طالبان اور افغانستان: داڑھی سے ’استثنا کا سرٹیفیکیٹ‘ اور طالبان کی کاسمیٹکس کی دکان پر بیویوں کے لیے خریداری

اقبال خٹک - صحافی

طالبان
Reuters
15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان اس سے قبل نوے کی دہائی میں افغانستان میں برسراقتدار رہ چکے ہیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر بی بی سی اُردو نے طالبان کے گذشتہ دور اور اُس وقت کے افغانستان کے حالات کا احاطہ کرنے کے لیے قسط وار مضامین کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کی تیسری قسط قارئین کے لیے پیش ہے۔

سنہ 1988 کے بعد سے مجھے بارہا افغانستان جانے کا اتفاق ہوا، کبھی ذاتی حیثیت میں تو کبھی بطور صحافی یا جرگہ ممبر یا پھر ایک استاد کی حیثیت سے۔

پہلی دفعہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان کے جنازے میں شرکت کے لیے جلال آباد گیا تھا، یہ سفر کافی تلخ ثابت ہوا کیونکہ اس موقع پر ہونے والے ایک بم دھماکے میں کافی لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

افغانستان کے لیے رخت سفر باندھتے ہوئے مجھے ماضی میں کبھی اتنا نہیں سوچنا پڑا تھا جتنا مارچ 2001 میں، جب ایک مغربی میڈیا کی ٹیم کے ساتھ کابل جانے کی دعوت موصول ہوئی۔

جب سے طالبان تنظیم افغانستان کے سیاسی افق پر نمودار ہوئی میرا ان سے کبھی براہ راست واسطہ نہیں پڑا تھا اس بات سے قطع نظر کے میں سنہ 1989 سے صحافت کر رہا ہوں۔

اس دعوت کو قبول کرنے میں تقریباً دو ہفتے لگے کیونکہ مجھے اور ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈز‘، جن کے لیے میں پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے سنہ 1999 سے مانیٹرنگ کر رہا ہوں، کو خدشہ تھا کہ طالبان شاید مجھے ستمبر 2000 میں ’طالبان اور میڈیا‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ کے پس منظر میں مجھے کوئی ’نقصان‘ نہ پہنچا دیں۔

ستمبر 2000 میں شائع ہونے والی یہ اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ تھی جس کے ذریعے دنیا کو پتہ چلا کہ طالبان کے زیر تسلط افغانستان میں میڈیا کہاں کھڑا ہے اور اسے کتنی آزادی حاصل ہے۔ مگر جب کابل جانے کا فیصلہ ہو گیا تو بڑی رکاوٹ ویزا حاصل کرنا تھا۔

نہ میں طالبان کو جانتا تھا اور نہ وہ مجھے۔ ایک دوست نے بتایا کہ اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی، جو کہ طالبان کے ’قریب‘ سمجھے جاتے تھے، کی خدمات حاصل کی جائیں تو ہو سکتا ہے کہ ویزہ باآسانی مل جائے۔

اس دور میں ساری دنیا میں صحافی یا کوئی بھی عام آدمی زیادہ تر افغانستان کا ویزہ اسلام آباد میں واقع سفارت خانے سے ہی حاصل کرتے تھے کیونکہ دنیا میں صرف تین ممالک نے ہی طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا جن میں پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل تھے۔

طالبان کے پہلے دور حکومت میں پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے شہریوں کو مفت ویزہ کی سہولت فراہم کرتے تھے۔ چنانچہ مجھے ویزہ کے لیے کوئی رقم ادا نہیں کرنی پڑی جبکہ مغربی میڈیا کی ٹیم کے ارکان نے ویزہ فیس کی مد میں چند ڈالرز ادا کیے۔

طالبان کو سب پتہ ہے

ہم پانچ اپریل 2001 کی صبح طورخم کے راستے کابل کے لیے روانہ ہوئے۔ طورخم بارڈر کے اِس طرف ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک نوجوان امیگریشن افسر نے مجھ سے کابل جانے کا مقصد دریافت کیا اور جواب دینے پر اس نے ’انٹری‘ کی مہر میرے اور مغربی میڈیا کے اراکین کے پاسپورٹوں پر لگا دی۔

طورخم سے کابل تک کا سفر تھکا دینے والا تھا۔ دورانِ سفر ہم زیادہ تر خاموش ہی رہے، شاید اس کی وجہ ’اندر کا خوف‘ تھا۔

راستے کی تھکاوٹ کابل کے کانٹینٹل ہوٹل میں ایک اچھی نیند کے ساتھ ختم ہوئی۔

اگلی صبح افغان وزارت خارجہ میں رجسٹریشن کروانی تھی۔ یہ ایک لازمی عمل تھا جس سے ہر غیر ملکی صحافی کو گزرنا ہوتا تھا۔

ایک بڑے سے کمرے میں ہمیں بٹھا دیا گیا۔ کچھ لمحوں بعد ایک نوجوان پگڑی باندھے آیا اور سلام کے ساتھ فرانسیسی اخبار ’لی موند‘ چائے کی میز پر پٹخ کے وہاں سے چلتا بنا۔ مجھے فرانسیسی زبان کی بالکل سمجھ نہیں ہے مگر ’لی موند‘ کی لیڈ سٹوری کی ہیڈلائن میں ایک لفظ ضرور سمجھ آیا جو کہ ’طالبان‘ تھا۔

میں نے اپنے ساتھ موجود فرانسیسی صحافی سے پوچھا کہ لیڈ سٹوری کس بارے میں ہے۔

اس نے جواباً کہا ’مت پوچھو۔۔۔ یہ طالبان کےخلاف ایک تحقیقاتی خبر ہے۔‘

وہ نوجوان دوبارہ کمرے میں چائے کے ساتھ نمودار ہوا۔ میں نے پوچھا آپ نے ہمیں فرانسیسی اخبار کیوں لا کر دیا ہے۔ اس نے جواب دیا ’یہ آپ کے لیے نہیں تھا۔۔۔ طالبان سب جانتے ہیں کہ کون کہاں لکھتا ہے اور کیا لکھتا ہے۔ ہمیں سب پتہ ہے۔‘

اس نوجوان نے پشتو میں یہ سب کہتے ہوئے ہمیں چائے پینے کا کہا اور بتایا کہ جلد ہماری رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

ہم طالبان کی اتنی زبردست میڈیا مانیٹرنگ پر حیران رہ گئے، حالانکہ اس وقت افغان سفارت خانہ صرف تین ممالک میں کام کر رہا تھا۔

کس طرح اور کون طالبان کو میڈیا مانیٹرنگ میں مدد کر رہا تھا؟ مغربی میڈیا کے صحافیوں کی ’مسکراہٹ‘ اور پھر میرے طرف دیکھنے کے انداز سے مجھے اندازہ ہوا کہ شاید شک میرے ملک پر ہی ہے۔

رجسٹریشن کے بعد ایک انگریزی زبان کا مترجم ہمارے ساتھ لگا دیا گیا۔ کام تو اس کا ’مترجم‘ کا تھا مگر شاید اس کی اصل ڈیوٹی ہماری جاسوسی کرنا تھی۔ ویسے بہت سے ممالک اور حکومتیں صحافیوں کے جاسوسی کرتے ہیں۔

طالبان اور میک اپ

برقعہ

Getty Images
’’طالبان خود آتے ہیں، اور اپنے بیویوں کے لیے مختلف کاسمیٹکس کی اشیا خریدتے ہیں۔ طالبان اپنی بیویوں کو خوبصورت دیکھنا پسند کرتے ہیں‘

ہم نے پہلے سے کچھ رپورٹس کے حوالے سے منصوبہ بندی کی تھی، اُن میں سے ایک رپورٹ طالبان کا خواتین کے مبینہ سخت گیر رویہ روا رکھنے کے حوالے سے تھی۔

کابل کے ’شہر نو‘ بازار میں ایک کاسمیٹکس کی دکان کھلی دیکھی تو حیرانی ہوئی۔ دکان کاسمیٹکس کی اشیا سے بھری پڑی تھی۔

ہماری حیرانی کو بھانپتے ہوئے دکاندار نے خفیف سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا ’جی ہاں، یہاں خریداری ہوتی ہے۔‘ اُس کے جواب سے ہمارا تجسس بڑھ گیا اور ہم نے پوچھا ’کیسے؟‘

دکاندار نے بغیر سانس لیے جواب دیا ’طالبان خود آتے ہیں، اور اپنے بیویوں کے لیے مختلف کاسمیٹکس کی اشیا خریدتے ہیں۔ طالبان اپنی بیویوں کو خوبصورت دیکھنا پسند کرتے ہیں حالانکہ وہ خواتین کے بازاروں میں جانے کے سخت خلاف ہیں۔۔۔‘

ٹی وی رپورٹنگ کے لیے فوٹیج بہت ضروری ہوتی ہے اور اس دورے میں ہمارے لیے بڑا چلینج فوٹیج بنانا تھا جس کے لیے وہ دکاندار بالکل راضی نہیں ہو رہا تھا۔ وہ آن کیمرہ بولنے کے لیے بالکل راضی نہیں تھا کیونکہ طالبان نے کیمرے کے استعمال کے حوالے سے ’صفر رواداری‘ کی پالیسی اپنائی ہوئی تھی۔

اُن کے پہلے دور حکومت میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات پر مکمل پابندی تھی۔

داڑھی سے چھوٹ کا سرٹیفیکٹ

افغانستان

Getty Images
’یہ مسلمان ہے اور پشتون بھی۔۔۔ انشاء اللہ داڑھی بھی ضرور رکھ لے گا‘

وزارت خارجہ کا مترجم جو کہ پشتون تھا اور کابل یونیورسٹی میں پروفیسر بھی وہ علی الصبح ہمیں لینے کے لیے ہوٹل پہنچ جاتا۔ بعض اوقات تو اتنی صبح کہ ہم نے ناشتہ بھی نہیں کیا ہوتا تھا۔ مترجم، جس کو ہم ’جناب پروفیسر‘ کے لقب سے پکارتے تھے، پہلے مجھ سے پشتو زبان میں میرا حال پوچھتے اور پھر کہہ دیتے ’کوئی تکلیف یا مشکل تو نہیں؟‘

یہ فقرہ وہ دن میں کئی بار دہراتے اور ہر روز یہ کام ہوتا۔ اُن کے اس رویے سے میرے دل میں خدشات پیدا ہونے لگے اور میں سوچتا تھا کہ ’طالبان اور میڈیا‘ رپورٹ میرے لیے کوئی مشکل ہی نہ پیدا کر دے۔

پروفیسر صاحب علمِ نفسیات کو تھوڑا بہت جانتے تھے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ میرے خدشات کو بھانپ کر ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا ’کوئی فکر نہ کریں، آپ ہمارے مہمان ہیں۔ کیا ہوا، اگر آپ نے وہ رپورٹ تحریر کی ہے۔‘

کچھ لمحوں کے لیے ایسا لگا جیسے میرے دل نےدھڑکنا بند کر دیا لیکن جلد ہی اپنے آپ کو تسلی دی کہ خدا خیر کرے گا۔

اس سلسلے کی پہلی دو اقساط پڑھیے

23 برس قبل جب طالبان نے مزارِ شریف فتح کیا: ’ہمیں نہ مارو، ہم عام شہری ہیں‘

صحافیوں کی دعوت، بغیر داڑھی اور ویزا اینٹری: طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟

مترجم نے ہماری توجہ ایک ایسے مسئلے کی طرف دلائی جس کے بارے میں ہم نے زیادہ سوچا نہیں تھا۔ انھوں نے کہا ہمیں بازاروں میں گھومتے وقت ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اُس وقت نماز کا وقت تو نہیں کیونکہ ’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘ پولیس ایسے لوگوں کے ساتھ سختی سے کام لیتی ہے جو نماز کے وقت مسجد میں نہیں ہوتے۔‘

ایک دن شہر نو بازار میں ہمارا سامنا اُس ’سپیشل پولیس فورس‘ کے اہلکاروں سے ہوا۔ ایک اہلکار نے مجھ سے پوچھا ’داڑھی کیوں نہیں رکھی؟‘ میں نے اپنے اپ کو غیر ملکی تصور کرتے ہوئے کہا ’کیا یہ اصول غیر ملکی باشندوں کے لیے بھی ہے؟‘

اس اہلکار نے غصے میں جواب دیا کہ ’کیا آپ مسلمان نہیں؟‘

اس موقع پر ہمارے مترجم نے اہلکار کو مصروف کرنے کی کوشش کی اور کہا ’یہ مسلمان ہے اور پشتون بھی۔۔۔ انشاء اللہ داڑھی بھی ضرور رکھ لے گا۔‘

یہ سُن کر وہ اہلکار روانہ ہوئے اور ہم شہر نو بازار میں مشہور ’ہرات ریسٹورنٹ‘ کی طرف دن کے کھانے کے لیے چل پڑے۔ اس واقعے پر ہمارے مترجم نے ہم سے معذرت کی اور کہا کہ وہ ہمیں کھانے کے بعد ملیں گے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل یہ ریسٹورنٹ لوگوں سے بھرا ہوتا تھا مگر اب ان کا کاروبار لوگوں کی نقل مکانی کے باعث کافی متاثر ہوا تھا۔ ہم نے کھانا آرڈر کیا اور گفتگو میں مصروف ہو گئے۔

ابھی ہم نے گفتگو شروع ہی کی تھی کہ ریسٹورنٹ میں ایک ہلچل سی محسوس ہوئی۔ ریسٹورنٹ کے ملازمین نے کھڑکیوں کے پردے نیچے کرنا اور کھڑکیاں اور دروازے بند کرنا شروع کر دیے۔

’گھبرایئے مت!‘ ایک ملازم نے فارسی زبان میں کہا۔ ’آج جمعہ ہے اور جمعہ کی نماز کے لیےسب لوگوں کومسجد میں ہونا چاہیے۔ آپ چونکہ مہمان ہیں لہذا ہم آپ کو باہر نہیں نکال سکتے۔‘

اگلے دن ہم نے طالبان وزیر داخلہ ملا عبد الرزاق اخوند سے وزارت داخلہ میں انٹرویو کرنا تھا۔

میں نے سوچا تھا کہ میں اُن سے داڑھی کے مسئلے پر سوال کروں گا۔ ہم صبح اُن کے دفتر پہنچے تو ایک بُری خبر ہماری منتظر تھی۔ وزیر صاحب کسی ’اہم اجلاس‘ میں شرکت کی وجہ سے ہمارے ساتھ انٹرویو کے لیے موجود نہیں تھے، البتہ انھوں نے ایک احسان ضرور کیا ہم پر اور وہ یہ کہ نائب وزیر داخلہ اور انٹیلیجنس سربراہ ملا عبد الاسلام ‘خاکسار’ کو کہا کہ وہ ہمارے ساتھ انٹرویو کے لیے موجود رہیں۔

یاد رہے کہ ملا خاکسار کو 14 جنوری 2006 میں قندھار میں ان کے گھر کے قریب ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ٹی وی انٹرویو کے اپنے لوازمات ہوتے ہیں، ہمارے کیمرہ مین وقت مقررہ سے پہلے اس جگہ پہنچےجہاں انٹرویو ہونا تھا۔سب انتظامات کرنے کے بعد جب نائب وزیر داخلہ داخل ہوئے تو پہلا کام انھوں نے کیمرے بند کرنے کا کہا۔ اس موقع پر میں کیمرہ مین اور رپورٹرز کی آنکھوں میں مایوسی اور اداسی دیکھ سکتا تھا۔

جب انٹرویو ختم ہوا تو میں نے وزیر صاحب سے داڑھی کے بارے میں سوال کیا۔ وہ بات سمجھ گئے۔ ’آپ سے کسی نے پوچھا ہے کیا؟‘ میں نے اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی ساری تفصیل بیان کر دی۔ یہ سُن کر انھوں نے ایک اہلکار کو فارسی زبان میں مخاطب ہوکر کچھ کرنے کا کہا اور مجھے کہا ’آپ کو ایسی مشکل اب دوبارہ پیش نہیں آئے گی۔‘

طالبان

BBC

طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

’افغانستان کا بلڈوزر اب طالبان کا بلڈوزر بن چکا ہے‘

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

افغانستان میں طالبان کی فتح انڈیا اور علاقائی امن کا امتحان ہو گا

افغانستان کے جغرافیے میں چھپا وہ راز جو اسے ‘سلطنتوں کا قبرستان’ بناتا ہے


وزیر صاحب چلے گئے اور میں انٹرویو کے بعد انتظار کر رہا تھا اس شخص کا جس نے ہمیں انتظار کرنے کا کہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آیا اور ایک کاغذ مجھے ہاتھ میں تھما دیا۔ ویسے تو یہ ایک کاغذ کا ٹکڑا نظر آ رہا تھا لیکن اس پر موجود تحریر میرے لیے حیران کن تھی۔

دراصل یہ ’داڑھی سے چھوٹ کا سرٹیفیکٹ‘ تھا۔ اس اہلکار نے کہا جب آپ سے پولیس ’داڑھی‘ کے بارے میں پوچھے تو یہ سرٹیفیکٹ دکھا دینا۔ دل کو تسلی ہوئی کہ اگلی بار اگر پولیس سے دوبارہ سامنا ہواتو اپنے آپ کو زیادہ محفوظ محسوس کروں گا۔ البتہ پھر ان سے دوبارہ سامنا نہیں ہوا۔

یو این کلب

طالبان

Getty Images
’اس کلب میں صرف ‘غیر ملکی شہریوں’ کو آنے کی اجازت تھی اور اس طرح ‘خشک کابل’ میں ایک گرم سا ماحول مل جاتا تھا‘

جس کسی نے کابل شہر کی زندگی طالبان کے پہلے دور حکومت سے پہلے دیکھی ہے وہ ضرور یہ کہہ سکتا ہے کہ طالبان کا دور کافی ’خشک‘ تھا۔

کابل شہر کی رونقیں ختم ہو گئی تھیں۔ سینما، موسیقی اور حجام کی دکانیں بند پڑی تھیں۔ شہر کے پرانے باسی نقل مکانی کر چکے تھے۔ سوائے پاکستان کے سفارت خانے کے کسی اور ملک کا سفارتخانہ یہاں کام نہیں کر رہا تھا۔

ایک مرتبہ ہم نے کابل کے چڑیا گھر میں عکس بندی کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے کیمرہ چھین لیا، مگر چند گھنٹوں بعد تمام آلات واپس کر دیے گئے مگر اس تنبیہ کے ساتھ آئندہ یہ رعایت نہیں دی جائے گی۔

سارا دن فیلڈ میں رہ کر ہم اپنی تھکاوٹ شام کو ضرور یواین کلب میں جا کر ختم کر دیتے۔ اس کلب میں صرف ‘غیر ملکی شہریوں’ کو آنے کی اجازت تھی اور اس طرح ’خشک کابل‘ میں ایک گرم سا ماحول مل جاتا تھا۔ یہاں غیر ملکی مرد اور خواتین ایک ساتھ ساتھ گپ شپ میں مصروف نظر آتے تھے۔

طالبان کے طرز حکومت میں آزاد میڈیا کا تصور شیخ چلی کی ہم خیالی کے مترادف تھا۔ یواین کلب ہی افغانستان کی معلومات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ تھا۔ یہ غیر ملکی مختلف غیر سرکاری اداروں اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے لیے کام کرتے تھے اور یہ لوگ افغانستان کے مختلف صوبوں میں مقامی آبادی کی خدمت میں مصروف تھے۔

یہ غیر ملکی آرام اور تفریح کے لیے کابل میں کچھ وقت گزارتے تھے اور ہماری طرح یو این کلب ہی ایک ایسی جگہ تھی جہاں یہ سب کچھ کرنا ممکن تھا۔

طوفان سے پہلے خاموشی

انگریزی زبان کا محاورہ ہے: ‘lull before storm’ یعنی ’طوفان سے پہلے خاموشی۔‘

کابل میں دس روزہ قیام کے دوران مجھے اس شہر میں ایک خاموشی سی محسوس ہوئی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بڑا واقعہ ہو چکا ہے اور لوگ سوگ منا رہے ہیں یا پھر کوئی بڑا واقعہ ہونے والا ہے۔۔۔

14 اپریل 2001 کو ہم طور خم کے راستے پاکستان میں واپس داخل ہوئے۔ میرے لیے یہ دورہ پچھلے تمام دوروں سے زیادہ معنی خیز رہا۔ طالبان کسی قسم کے تکلیف کا سبب نہیں بنے حالانکہ ’طالبان اور میڈیا‘ رپورٹ نے افغانستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے ان کا چہرہ بے نقاب کیا تھا۔ اس رپورٹ کے حوالے سے جتنا ہراساں مجھے اپنے ملک کے انٹیلیجنس اداروں نے کیا تھا اس کا عشر عشیر بھی کابل میں محسوس نہیں ہوا۔

اس دورے کے بعد پانچ مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ وہ خاموشی جو میں نے کابل میں محسوس کی تھی وہ 11 ستمبر کو امریکہ میں دہشت گرد حملوں کی صورت میں توڑ دی گی۔ اور اسی کے ساتھ افغانستان میں طالبان کی حکومت بھی اپنے اختتام کو پہنچی۔

آج لگ بھگ 20 سال گزر چکے ہیں اور ایک بار پھر طالبان کابل میں ایک ’فاتح‘ کے صورت میں داخل ہو چکے ہیں۔

اور اب مجھے یہ خدشہ ہے کہیں مجھے دوبارہ افغانستان کا ویزہ لینے کے لیے اسلام اباد میں افغان سفارت خانے نہ جانا پڑے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words