بلوچستان کے ضلع واشک میں نامعلوم افراد کے بم حملے میں کیپٹن ہلاک، دو فوجی اہلکار زخمی

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع واشک میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے نتیجے میں پاکستان کی فوج کے ایک کپیٹن ہلاک جبکہ دو فوجی جوان زخمی ہو گئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع واشک میں گچک کے علاقے ٹوبو میں نامعلوم افراد کی جانب سے نصب کردہ دیسی ساختہ بم سے سکیورٹی فورسز کی گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں فوج کے کیپٹن کاشف ہلاک جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے۔

زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے خضدار منتقل کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے بیان میں انھوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

کیپٹن کاشف کی عمر 26 سال تھی اور ان کا تعلق راولپنڈی سے بتایا گیا ہے۔

گچک کہاں واقع ہے؟

گچک انتظامی لحاظ سے ضلع واشک کی تحصیل بیسیمہ کا علاقہ ہے۔ یہ علاقہ کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو سے زائد کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

واشک نقشہ

BBC

یہ علاقہ بلوچستان کے دو دیگر اضلاع پنجگور اور آواران سے متصل ہے جو کہ ایک دشوار گزار علاقہ ہے۔

آواران اور اس سے متصل پنجگور اور واشک کے سرحدی علاقوں کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر رہے ہیں۔

آواران اور اس سے متصل سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف نہ صرف سکیورٹی فورسز کے آپریشنز ہو رہے ہیں بلکہ ان علاقوں میں عسکریت پسندوں کے حملے بھی جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چین کا پاکستان سے گوادر حملے کی مکمل تحقیقات، قصورواروں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ

بلوچستان: ہرنائی میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، سات ہلاک

بلوچستان لبریشن آرمی کب اور کیسے وجود میں آئی

گچک کے علاقے میں گذشتہ سال بھی ایسے حملوں میں پانچ سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 14 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

گچک کے علاقے ٹوبو میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں آواران اور اس کے نواحی علاقوں میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

رواں سال سکیورٹی فورسز پر سب سے زیادہ حملے کس علاقے میں ہوئے؟

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے اس کے متعدد علاقوں میں بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بدامنی کے دیگر واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

سیکورٹی فورسز

Getty Images

ان حملوں سے بلوچستان کے زیادہ تر علاقے متاثر ہوئے لیکن گذشتہ چند سال سے یہ حملے زیادہ تر مکران اور اس کے نواحی علاقوں کے علاوہ کوئٹہ کے مشرق اور جنوب مشرق میں بولان اور اس کے نواحی علاقوں میں ہو رہے ہیں۔

تاہم رواں سال زیادہ تر حملے بولان اور اس کے نواحی علاقوں میں ہوئے۔ گذشتہ سال دسمبر سے لے کر اب تک بولان اور نواحی علاقوں میں ایسے حملوں میں 35 سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

اس علاقے میں حملوں کی زیادہ تر ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

جبکہ دوسری جانب رواں سال کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائیوں میں بھی 25 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ مارے جانے والے یہ افراد عسکریت پسند تھے جو کہ کوئٹہ اور بولان کے علاقوں میں مبینہ فائرنگ کے تبادلوں میں مارے گئے۔

تاہم عسکریت پسند تنظیم، بی ایل اے نے بولان کے علاقے میں اپنے تین سے چار کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزارگنجی میں مقابلے میں 10 اگست کو جن پانچ افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ان کے بارے میں یہ بتایا گیا تھا کہ ان افراد کا تعلق کالعدم تنظیم، بی ایل اے سے تھا لیکن کالعدم تنظیم کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ ان کا تعلق بی ایل اے سے نہیں تھا۔

اگرچہ بلوچستان کے مخلتف علاقوں میں بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں ماضی کے مقابلے میں ایسے واقعات میں کمی آئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words