افغانستان میں ہم جنس پرستی: 'طالبان خواتین کو دفتر، سکول جانے دے سکتے ہیں لیکن ہمیں تو دیکھتے ہی مار دیا جائے گا'

ہم جنس پرست
Getty Images
طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے سے پہلے ہھی ہم جنس پرست عبدل (نام تبدیل کیا گیا) کی زندگی خطرے میں تھی۔

اگر وہ اپنے جنسی رجحان کے بارے میں کسی ایسے شخص کو بتاتے جو ان کے نظریے کا حامی نہیں تو ان کی شکایت ہو جاتی اور افغانستان کے قوانین کے تحت جیل میں ڈال دیا جا سکتا تھا۔

لیکن عبدل نے ریڈیو 1 نیوز بیٹ کو بتایا کہ اب جبکہ طالبان افغانستان پر قابض ہو گئے ہیں، اس کے بعد اگر کوئی ان کی ہم جنس پرستی کے بارے میں جان جاتا ہے تو انھیں ‘موقعے پر ہی مار دیا جائے گا۔’

طالبان ایک بنیاد پرست عسکری گروہ ہے جس نے اب افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ وہ اسلام کے سخت گیر نظریے کا حامی ہے اور اس کا نفاذ چاہتا ہے۔

طالبان جس طرح سے شرعی قوانین کی تشریح و تعبیر کرتے ہیں اس کے تحت ہم جنس پرستی ممنوع ہے اور اس کی سزا موت ہے۔

جب سنہ 1990 کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی تو 21 سالہ عبدل پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔

عبدل نے کہا ‘میں نے اپنے والدین اور بزرگوں کو طالبان کے بارے میں بات کرتے سنا ہے۔ ہم نے طالبان کے بارے میں کچھ فلمیں بھی دیکھی ہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے جیسے ہم فلم کا حصہ ہیں۔’

طالبان

Getty Images

'اس شہر میں زندگی تھی'

رواں ہفتے عبدل یونیورسٹی میں اپنے آخری سال کے امتحانات دینے والے تھے۔ وہ اس وقت دوستوں کے ساتھ لنچ پر جا رہے ہوتے یا اپنے بوائے فرینڈ سے مل رہے ہوتے۔ وہ تین سال قبل اپنے بوائے فرینڈ سے سوئمنگ پول میں ملے تھے۔

لیکن اب وہ مسلسل چار دنوں سے گھر میں بند ہیں۔ فی الحال طالبان جنگجو مرکزی دروازے کے باہر کھڑے ہیں۔

طالبان کا خوف کیوں ہے؟

وہ کہتے ہیں ‘جب بھی میں طالبان کو کھڑکی سے دیکھتا ہوں تو میں بہت خوفزدہ ہو جاتا ہوں۔ میرا جسم انھیں دیکھ کر کانپ جاتا ہے۔‘

‘عام شہری مارے جا رہے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی ان کے سامنے کچھ بول سکوں گا۔’

عبدل کی ہم جنس پرستی کے بارے میں حکومت لاعلم ہے۔ عبدال نے بتایا ‘افغانستان میں کوئی بھی ہم جنس پرست اپنے خاندان کو اس کے بارے میں نہیں بتا سکتا۔ یہاں تک کہ آپ اپنے دوستوں سے بھی اس بارے میں بات نہیں کر سکتے۔ اگر میں نے اپنے گھر والوں کو اس کے بارے میں بتایا تو وہ مجھے پیٹیں گے یا پھر مجھے جان سے مار ڈالیں گے۔’

اگرچہ انھوں نے اپنے جنسی رجحان کو پوشیدہ رکھا ہے لیکن وہ زندگی سے بھرپور اپنے شہر زندگی اچھی طرح گزار رہے تھے۔

انھوں نے کہا ‘میری پڑھائی اچھی چل رہی تھی، یہ ایک زندہ جاوید شہر تھا، یہاں زندگی کا اپنا مزہ تھا۔’

ایک ہفتے کے اندر ہی عبدل کو محسوس ہو رہا ہے کہ ان کی زندگی ان کے سامنے ہی بکھر رہی ہے۔

انھوں نے کہا ’اب ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں اب کبھی اپنی تعلیم مکمل کر سکوں گا۔ میرا اپنے دوستوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اب کس حال میں ہیں۔‘

‘میرا ساتھی اپنے خاندان کے ساتھ دوسرے شہر میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ یہاں نہیں آ سکتا، میں وہاں نہیں جا سکتا۔‘

‘وہ ہم جنس پرستوں کو دیکھتے ہی گولی مار دیں گے’

ان کے والد افغان حکومت کے ساتھ کام کر رہے تھے اور اب وہ طالبان کے خوف سے روپوش ہیں۔ عبدل کا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین خوف کے مارے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل رہی ہیں۔ ’کچھ خطرہ مول لے کر نکل رہی ہیں لیکن وہ بھی اپنے مردوں کے ساتھ ہی باہر جا رہی ہیں۔‘

پچھلے ایک ہفتے میں عبدل کے دل و دماغ پر اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں ‘میں شدید افسردگی میں ہوں۔ میں کبھی سب کچھ ختم کرنے کے بارے میں سوچتا ہوں۔ میں اس طرح کی زندگی نہیں گزارنا چاہتا۔

‘میں ایک ایسا مستقبل چاہتا ہوں جس میں میں آزادانہ طور پر رہ سکوں۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی مجھے بتائے کہ آپ ہم جنس پرست ہیں اور یہاں نہیں رہ سکتے۔’

عبدل طالبان کی بات پر اعتماد نہیں کرتے کہ ان کے اقتدار میں خواتین کو حقوق دیے جائیں گے اور اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان ہم جنس پرستوں کی خفیہ زندگی

ہم جنس پرست پناہ گزینوں کا نفسیاتی ٹیسٹ مسترد

وہ کہتے ہیں کہ ‘اگرچہ طالبان حکومت میں خواتین کو قبول کرلیتے ہیں، انھیں سکول جانے کی اجازت دیتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی ایل جی بی ٹی یا ہم جنس پرست مرد کو قبول نہیں کریں گے۔ وہ انھیں دیکھتے پر ہی مار ڈالیں گے۔’

عبدل نے طیارے سے لٹک کر ملک چھوڑنے کی کوشش کرنے والے افغانوں کے بارے میں کہا کہ ‘وہ لوگ پاگل نہیں ہیں۔‘

‘یہاں ان کے کاروبار ہیں، نوکریاں ہیں، ان کی اچھی زندگی ہے، لیکن وہ بھاگ رہے ہیں۔ وہ پاگل نہیں ہے جو طیارے کے پہیے پکڑ کر لٹک رہے ہیں اور مر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ افغانستان میں محفوظ نہیں ہیں۔’

خواتین

Getty Images

'مجھے آزادی اور سلامتی کے ساتھ رہنے کا حق ہے'

عبدل کا کہنا ہے کہ وہ 'ملک سے باہر نکلنے کے موقع کی تلاش میں ہیں۔‘ بہت سی تنظیمیں ہیں جو افغانستان میں عبدل جیسے لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

عبدل کہتے ہین کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ 20 ہزار افغان شہریوں کو پناہ دینے جا رہا ہے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ کہاں درخواست دینی ہے یا کیسے رجسٹر کیا جانا ہے۔

برطانیہ میں ہم جنس پرستوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم سٹون وال نے برطانوی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایل جی بی ٹی کیو پلس افغان پناہ گزینوں کی مدد کرے تاکہ وہ بچ سکیں، پھر سے آباد ہوں اور ترقی کریں۔

عبدل نے کہا ‘میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی میری آواز سن رہا ہے، تو ایک نوجوان کی حیثیت سے مجھے بھی آزادی اور سلامتی کے ساتھ رہنے کا حق ہے۔‘

‘میں 21 سال کا ہوں۔ میں نے اپنی پوری زندگی جنگ کے ماحول میں، بم دھماکوں، میں گزاری ہے، دوست کھوئے ہیں اور رشتہ داروں کو مرتے دیکھا ہے۔ بس ہمارے لیے دعا کریں، ہماری جان کی سلامتی کے لیے دعا کریں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words