گرمیوں میں اپنے پیروں کی دیکھ بھال، جوتوں کا انتخاب کیسے کریں

Pies de un niño
Getty Images
موسم گرما کی آمد کے بعد ہر گھر میں خواتین جو پہلا کام کرتی نظر آتی ہیں وہ ہے سردیوں کے کپڑے صندوقوں میں رکھنا اور وہاں بند گرمیوں کے کپڑے اور جوتے باہر نکالنا ہے۔

کپڑے تو شاید ہم پھر بھی موسم کی مناسبت سے منتخب کر لیتے ہیں لیکن کئی بار ہمارا انتخاب ہمارے پیروں کے لیے بہترین نہیں ہوتا ہے۔ ہم کبھی ہوائی چپل پہن لیتے ہیں اور کبھی ننگے پاؤں چلتے ہیں یا انتہائی خوبصورت لیکن کم آرام دہ سینڈل پہن لیتے ہیں، اور ہمیں اس کے نتائج کی خبر نہیں ہوتی۔

کئی موقعوں پر تو ہم اپنی سرگرمیوں کے مطابق جوتوں کا انتخاب نہیں کر سکتے ہیں، ہمیں زیادہ فکر یہ ہوتی ہے ہم کیسے لگ رہے ہیں۔

آخر میں، یہ پتا چلتا ہے کہ ہم اپنے پیروں کی حفاظت کے بجائے سال کے دوسرے اوقات کے مقابلے میں انھیں زیادہ بے نقاب کرتے ہیں۔ خاص طور پر چونکہ پسینہ، نمی، ریت اور نمک، انفیکشنوں اور زخموں کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے جس سے بچنا اور بچانا ضروری ہے۔

لیکن کیا ہم گرمیوں میں اپنے پیروں کی دیکھ بھال کرنے کا طریقہ جانتے ہیں؟

Pies de mujer

Getty Images

کھلے یا بند جوتے؟

آئیے گرمیوں میں موزوں ترین قسم کے جوتوں کا تجزیہ کرتے ہیں۔

ایک طرف، وہ جوتے جو ہلکے ہوں لیکن پاؤں کو بے نقاب نہیں کرتے، جیسے ایس پیڈریل، لوفرز، سنیکرز اور بالریناس۔

دوسری طرف کھلے جوتے جیسے سینڈل، ہوائی چپل، کلوز اور سینڈل۔ یہ جوتے ہوادار ہیں اور پسینے کو روکتے ہیں۔ لیکن ان کا استعمال ہمارے پیروں کی خصوصیات پر منحصر ہے، زیادہ مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ان کے استعمال کا مشورہ زیادہ نہیں دیا جاتا، ایسی صورت میں ان کا استعمال محدود ہوتا ہے۔

انھیں عام طور پر زیادہ درجہ حرارت اور ان میں ہمارے پاؤں نمایاں ہونے کی وجہ سے ایڑھیوں میں دراڑوں اور مسوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

Tipos de zapatos

Getty Images

اگر اس کے علاوہ، پیروں میں کوئی تکلیف رہتی ہے تو جوتے کا انتخاب اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس صورت میں جوتے کی چوڑائی پر غور کرنا ضروری ہے۔

موسم گرما میں بہترین جوتے کا انتخاب کرتے وقت ہمیں مستقبل میں ممکنہ طور پر لگنے والی چوٹوں سے اس کے بچاؤ کی خصوصیات پر نگاہ رکھنا ضروری ہے۔

  • پلاسٹک سے پرہیز کریں اور زیادہ قدرتی مواد کا انتخاب کریں تاکہ پسینہ نہ آئے اور یہ ہوا دار ہو۔
  • جوتے کے تلوے: پتلے چپٹے تلوؤں سے پاؤں کے نچلے حصے اور ٹانگ کے پچھلے حصے کے پٹھوں پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔ اس وجہ سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ سینڈل کی صورت میں اس کے تلوؤں کی موٹائی دو سے تین سینٹی میٹر ہونی چاہیے۔ جبکہ اس کی اونچی سول سے گرنے اور چلنے میں پریشانی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
  • جوتے کے بٹریس اگلے حصے اور ٹخنوں کے پاس پاؤں کو یکجا رکھتے ہیں اور چلتے ہوئے سہارا دیتے ہیں۔
  • جب بھی ممکن ہو، تسموں والے جوتے پہنیں
Chanclas

Getty Images

جہاں تک ہوائی چپل کے استعمال کی بات ہے پوڈیاٹریسٹس (پیروں کے امراض کے ماہر) اور فزیوتھیراپسٹ ان کے مستقل استعمال سے منع کرتے ہیں۔ چونکہ پاؤں کو میسر سہارے کی کمی کی وجہ سے وہ عدم استحکام پیدا کرتے ہیں جس سے موچ اور تناو پیدا ہوتا ہے۔ حتی کہ اچھے اور معیاری ہوں تب بھی۔

یہ عدم استحکام ان چپلوں سے زیادہ پیدا ہوتا ہے جنھیں پہننے کے لیے پاؤں کے انگوٹھے اور انگلی کے درمیان سے جکڑا جاتا ہے۔

دوسری طرف جب ہوائی چپل کے ساتھ چلتے ہیں (ہم چھوٹے قدم اٹھاتے ہیں) اور پاؤں کے اگلے حصے اور انگلیوں پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے اور انگلیوں پر چھالے بن جاتے ہیں اور مسئلہ زیادہ بڑھنے پر یہ پلاٹر فاشیا کا سبب بنتا ہے۔

یہ ہڈی کو ساتھ جوڑنے والی بافتوں کی سوجن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس بیماری سے متاثرہ افراد میں زیادہ دیر کھڑے رہنے پر درد کی شکایت سامنے آ سکتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کا مستقل استعمال ٹانگوں کے پٹھوں جیسے پنڈلیوں، ران اور ٹخنوں سے پیچھے کی طرف کا حصے کے کام کرنے کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم، فنگس کو روکنے کے لیے تیراکی کے تالابوں، جمز اور کپڑے بدلنے کے کمروں میں ہوائی چپل پہننا ضروری ہے۔

آج کل پیروں میں درد ہونے کی صورت میں آرتھوپیڈک ماہرین کے ڈیزاین کردہ تلوے استعمال کیے جاتے ہیں۔

Montañeros

Getty Images

یہ بھی پڑھیے

ایک دن میں کتنا پانی پینا چاہیے، کچھ حقیقتیں اور وہم

صرف چپس اور فرائز کھانے والے نوجوان کی بینائی چلی گئی

کیا آپ مناسب مقدار میں وٹامن ڈی لے رہے ہیں؟

پہاڑی راستے: پیدل سفر کرنے اور دوڑ لگانے والے

لمبی چہل قدمی کے لیے یا دوڑنے کے ہوائی چپلوں کے استعمال کا مشورہ نہیں دیا جاتا کیونکہ ان کے تلوے سیدھے ہوتے ہیں اور وہ نا پائیدار ہوتے ہیں۔

آج کل ہائیکنگ یا پیدل سفر کے لیے بھی ہوائی چپل موجود ہیں جس میں خصوصی پٹے لگے ہوتے ہیں جو ہیل اور چپل کے اندرونی حصے کو تھام لیتے ہیں، چلنے کے دوران استحکام دیتے ہیں اور وہ دوڑنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ دور لگاتے ہیں ہیں تو آپ کو ساحل سمندر پر دوڑنے کے اپنے معمول کے جوتوں کو پہننے کا اختیار مل جاتا ہے اگرچہ اس کو قدرے مضبوط علاقے یا پیدل چلنے کی گزر گاہ پر استمعال کرنا زیادہ مناسب ہے۔

ایک اور آپشن یہ ہے کہ آپ ننگے پاؤں آہستہ آہستہ دوڑیں۔

ہائکنرز اور رنرز میں عام طور پر آنے والے زخموں میں چھالے ہیں جو گرمی، نئے جوتے یا جوتے کا استعمال، غلط سائز یا پاؤں کی قسم (فلیٹ یا کیواس) اور یہاں تک کہ جراب کی بُنائی سے ہو جاتے ہیں۔

انھیں بننے سے روکنے کے لیے رات کے وقت جلد کو اچھی طرح ہائیڈریٹ کرنا ضروری ہے، اس کے علاوہ جوتے میں یا جراب کے اندر ٹیلکم پاؤڈر استعمال کریں۔ یہاں تک کہ آپ چھالوں کے زیادہ خطرہ والے حصوں پر پیٹرولیم جیلی یا ‘مصنوعی جلد’ لگا سکتے ہیں۔

Crema en los pies

Getty Images

ایک مناسب اندرونی ساخت والے جوتے اور تیکنیکی جرابیں جو پسینہ آنے کی صورت میں مدد گار ہوں ان چوٹوں کے آنے کو روک سکتی ہیں۔

تین یونیورسٹیز کے پوڈیایٹرسٹس ک مشترکہ تحقیق میں 315 زائرین کے پیروں کے چھالوں کا مشاہدہ کیا گیا۔

ان کے نتائج کے مطابق، چھالوں سے بچنے کے لیے تین چیزوں پر عمل کرنا ضروری ہے:

  • زیادہ پیدل چلنے کی صورت میں کم از کم ایک بار جرابوں کی تبدیلی۔
  • زائرین کے بیگ کا وزن ان کے اپنے وزن کے 14 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
  • یہ سفارش کی جاتی ہے کہ ہر پاؤں کی قسم کے مطابق ڈھالنے والے جوتوں کے اندرونی تلوے اور پاؤں کو سہارا دینے والے جوتے ہونے چاہیں
Peregrino haciendo el Camino de Santiago

Getty Images

زیادہ دیر تک چلنے کے باعث ظاہر ہونے والے مسائل میں سے ایک ناخن میں خون کا جمنا شامل ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب انگلیاں جوتوں کے سروں سے ٹکراتی ہیں کیونکہ جوتے کا سائز غلط ہوتا ہے۔

اسی لیے جوتوں میں پیروں کی زیادہ حرکت کو روکنے کے لیے صحیح ناپ کی سفارش کی جاتی ہے۔

جہاں تک فنگس کی بات ہے تو اگر آپ کو بہت زیادہ پسینہ آتا ہے تو پاؤں دھونے اور جرابیں بدلنے کے بعد ان پر اینٹی مائی کاٹکس لگائیں

Herida en el dedo del pie

Getty Images

موسم گرما میں پیروں کے مسائل کے لیے رہنما اصول

آخر میں چند ہدایات جن پر غور کرنا ضروری ہے:

  • غسل کے بعد یا سوئمنگ پول چھوڑتے وقت پاؤں اچھی طرح دھونے کے بعد انھیں مناسب طریقہ سے خشک کریں
  • جلنے سے بچنے کے لیے پیروں پر سن سکرین لگائیں۔
  • پیروں کی جلد کو روزانہ نمی پہنچائیں، رات کو موئسچرائز کریں، دراڑوں سے بچنے کے ایڑھوں پر دھیان دیں، اس کے لیے یوریا پر مبنی موئسچرائزر بہترین ہیں۔
  • چھوٹے ناخن، اچھی طرح سے کٹے ہوئے ہوں اور انیمال کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ناخن کو ہوا لگنے دیں۔
  • ذیابیطس کے مریضوں کے معاملے میں، جب پیروں میں احساس کم ہو جاتا ہیں تو ایسے زخموں سے بچنے کے لیے جو السر میں تبدیل ہو سکتے ہیں یہ بہت ضروری ہے کہ ان مریضوں کے پیروں کا معائنہ کروایا جائے۔
  • باقاعدگی سے پوڈیاسٹرسٹ کے پاس جانا فآئدہ مند ہے یا کم از کم موسم گرما کے جوتے پہننے سے پہلے۔
  • زیادہ سنگین زخموں موچ ، تناؤ کی صورت میں پوڈیاسٹرسٹ اور فزیو تھراپسٹ کو دکھائیں۔
  • موسم گرما کے موسم میں متبادل جوتوں کی موجودگی میں جوتوں کو ہوا لگنے اور اپنی پہلے حالت میں بحالی میں مدد ملتی ہے۔
  • جو لوگ ہائیکنگ کرتے ہیں ان کو پٹھوں کے کھچاؤ سے بچنے کے لیےکافی زیادہ پانی پینا چاہیے۔

یاد رہے کہ چوٹ سے بچنے کے لیے جوتوں کا صحیح سائز پہنا ناگزیر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words