افغانستان میں طالبان: ’میں یقینی طور پر قتل کر دی جاؤں گی۔۔۔ دنیا والو تمھیں معلوم ہے یہاں کیا ہو رہا ہے؟

افغانستان
AFP
افغانستان پر طالبان کے قبضے کو ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور بہت سے افغان شہری اپنی آئندہ زندگی اور سکیورٹی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

ایک نوجوان افغان لڑکی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مستقبل کے حوالے سے اپنے خوف اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اُن کی حفاظت کے پیشِ نظر ہم یہاں اُن کی شناخت ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ ان کی کہانی اُن ہی کی زبانی سُنیے۔


افغان حکومت کے خاتمے کے بعد آج یہ ساتواں دن ہے۔ صدر (اشرف غنی) ملک سے فرار ہو گئے ہیں اور طالبان ایک بار پھر اقتدار میں ہیں۔

ہمیں پیچھے اپنے ملک میں رہنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔

خوف نے مجھے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے اور میں محسوس کر سکتی ہوں کہ کیسے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اندر موجود امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ امید کی جگہ اب مایوسی نے لے لی ہے۔ میں ہر جانب اندھیرا، غیر یقینی اور ایک ایسا مستقبل دیکھ رہی ہوں جو زیادہ روشن نہیں ہے۔

میں یقینی طور پر قتل کر دی جاؤں گی، اور یہ کہنے کے لیے میرے پاس بہت سی وجوہات ہیں۔۔۔

بالکل ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جب ایسے افراد آپ کے ملک پر قابض ہو جائیں جن سے آپ کو ڈر لگتا ہو۔

سوچیے، تصور کیجیے آپ ایک لمبی سڑک پر ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں، موسم خراب ہے اور آپ تن تنہا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’طالبان کے ہاتھوں اغوا کیے جانے سے موت بہتر ہے‘

’کہا تھا نا شادی کر لو، اب طالبان ہاتھ مانگیں گے تو ہم کیا کریں گے‘

’وہ کہتے ہیں ہمیں افغان خواتین کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔ لیکن میں ڈرتی ہوں‘

محبوبہ سراج: امریکہ سے افغانستان آنے والی خاتون جو طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہاں ہیں

میں نے اپنی زندگی میں بہت سی رکاوٹیں دیکھی ہیں، اتنی کہ شاید کوئی اور لڑکی انھیں برداشت نہ کر پائے۔ میں اُن تمام مشکلات سے نمٹی ہوں مگر یہ سب۔۔۔۔

اے دنیا والو کیا تمھیں اس کا خیال ہے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ کیا تمھارے نزدیک ہماری کوئی اہمیت ہے۔ کیا تم ہمیں دیکھ رہے ہو؟ دیکھ رہے ہو۔۔۔

کابل خاتون

Getty Images

میں یہ سب ان کے لیے لکھ رہی ہوں جو جو سُن رہے ہیں اور جنھیں ہمارا خیال ہے۔

ہم یہاں تکلیف میں مبتلا ہیں، ہمیں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔

خوف میں رہنا مرنے سے کچھ کم نہیں، بلکہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔

اگر آپ ہمیں سُن رہے ہیں تو ہماری مدد کیجیے۔ ہمیں زندہ رہنے میں مدد کریں، اور ایک بار پھر روشنی میں اور دوبارہ اٹھ جانے میں یقین رکھیں، پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے پر یقین رکھیں۔

ہم اپنے ملک کو واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ ویسی زندگی بسر کریں جیسی وہ بسر کرنا چاہتے ہیں، جیسی زندگی بسر کرنا اُن کا حق ہے۔

آپ اپنے اپنے ملک کو بتائیں کہ جنگ بند کریں، جنگ بُری شے ہے، اس کا چہرہ گندا ہے، اس میں کوئی نہیں جیتتا۔ دل اسے برداشت کرنے اور اس کے نتائج کو جھیلنے کے لیے بہت چھوٹی چیز ہے۔

ہم جنگ کا ثمر ہیں۔۔۔ کچھ لڑکیاں اسی غیر یقینی صورتحال میں رہتے رہتے کہیں گم ہو چکی ہیں۔۔۔ خوف میں اور اندیشوں میں۔۔۔ وہ زندہ رہنے کے لیے کسی سے مدد چاہتی ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں کی طرف دیکھ رہی ہیں اور کچھ نہ کر سکنے پر رو رہی ہیں۔

وہ آسمان کی جانب دیکھ رہی ہیں اور اس سے (خدا سے) کہہ رہی ہیں کیا تم دیکھ رہے ہو؟ کیا تم ہماری مدد کرو گے؟ کیا مجھے امید رکھنی چاہیے تھوڑی سی امید۔۔

طالبان

BBC

طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

’افغانستان کا بلڈوزر اب طالبان کا بلڈوزر بن چکا ہے‘

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

افغانستان میں طالبان کی فتح انڈیا اور علاقائی امن کا امتحان ہو گا

افغانستان کے جغرافیے میں چھپا وہ راز جو اسے ‘سلطنتوں کا قبرستان’ بناتا ہے


اے دنیا، اے لوگو جو تم یہاں سے باہر رہتے ہو، تم خوش قسمت ہو، میں اس زندگی پر رشک کرتی ہوں جو تم جی رہے ہو۔

ہمیں دیکھیں۔ میں وہ تھی جس کے بہت سے بڑے خواب تھے، دوسروں کی مدد کرنے کے خواب اور اب میں خود مدد کی طلبگار ہوں۔

یہ جنگ ہے۔۔۔ کیا میں کبھی یہ کہہ پاؤں گی کہ ہم نے اس سے نمٹ لیا؟ ہم ایسا کر سکتے ہیں؟ کیا میں ایسا کہہ پاؤں گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words