خواتین کے ساتھ دست درازی کے واقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مینار پاکستان پر ہوئے واقعہ پر بہت سے لوگ لڑکی کو برا کہہ رہے ہیں۔ اسی کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ درست فرما رہے ہوں گے کہ اس کے کپڑوں اور حرکات نے لوگوں کو مشتعل کر دیا۔ وہ انسان ہیں روبوٹ تو نہیں کہ اتنی خوبصورت لڑکی انہیں تحریک دے اور وہ مشتعل نہ ہوں۔ کچھ لوگوں کی نظر میں تو یہ لوگ معصوم ہیں۔ لہٰذا وہ بھیڑیوں کا گروپ تو بے قصور ہے اصل غلطی تو بھیڑ کی ہے۔ بھیڑ نے بھاں بھاں کیوں کی کہ بھیڑیے اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ آخر بھیڑیے تو اپنی بھوک سے مجبور تھے۔ انہوں نے تو اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرنی ہی تھی۔ گھر میں بے شک من و سلویٰ پڑا ہو وہ ان کے کس کام کا۔

یہ تو بات تھی اس لڑکی کے غیر مناسب رویے کی مگر ہماری قوم کے لوگوں کو بھوک زیادہ لگتی ہے۔ جب خواتین بسوں میں سفر کرتی ہیں تو یہ اس کے جسم کے کسی نہ کسی حصے کو ہاتھ لگانا اپنا فرض اول سمجھتے ہیں۔ یہ فرض انفرادی طور پر ادا کیا جاتا ہے۔ مگر جب یہ کام اجتماعی طور پر ہونے لگے تو اس کی شکل بھیانک سے بھیانک ہوتی جاتی ہے۔ یہ آج کی بات نہیں ہے میں اسی کی دہائی میں بس میں سفر کرتا تھا۔ اس وقت بسوں کے اگلے دروازوں پر ہمارے مستقبل کے معمار چپکے ہوتے تھے اور کوئی سوار ہوتی خاتون ان کی دسترس سے محفوظ نہ تھی۔

اب میں اس بات کی طرف آتا ہوں کہ لوگ ایسے واقعات میں بچاؤ کے لیے کیوں نہیں آتے۔ اگر کوئی شریف آدمی انہیں روکنے کی کوشش کرتا تو اس جتھے کے ہاتھوں پٹ جاتا تھا۔ دوسری بات ہمارے قانون کی بے حسی اور شریف آدمیوں کے ساتھ قانون کا غلط رویہ۔ مجھے ایک بات یاد آ گئی۔

یہ سنہ اسی کی دہائی کا ہی ذکر ہے جب اسلام پوری طرح ملک میں نافذ تھا۔ بسوں میں طوفان بد تمیزی کو دیکھتے ہوئے لاہور سمن آباد کے کچھ لڑکوں نے ایک گروپ بنایا۔ وہ گروپ سمن آباد سے گزرنے والی بسوں کے اگلے دروازوں سے لٹکنے والے لڑکوں کی خیر خبر لینے لگا اور ان کی ڈنڈوں سے اچھی خاصی دھنائی ہونے لگی۔ اب سمن آباد سے گزرنے والی بسوں میں خواتین کا دروازہ خالی ہوتا تھا۔ مگر ہمارے اس وقت کے ارباب اختیار کو اپنے مستقبل کے معماروں کا بہت خیال تھا۔ انہوں نے سمن آباد میں پولیس تعینات کردی کہ آئندہ یہ لوگ مستقبل کے (معصوم ) معماروں پر ظلم نہ کر سکیں۔ اس طرح (معصوم) لوگوں کو صرف دو ہفتے میں انصاف مل گیا۔ وہ پولیس جو ان معصوموں کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئی وہ خواتین کی حفاظت کے لیے نہیں کی جا سکتی تھی۔ کیونکہ پولیس کی نفری کم تھی۔

ایک واقعہ بارہ ربیع الاول کا ہے۔ ایک عقلمند آدمی اپنی ماں، بہن اور بیوی کو لے کر اس مبارک دن پہاڑیاں اور ماڈل دکھانے کے لیے بازار لے آیا۔ اس کی ماں، بہن اور بیوی نے اتنی خوبصورتی شاید پہلی دفعہ دیکھی تھی وہ بہت خوش تھیں۔ ہر چیز کو دیکھنے میں منہمک تھیں۔ ان کے لیے ہر ماڈل قابل دید اور نرالا تھا۔ ایک پیڈسٹل فین کے پر اور جالی اتار کر اس کے گول لٹو کے گرد روئی لپیٹ کر ایک انسانی سر کی شکل دی گئی تھی۔ اس کے ارد گرد کپڑے باندھ کر اسے ایک مکمل انسانی جسم بنایا گیا تھا۔ جب پیڈسٹل فین کو چلایا جاتا تو ایسے لگتا تھا کہ کوئی بابا جی اپنا سر دائیں بائیں گھما رہے ہیں۔ ان کے آگے ایک چادر بندھی تھی جس میں لوگ حسب توفیق پیسے ڈال رہے تھے۔

بابا جی کا سر دائیں بائیں ہلتے دیکھ کر اس نوجوان کی بہن کو ہنسی آ گئی۔ اسے کیا پتہ تھا کہ یہ ہنسی (معصوم ) لوگوں کو مشتعل کرتی ہے۔ اسی وقت لوگوں (معصوموں ) کا ایک گروہ نعرے لگاتا اور شور مچاتا وہاں سے گزر رہا تھا۔ ان نعروں اور لاؤڈ سپیکروں پر لگی نعتوں کے شور میں بھی لڑکی کی ہنسی انہیں ”مشتعل“ کر گئی۔ انہوں نے ایک منظم شکل میں درمیان میں گھستے ہوئے بڑی خوبصورتی سے اس لڑکے اور اس کی ماں کو ان دو جوان خواتین سے الگ کیا۔

وہ دونوں اس بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھ کر انہیں بچانے کی کوشش کرتے رہے مگر ناکام رہے۔ بڑی معصومیت سے ان نوجوان خواتین کے برقعے اور کپڑے تار تار کیے گئے۔ اسی معصومانہ کارروائی میں ان دونوں خواتین کے چہرے اور جسم جگہ جگہ سے خون آلود ہو گئے۔ اب اس میں بھی ان لوگوں کی کوئی غلطی نہ تھی۔ کیونکہ وہ انسان تھے روبوٹ تو نہیں تھے کہ ان کے جذبات مشتعل نہ ہوتے۔ اگرچہ ان خواتین نے مشتعل کرنے والا لباس نہ پہنا تھا۔ مگر ان کی آواز ان کی عمر اور ہنسی نے تو مشتعل کیا تھا۔ اس سارے واقعے میں جو تین چار پولیس والے وہاں کھڑے تھے انہوں نے بھی صرف تماشائی کا رول ادا کیا۔

اب اس ساری بات کا یک ہی حل ہے کہ تمام خواتین اور بچوں کو مار دیا جائے۔ دنیا میں صرف بالغ مرد ہی مرد ہوں۔ نہ ہوں گی خواتین نہ ہی بچے بس صرف مرد ہوں جو ایک دوسرے کو دیکھ کر مشتعل نہ ہوں گے۔ اگر پھر بھی چند ایک مولوی عبدالعزیز جیسے لوگ ہوں جو مردوں کو دیکھ کر بھی مشتعل ہو جاتے ہوں تو اس کا فیصلہ مستقبل پر چھوڑ دیا جائے۔ ٍ


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments