فیمینیزم اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”فیمینیزم“ وہ لفظ جس کو سنتے ہی آدھے سے زائد پاکستانیوں کا خون کھول اٹھتا ہے، یہ وہ لفظ ہے جس کو ادا کرنے پر بھی لوگ سیخ پا ہو جاتے ہیں اور میرا ایسا ماننا ہے کہ لوگوں کا یہ رویہ بالکل جائز بھی ہے کیونکہ جس انداز میں ”فیمینیزم کا نظریہ“ پاکستان پیش کیا گیا اس سے ہماری جذباتی قوم کے ”حسب ضرورت“ جاگنے والے جذبات بھڑک اٹھے۔ بد قسمتی سے کچھ افراد نے مغرب کی اندھا دھند تقلید کرنے کے چکر میں ؛ فیمینیزم جیسی آئیڈیالوجی کو انتہائی منفی انداز سے پیش کیا ”کھانا گرم کر دوں گی، بستر خود گرم کرو، آج واقعی ماں بہن ایک ہو رہی ہے، تیرا باپ بھی آزادی دے گا“ جیسے نعروں نے اس نظریے کے حقیقی معنی کھو دیے اور رہی سہی کسر عورت مارچ نے پوری کر دی۔

ایک اور نعرہ بھی ہے جو اکثر زیر بحث رہتا ہے ”میرا جسم، میری مرضی“ جس سے اکثریت اتفاق نہیں کرتی، مگر میں کرتی ہوں۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ہر سال 21 فیصد بچیاں 18 سالہ ہونے پر بیاہی جاتی ہیں، بنا مرضی پوچھے، اسی طرح اوسطا 3 فیصد 15 برس کی ہونے سے قبل بیاہی جاتی ہیں۔ اور ہر 5000 میں سے 1000 عورت عزت کے نام پہ سالانہ قتل ہوتی ہے، روزانہ کی بنیاد پر 11 زیادتی واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں، کبھی بیٹا نہ پیدا کرنے کی پاداش میں اور کبھی اپنے بڑوں کے گناہوں کی سزا ملتی ہے ”عورت“ کو۔

اگر جسم عورت کا ہے تو مرضی بھی اس کی ہی ہونی چاہیے، پھر چاہے وہ باپ ہو، بھائی ہو، شوہر ہو یا بیٹا، اگر مجھے نہیں پسند کوئی مجھے چھوئے تو میرے انکار کو انکار سمجھا جائے ناکہ اپنی انا اور عزت کا مسئلہ، مجھے عزت کے نام پہ بھینٹ نی چڑھایا جائے۔ میں گھر سے باہر نکلوں تو مجھے خود پر گدھ جیسی نظر محسوس نہ ہو۔

چند روز قبل لاہور میں ایک واقعہ ہوا جس پر مختلف باتیں سننے کو مل رہی ہیں، بہت سے افراد اس عورت کو لعن طعن کر رہے ہیں کہ وہ لڑکی ٹک ٹاکر تھی اور یہ سب جان بوجھ کر کیا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہر بار اگر عورت غلط کیوں لگتی ہے ہمیں۔ میں کہتی ہوں اگر وہ برہنہ بھی ہوتی نہ اور وہاں کوئی ایک غیرت مند انسان ہوتا تو وہ اس کے سر پہ چادر ڈال لیتا یہ سوچ کر کہ وہ ایک عورت ہے جس کو جانوروں کا شکار بننے سے روکنا ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں اپنے گھر کی خواتین کے علاوہ باقی خواتین عزت دار نہیں نظر آتیں۔ کچھ حضرات نے تو فتوی بھی لگا دیا کہ ایسی عورتیں ایسے سلوک کی مستحق ہیں۔

ہمارا ایک اور المیہ ہے کہ ہم مذہب کو اپنی ضرورت کے حساب سے استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ میری بات پہ بولیں گے اکیلی عورت، بغیر محرم کے اگر ہے تو یہ ٹھیک بات نہیں، اگر لباس فلاں فلاں پہنا ہوگا تو مرد تو آئیں گے، میرا ان لوگوں سے سوال ہے کہ جب آپ عورت میں بی بی فاطمہ جیسی حیا چاہتے ہیں تو کیا آپ حضرت یوسف جیسا ایمان رکھتے ہیں کہ گناہوں کے دلدل سے خود کو محفوظ رکھ سکیں؟ اگر ایک عورت اپنی عزت لٹنے کے بعد بدکار کہلاتی ہے تو جو مرد یہ کرتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟

کیا آپ ایک عورت کے لباس، اس کے رہن سہن سے اس کو جج نہیں کرتے؟ تو اس کا جواب ہے نہیں، دوسروں کی کردار کشی ہمارا قومی فریضہ بن چکا ہے، کیونکہ ہمارا معاشرہ مرد کے گناہ کو اس کی ”مردانگی کی شان“ اور عورت کی بہادری کو اس کی ”بے حیائی“ سمجھتا ہے۔ مرد کو یہ کہہ کر چھوٹ دے دی گئی ہے کہ ”وہ مرد ہے، مرد تو یہ سب کرتے ہیں“ ، نہیں کرتے اچھے مرد یہ سب، اور اگر کوئی مرد ایسا کرے تو پھر وہ مرد کہلانے کا حقدار نہیں۔ صرف جنس سے مرد ہونا کافی نہیں، خود کو ایک ایسے مرد کہ طور پر پیش کریں کہ آپ کی پرورش کرنے والی آپ کی ماں آپ پر ناز کرے اور آپ سے جڑا ہر رشتہ آپ پر بھروسا کرے۔

فیمینیزم کے نظریے کو اپنائیں، مت ہچکچائیں،

فیمینیزم سب سے پہلے اسلام نے متعارف کروایا تھا جب اسلام نے عورت کو پیدا ہونے پر زندہ درگور کرنے سے روک کر اس کے پیروں تلے جنت کا اعلان کیا۔ جب خدا کے نبی نے فرمایا ”اپنی عورتوں سے برابری کا سلوک کرو“ ۔

فیمینیزم عورت مارچ تک محدود نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے جو نا صرف عورت بلکہ مرد کے تحفظ کی بات کرتا ہے، ایک ایسی سوچ جو پھول جیسے بچوں کو مدرسے میں کسی جانور کا شکار ہونے سے روکتی ہے، جو مرد اور عورت کو قدم

بہ قدم ساتھ چلنے کا کہتی ہے، وہ سوچ جو اکیلی عورت کو تحفظ دے، جو آپ کی بہن بیٹیوں کو بھیڑیوں سے محفوظ رکھ سکے، فیمینیزم یہ ہے کہ ظاہر جعفر جیسے درندے ہماری پھول سی نور کو روند نہ سکیں، فیمینیزم یہ ہے کہ مجھے گھر سے اکیلے نکلتے وقت یہ خوف نہ ہو کہ میں ایک بے بس انسان ہوں جو کسی بھی وقت ہوس کا نشانہ بن سکتی ہے۔

اپنی سوچ اور نظریات بدلیے ، مت کچھ منفی پروپیگنڈوں کی وجہ سے اپنے بچوں کے حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد ترک نہ کریں۔ فیمینیزم غلط نہیں البتہ اس کو پیش غلط انداز سے کیا گیا جس کی بحیثیت عورت میں مذمت کرتی ہوں۔ مجھے اپنے باپ، بھائی، بیٹے، شوہر اور معاشرے کے ہر مرد سے عزت اور تحفظ چاہیے، پھر چاہے میں گھر کی چار دیواری میں ہوں یا باہر۔ مجھے کھوکھلے نعروں کی ضرورت نہیں، مجھے ہر ذی روح کا تحفظ چاہیے، مذہب، جنس، رنگ اور نسل کی بنیاد پر کیا گیا انصاف نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments