لگانا تھا کہ پولیس کی طرف سے ردِعمل میں تاخیر کی گئی تھی یا نہیں۔

پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس ٹیم نے تاحال باضابطہ طور پر تحقیقات میں زیادہ پیشرفت نہیں کی۔

’جس روز ٹیم تشکیل دی گئی اس کے اگلے روز عام تعطیل تھی جس کی وجہ سے تحقیقات شروع نہیں کی جا سکیں تاہم جمعہ کے روز واقعے کے حوالے سے تمام ریکارڈ طلب کر لیا گیا اور اگلے دو سے تین روز میں تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ مکمل کر لے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ نہیں معلوم کہ وزیرِاعلٰی پنجاب کی جانب سے پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹانے کے حوالے سے ایکشن کس رپورٹ کی روشنی میں لیا گیا۔

’میڈیا تحقیقاتی افسران سے رابطہ نہ کرے‘

بی بی سی نے تحقیقات کرنے والے افسران سے رابطے کی کوشش کی تاہم ان میں سے چند افسران نے بات کرنے سے معذرت کر لی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے میڈیا سے بات کرنے سے روکا گیا ہے۔

اس حوالے سے آئی جی پنجاب انعام غنی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام بھی چھوڑا، جس میں ’میڈیا کے نمائندوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تحقیقات کرنے والے پولیس افسران سے رابطہ نہ کریں کیونکہ وہ قانونی طور پر زیرِتفتیش معاملات پر بات کرنے کے اہل نہیں۔‘

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ’اس طرح تحقیقات کی شفافیت متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔‘

پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس کو دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تعاون بھی حاصل تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words