افغانستان پر طالبان کا قبضہ: کیا پنجشیر وادی طالبان کی پیش رفت کا مقابلہ کر سکے گی؟

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال میں پنجشیر وادی طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حملہ آور ہوئے تو وہاں جمع ہونے والے جنگجو مقابلہ کریں گے۔

کابل کے شمال میں ہندوکش کی بلند چوٹیوں میں گھری ہوئی پنجشیر وادی ایک طویل عرصے سے مزاحمت کے مرکز کے طور پر جانی جاتی رہی ہے۔

سنہ 2001 میں اپنی موت تک افغان رہنما احمد شاہ مسعود نے سوویت افغان جنگ اور طالبان کے ساتھ خانہ جنگی کے دوران اس کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔ یہ ملک کا واحد حصہ ہے جس کی طالبان کے کنٹرول سے باہر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ملک کے باقی حصوں پر طالبان تیزی سے قبضہ کر چکے ہیں۔

کابل سے قریب تین گھنٹے کی مسافت پر صوبہ پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے جانا جاتا ہے۔ سنہ 1996 سے 2001 تک طالبان کے دور میں بھی یہ صوبہ اُن کے کنٹرول میں نہیں رہا تھا۔ وہاں شمالی اتحاد (ناردرن الائنس) نے طالبان کا مقابلہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ احمد شاہ مسعود کو گیارہ ستمبر سے دو دن پہلے القاعدہ کے دو خودکش حملہ آوروں نے ہلاک کیا تھا۔ ابھی تک ہر سال شمالی اتحاد اور احمد شاہ مسعود کے ماننے والے اُن کی برسی پر پورے کابل شہر کو بند کرتے رہے ہیں۔

ملک کے نائب صدر امراللہ صالح، جن کا پچھلی دو دہائیوں کے دوران مغربی حمایت یافتہ حکومتوں کی جوڑ توڑ میں اہم کردار تھا اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود دونوں نے اس علاقے میں پناہ لی ہے اور طالبان کے خلاف بغاوت کی اپیل کی ہے۔

کابل میں ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد منگل کو افغان طالبان ترجمان نے اپنی پہلی آن سکرین پریس کانفرنس میں عام معافی، خواتین کے حقوق اور نئی حکومت سازی پر بات کی تھی۔

لیکن اس پریس کانفرنس سے کچھ ہی دیر قبل افغان صدر اشرف غنی کے نائب امراللہ صالح نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان کے آئین کے مطابق صدر کی غیر موجودگی، استعفے یا موت کی صورت میں نائب صدر ملک کا نگراں صدر بن جاتا ہے۔

احمد مسعود نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ’میں آج وادی پنجشیر سے یہ تحریر کر رہا ہوں۔ اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کے لیے تیار ہوں، مجاہدین جنگجو ایک بار پھر طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے فرانسیسی جریدے کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبان کے خلاف ’جنگ لڑنے کا اعلان‘ بھی کیا ہے۔

امراللہ صالح جو پہلے افغانستان کی اس انٹیلیجنس سروس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، نے کہا کہ وہ ’کبھی بھی طالبان کے ساتھ ایک چھت کے نیچے نہیں‘ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

امراللہ صالح، احمد مسعود کا مزاحمت کا اعلان: کیا افغانستان میں جنگ واقعی ختم ہو چکی؟

افغان مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود کا بیٹا والد کی طرح طالبان سے مقابلے کے لیے تیار

پاکستان آنے والے افغان پناہ گزین: ’جن سے جان بچا کر بھاگ رہے ہیں وہ سرحد پر کھڑے ہیں‘

لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں پنجشیر کبھی بھی طالبان کے لیے ایک سنگین خطرہ نہیں بن سکتا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پیرس کی سوربون یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے افغان امور کے ماہر گیلس ڈورونسورو نے کہا کہ ’فی الحال مزاحمت صرف زبانی ہے کیونکہ طالبان نے ابھی تک پنجشیر میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’طالبان کو صرف پنجشیر کا محاصرہ کرنے کی ضرورت ہے، انھیں وہاں جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔‘

سویڈن میں مقیم ایک محقق عبدالسعید نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ احمد مسعود کی مزاحمت کے بارے میں اُن کی طرح پرامید نہیں۔

پنجشیر

Getty Images

انھوں نے کہا کہ ’طالبان چاروں طرف سے پنجشیر کو گھیرے ہوئے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ احمد شاہ مسعود کا بیٹا ایک دو مہینوں سے زیادہ مزاحمت کر سکتا ہے۔ فی الوقت انھیں کوئی مضبوط حمایت حاصل نہیں۔‘

ایک فرانسیسی جو 1990 کی دہائی کے آخر میں احمد مسعود کے والد کے ساتھ پنجشیر میں لڑے تھے، اُنھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ احمد مسعود کئی مہینوں سے تیاری کر رہے تھے اور انھوں نے نوجوان، گاڑیاں، ہیلی کاپٹر اور گولہ بارود اکٹھا کیا تھا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اس شخص نے مزید کہا کہ ’ان کے پاس ذرائع ہیں جو وہ دکھا سکیں‘ اور خود کو وادی میں محصور کر لیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

گو کہ احمد مسعود اور امر اللہ صالح طالبان کے خلاف دشمنی میں ایک ہیں مگر اُن کے پس منظر بہت مختلف ہیں۔

احمد مسعود نے برسوں برطانیہ اور ایران میں جلاوطنی کی زندگی گزاری، وہ آج بھی اپنے والد کے نام کے سائے میں رہتے ہیں اور ان کا سیاسی اثرو رسوخ زیادہ نہیں۔

اشرف غنی کے ملک چھوڑ جانے کے بعد خود کو صدر قرار دینے والے امر اللہ صالح برسوں افغانستان میں برسراقتدار رہے ہیں اور ملک کی سیاست میں کافی متحرک رہے ہیں۔

افغان امور کے ماہر گیلس ڈورونسورو اے ایف پی کو بتایا کہ ’شروع سے ہی دونوں کے درمیان تناؤ رہا ہے۔ احمد مسعود کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں اور انھیں سوائے پنجشیر کے افغانستان میں مضبوط حمایت حاصل نہیں۔‘

ڈورنسورو نے کہا کہ ممتاز سیاسی شخصیات اور وسیع تر سیاسی منظر نامے میں جو لوگ ممکنہ طور پر طالبان کی حکمرانی کی مخالفت کریں گے ان میں ایک اہم موضوع بحث یہ ہے کہ آیا طالبان کے ساتھ بات چیت کی جائے یا ’ایک حقیقی مسلح مزاحمت‘ شروع کی جائے۔

احمد مسعود نے مارچ میں پیرس کا دورہ کیا تھا اور اپنے والد کے نام سے ایک گزرگاہ کے افتتاح میں شرکت کے لیے ایک سفر کے دوران صدر ایمانوئل میخوان سے ملاقات بھی کی تھی۔

انھوں نے اُس موقع پر ان مذاکرات پر طنز کیا تھا جو اس وقت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہو رہے تھے۔ انھوں نے اس وقت اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی گروہ طاقت کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے تو ’ہم اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ہم ان کے خلاف اسی طرح لڑیں گے جیسے ہمارے باپ دادا لڑتے تھے۔‘

سابق فرانسیسی جنگجو نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پنجشیر، جہاں لوگ زیادہ تر پشتون کے بجائے فارسی بولتے ہیں، کی روایتی طور پر اقتدار کی راہداریوں میں نمائندگی سابق وزیر اعظم عبداللہ عبداللہ کرتے ہیں۔

وہ کابل میں رہتے ہیں اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جیسا سابق صدر حامد کرزئی نے کیا۔

ادھر احمد مسعود کے ماموں پاکستان سے رابطے میں ہیں۔

فرانسیسی جنگجو نے کہا کہ ’یہ ممکن ہے کہ یہ مزاحمت کابل میں مذاکرات کو متاثر کرنے کا ایک طریقہ ہو تاکہ پنجشیریوں کے مفادات کا دفاع کیا جائے۔‘

انھوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے ’ایک دن، عبداللہ عبداللہ یا اُن کے خاندان سے احمد مسعود کو فون آئے اور کہا جائے کہ سب اچھا ہے، اب آپ رک سکتے ہیں، ایک اچھا معاہدہ ہو گیا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words