نائجیریا میں صدر کے بیٹے یوسف اور مذہبی رہنما کی بیٹی زہرہ کی شادی کی دھومیں

نائجیریا کے شہر کانو کے ایئر پورٹ کا رن وے طیاروں سے بھرا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ وہاں نائجیریا کی اہم شخصیات اور مغربی افریقہ کے معززین صدر کے بیٹے اور ملک کی مذہبی شخصیت کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے پہنچے ہیں۔

یوسف بوہاری اور زہرہ ناصر کی شادی کے ایونٹ کو اس سال کا سب سے بڑا سلیبرٹی ایونٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

ریاست کونو میں ہزاروں افراد نے شادی کی اس تقریب میں شرکت کی۔

ایک تاریخی محقق نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نائجیریا میں صدر کے خاندان اور شاہی خاندان کے درمیان شادی ایک غیر معمولی بات ہے۔

اس جوڑے کی ملاقات برطانیہ کی یونیورسٹی سرے میں ہوئی تھی۔

سنیچر کو بھی یہ تہوار جاری رہا جب دلہن کے والد ناصر ادو نے سرکاری سطی پر بطور بِیچی کے امیر تاج پوشی کی رسم ہوئی۔

ان کے بھائی کانو کے امیر ہیں اور وہ نائجیریا کے نمایاں اسلامی لیڈر ہیں۔

The Emir of Bichi holding the staff of office

BBC

نئے شادی شدہ جوڑے نے اس تقریب میں شرکت نہیں کی۔

دولہا کے خاندان نے مہر میں 1200 ڈالر دیے جو کہ شمالی نائجیریا میں دی جانے والی رقم سے دس گنا زیادہ ہے۔

مزید پڑھیے

مٹن کا سالن نہ ہونے پر بارات واپس: ’دولہے کو مٹن کری چاہیے تھی، دلہن مستقبل کی اذیت سے بچ گئی‘

کورونا کے دنوں میں انوکھی شادی، مہمانوں کو کھانا گاڑیوں میں تقسیم

’16 سال میں شادی بھی کوئی شادی ہے؟‘

بی بی سی کے اسحاق خالد کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں شادی سے پہلے دلہن کے لباس کی تصاویر پر سوشل میڈیا پر تنازع شروع ہو گیا تھا اور اس کی وجہ اسے ’غیر اخلاقی‘ قرار دینا تھا کیونکہ اس لباس میں ان کے کندھے دکھائی دے رہے تھے۔ لیکن کچھ لوگوں نے دلہن کی حمایت بھی کی۔

https://www.facebook.com/photo?fbid=228072099320978&set=a.216422543819267


کچھ اطلاعات ہیں کہ 100 کے قریب نجی جیٹ طیاروں میں بھی مہمان آئے اور اس شادی میں شرکت کی تاہم ایئر پورٹ پر موجود ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان طیاروں کی اصل تعداد پچاس سے بھی کم ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے تہواروں میں کمی کی گئی ہے اور انھیں محدود کیا گیا ہے۔ بہت سے مہمانوں نے ماسک پن رکھا تھا۔ جبکہ نائجیریا اس وقت کورونا کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانا چاہتا ہے۔

شادی کی اس تقریب کے موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات تھے اور بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ پولیس اور سکیورٹی اہلکار محل کی حفاظت پر معمور تھے۔ انھیں قریب موجود اہم مقامات پر بھی تعینات کیا گیا تھا۔

Palace of Bichi

BBC
ہفتے کے اختتام پر ہونے والے تہوار کے لیے لیے یک بڑی مارکی بِیچی کے امیر کے محل کے سامنے بنائی گئی ہے

شادی کی رسم وزیر اطلاعات عیسیٰ علی پنتامی نے سرانجام دیں جو ایک مستند امام تھے۔

اس تقریب میں ملک بھر سے اعلیٰ سیاست دان اور رسمی حکمرانی کرنے والے افراد شرکت کے لیے آئے۔ اس میں بہت سی ایسی شخصیات بھی شامل ہیں جن کا تعلق اپوزیشن سے ہے۔ ان میں صدر محمدو بوہاری کے پیشرو گڈ لک جوناتھن بھی شامل ہیں جنھیں انھوں نے 2015 کے انتخاب میں شکست دی تھی۔

گیمبیا کی خاتون اوّل فاتوماتا با بیرو اور نائجر کے سابق صدر محمدو ایسوفو بھی غیر ملکی مہمانوں میں شامل تھے۔

.

Comments - User is solely responsible for his/her words