افغانستان میں طالبان : کابل میں بظاہر معمول پر آتی زندگی لیکن امیگریشن ویزا کے لیے ہجوم برقرار

ملک مدثر - بی بی سی كابل

افغانستان
BBC
ہوٹل کے باہر افغانستان چھوڑنے کے لیے منتظر افراد کا ہجوم
آج کابل میں پھر ایک مصروف دن تھا ہوٹل آج یہاں سے قطر جانے والے مسافروں سے بھرا ہوا تھا لیکن آج یہاں پہنچنے والوں میں پاکستانی صحافیوں کی بھی ایک بڑی تعداد دکھائی دی۔

ایسے جیسے شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا ہو جبکہ غیر ملکی صحافی یہاں سے جانے کے چکر میں ہیں۔

ہوٹل کےڈائنگ ایریا میں مجھے آج اپنے لیے کرسی تلاش کرنا پڑی۔ ہوٹل سٹاف نے بتایا کہ ناشتے کا سامان تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

ناشتے کی میز پر یا جہاں کہیں بھی کچھ دیر بیٹھ جائیں ہماری گفتگو کا مرکز اکثر ائیر پورٹ کے گیٹ ہوتے ہیں۔ یہ شمالی گیٹ یہ مشرقی ہے یہ جنوبی گیٹ ہے۔

مجھے آج ایک بار پھر ہوٹل سے ایئر پورٹ جانا تھا لیکن پہلے ہم میئر کے دفتر جسے شہر والی کہتے ہیں میں گئے وہاں جا کر پتا چلا کہ کام تو شروع ہو گیا ہے لیکن ستر فیصد لوگ اب بھی کام پر واپس نہیں لوٹے۔

یہاں چند خواتین دکھائی دیں تاہم ان میں سے کسی سے بات کرنا یا انٹرویو کرنا ممکن نہ تھا۔

ایک خاتون سے درخواست کی تو انھوں نے کہا نوکری کی وجہ سے بات کی اجازت نہیں لیکن انہیں ابھی کوئی مسئلہ نہیں۔ تاہم ایک شخص نے بتایا کہ ہمیں دو مہینے سے تنخواہ نہیں ملی۔

معمولات زندگی بحال کرنے کی کوشش

آج کابل میں سڑکوں پر معمول کی صفائی کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ یہاں طالبان نے اپنا الگ میئر مقرر کیا ہے لیکن سابقہ میئر بھی ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

یہاں سے کابل ایئر پورٹ کے شمالی گیٹ کا رخ کیا۔ گاڑیوں کی طویل قطار دکھائی دی۔ شاید تین کلومیٹر تک بہت گاڑیاں تھیں ہر کوئی شمالی دروازے جہاں افغان فورسز تعینات تھیں وہاں جانا چاہتے تھے۔

ایئر پورٹ کے جانب جانے والا راستہ

BBC
ایئر پورٹ کے جانب جانے والا راستہ

جیسے جیسے ہم ایئر پورٹ کے قریب جا رہے تھے فائرنگ کی آوازیں بڑھتی جا رہی تھیں۔

لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو افغان فورسز نے سختی سے ہمیں وہاں سے ہٹ جانے کا بولا۔ فوجی اہلکار بہت غصے میں تھے ان کے ہاتھ میں چابک جیسا کچھ تھا جو دو مرتبہ انھوں نے ہمیں مار بھی دیا۔ بعد میں انھوں نے ہمارا کارڈ چیک کیا اور ہمیں جانے دیا۔

آج کے دن کی آخری اطلاع طالبان کی قیادت میں پہلی بار منعقد ہونے والے لویہ جرگہ کی تھی۔ یہاں کچھ صحافی دوستوں نے بتایا کہ پانچ سو سے زائد علما نے اس جرگے میں شرکت کی اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی گفتگو کی۔

بتایا گیا ہے کہ انھوں نے تعلیم کے طریقہ کار مثلاً مدرسہ اور سکول کے نظام پر بات کی۔ یہ بھی کہا کہ یہاں رہنے میں کوئی خطرہ نہیں ہے باہر زیادہ برے حالات ہیں۔

کوئی افغانستان چھوڑنے کے لیے بے چین کوئی چھوڑنے پر بے چین

چار فلائٹس نے آج پرواز بھری لیکن پاکستان کی پی آئی اے کو کیوں فلائیٹ کینسل کرنا پڑا اس کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا۔

ہم ہوٹل واپس لوٹے تو ایک بار پھر سپیشل امیگریشن ویزا کے لیے ایک ہجوم دکھائی دیا۔ اب ہوٹل کی سکیورٹی کا کنٹرول قطری گارڈز بھی لے لیتے ہیں۔

یہ وہ خاندان ہیں جنھوں نے کسی بھی طور پر خود یا ان کے گھر کے کسی فرد نے غیر ملکیوں کے ساتھ میڈیا میں یا مترجم کی حیثیت سے کام کیا ہے۔

ان کے چہروں پر اداسی کے سائے تھے جیسے کوئی ان کو زبردستی ان کے ملک ان کے گھر سے نکالا جا رہا ہے اور ان کے لیے کوئی راستہ نہیں بچا۔

کمرے میں جانے سے پہلے ہوٹل کی لابی میں کھڑے درجنوں طالبان میں سے ایک سے بات ہوئی تو اس کو جب یہ بتایا کہ میں پاکستان سے ہوں تو اس نے چڑ کر مجھ سے سوال کیا کہ ’یہ آخر تم اتنے پاکستانی ابھی افغانستان کیوں آ رہے ہو؟‘

Comments - User is solely responsible for his/her words