مینارِ پاکستان ہراسانی کیس: پولیس ’نظر نہ آنے والے‘ درجنوں ملزمان تک کیسے پہنچی؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو لاہور

مینار پاکستان
Getty Images
لاہور میں مینارِ پاکستان کے عین نیچے ایک خاتون کو مردوں کا ایک ہجوم دست درازی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ ہجوم میں شامل افراد کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ وہ لگ بھگ بیس سے پچیس منٹ تک خاتون کو ہراساں کرتے رہے۔

اسی وقت پاس ہی موجود کئی افراد نے اپنے موبائل فونز کے ذریعے اس واقعے کی ویڈیوز بنا لی تھیں۔ ان میں سے چند ویڈیوز جب سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئیں تو اس واقعے کے بارے میں علم ہوا اور پولیس پر کارروائی کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

جب پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں تو سوشل میڈیا صارفین کی بنائی ہوئی ویڈیوز کارآمد ثابت ہوئیں۔ لیکن ان ویڈیوز کے ذریعے پولیس محض چند مرکزی کرداروں کی شناخت ہی کر پائی جبکہ ہجوم میں درجنوں افراد ایسے تھے جو خاتون کو ہراساں کرنے میں ملوث تھے۔

اس ویڈیو میں نظر آنے والے بہت سے افراد کی شناخت ممکن نہیں تھی۔ متاثرہ خاتون کے لیے بھی ممکن نہیں تھا کہ وہ تمام تر افراد کی شکلیں دیکھ پاتیں یا یاد رکھتیں۔ ایسے لوگ شاید سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ بظاہر محفوظ ہیں کیونکہ ویڈیوز میں ان کے چہرے نظر نہیں آ رہے تھے۔

ویڈیوز سے حاصل کردہ تصاویر اور نادرا کی مدد

لیکن پھر بھی کوئی انھیں دیکھ رہا تھا اور پولیس بلآخر اُن تک پہنچ گئی۔ لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس اس وقت تک 130 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کر چکی ہے جن میں سے کچھ کا تعلق لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں سے ہے۔

ان گرفتاریوں کا ایک طریقہ انتہائی سادہ تھا۔ پولیس نے جن افراد کو ابتدائی طور پر گرفتار کیا ان کی فراہم کردہ معلومات کی مدد سے ان کے معاونین اور ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یوں درجنوں افراد پولیس کے ہتھے چڑھے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی پنجاب پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر 30 ویڈیوز جمع کی گئیں اور ان کی مدد سے مشتبہ افراد کی 60 تصاویر حاصل کی گئیں۔ یہ تصاویر شناختی دستاویزات کا اجرا کرنے اور ریکارڈ رکھنے والے ادارے نادرا کو بھیجی گئیں۔

جیو

Getty Images

اس رپورٹ میں انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس نے بتایا کہ ’نادرا نے اس طریقے سے نو افراد کی شناخت کی، جن کی اس روز جائے وقوعہ پر موجودگی کے حوالے سے دیگر طریقوں سے بھی تصدیق کر لی گئی تھی۔‘

انسپکٹر جنرل آف پولیس کے مطابق ان نو افراد سے پوچھ گچھ کے ذریعے مزید گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور اس طریقہ کار سے کل 92 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا تھا جن کے اس واقعے سے تعلق کے بارے میں جانچ کی جا رہی تھی۔

اسی رپورٹ میں آئی جی پنجاب نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پولیس نے کل 730 مشکوک افراد میں سے 407 افراد کو انٹرویو کیا تھا۔ ان میں سے 130 کو تاحال گرفتار کیا جا چکا تھا۔

تو پولیس ان افراد تک کیسے پہنچی جنھیں نہ تو عینی شاہدین نے دیکھا، نہ سکیورٹی کیمروں کی مدد سے ان کی واضح تصاویر مل سکیں اور نہ ہی ان کے کوئی ساتھی ابتدائی طور پر پولیس کے ہتھے چڑھے؟

ان میں زیادہ تر افراد ان 400 سے زائد مشتبہ افراد میں شامل تھے جن سے پولیس نے پوچھ گچھ کی تھی۔ پولیس کو یہ کیسے یقین ہوا کہ یہی افراد اس روز ہجوم میں موجود تھے؟

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جب ان مشتبہ افراد کو اور کوئی نہیں دیکھ رہا تھا تو ان کے پاس موجود ان کے اپنے موبائل فون انھیں دیکھ رہے تھے۔ پولیس انھی کی مدد سے ان افراد تک پہنچی۔ پنجاب پولیس تحقیقات کے اس طریقے کو ’جدید طریقہ‘ یا ’جیو فینسنگ‘ کا نام دیتی ہے۔

جیو فینسنگ سے پولیس کو کتنی مدد ملی؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لاہور پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ جیو فینسنگ کی مدد سے سینکڑوں مشکوک افراد کی مینارِ پاکستان پر اس روز موجودگی کے حوالے سے معلومات ملیں جن کی مدد سے جلد ملزمان تک پہنچنا ممکن ہو پایا۔

تاہم پولیس اہلکار کے مطابق وہ جیو فینسنگ کے طریقہ کار کی زیادہ تفصیلات اس لیے نہیں دے سکتے تھے کیونکہ پولیس اس طریقہ کار کو مجرموں تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتی ہے اور اس کے کام کرنے کا طریقہ جان لینے سے مجرموں کو مدد مل سکتی تھی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جیو فینسنگ کے لیے پولیس کو دیگر انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ آئی جی پولیس نے بھی اپنی رپورٹ میں سپریم کورٹ کو بتایا کہ انھوں نے جیو فینسنگ کے لیے انٹیلیجنس ایجنسیوں سے مدد حاصل کی۔

جیو فینسنگ کیا ہے؟

جیو فینسنگ بنیادی طور پر ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ایک مخصوص علاقے کے گرد ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل فینس یا حد مقرر کر دی جاتی ہیں۔ پھر ایک خاص وقت کے دوران اس حد کے اندر موجود موبائل فونز کا پتہ چلایا جاتا ہے۔

بی بی سی نے جیو فینسنگ اور اس جیسے ان دیگر طریقوں کے حوالے سے سکیورٹی امور کے ماہر سلمان طارق سے بات کی جن کی مدد سے پنجاب پولیس مینارِ پاکستان وقوعہ کے ملزمان تک پہنچی تھی۔ تاہم ان تفصیلات کو شائع نہیں کیا جا رہا جن سے کوئی مجرمانہ عناصر فائدہ اٹھا پائیں۔

جیو فینسنگ کا طریقہ دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کئی سالوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ اس طریقے میں گوگل جیسی کمپنیوں کی مدد سے تحقیقاتی ادارے کسی خاص مقام پر کسی خاص وقت پر پائے جانے والے افراد کا ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔

تاہم ایسا کرنے سے قبل انھیں عدالت سے اجازت نامہ یا وارنٹ لینا ضروری ہوتا ہے۔ سلمان طارق کے مطابق پاکستان میں صرف انٹیلیجنس ایجنسیاں قانونی طور پر اس قسم کے ڈیٹا تک رسائی کی مجاز ہیں۔

سلمان طارق کے بقول ’ان کے مانگنے پر تمام تر موبائل کمپنیاں انھیں ایسا ڈیٹا فراہم کرنے کی پابند ہیں۔ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کے پیشِ نظر چند سال قبل یہ قانون سازی کی گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو جب جیو فینسنگ کرنا ہو تو وہ انٹیلیجنس اداروں کی مدد حاصل کرتی ہے۔

جیو

Getty Images

پولیس کو کتنے مشکوک افراد ملے، کتنوں سے پوچھ گچھ ہوئی؟

سکیورٹی اُمور کے ماہر سلمان طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طریقہ کار کی مدد سے پولیس یہ بھی جان سکتی تھی کہ اس روز وقوعہ کے وقت کتنے اور کون سے افراد کے موبائل فون مینارِ پاکستان کے عین نیچے موجود تھے۔

اس علاقے میں موجود مشتبہ فونز کا ڈیٹا حاصل کر لینے کے بعد ان کا ڈیٹا نادرا کو بھجوایا جاتا تھا جس کی مدد سے ان کی تصویری شناخت کی جاتی ہے اور دیگر معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ کمپیوٹرائزڈ ہونے کی وجہ سے یہ عمل انتہائی تیز رفتاری سے ہوتا تھا۔

آئی جی پنجاب کی رپورٹ کے مطابق جیو فینسنگ کی مدد سے ’گریٹر اقبال پارک میں ایک مخصوص علاقے کے اندر 14 اگست کو شام 6:30 بجے سے لے کر 7:40 منٹ تک 28863 کالوں کر ریکارڈ ملا۔‘

ان کو ایک تجزیاتی عمل سے گزارنے اور نادرا کے ذریعے تصدیق کے بعد پولیس ان 730 مشتبہ افراد تک پہنچی جن میں سے 400 سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے چُنا گیا۔ پولیس کے مطابق ان میں سے زیادہ تر افراد کو قانون کے مطابق شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجا جا چکا تھا۔

ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جیو فینسنگ کے لیے وقت کا تعین سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے کیا گیا تھا جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ متاثرہ خاتون کس وقت گریٹر اقبال پارک میں داخل ہوئی تھیں اور کب وہاں سے باہر نکلیں۔

مشکوک افراد کی شناخت میں سیف سٹی کے کیمرے کتنے مؤثر تھے؟

سکیورٹی کے ماہر سلمان طارق کے مطابق اس طریقہ کار سے پولیس قانونی طور پر عدالت میں بھی یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ ملزم اس وقت جائے وقوعہ پر موجود تھا۔

سلمان طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ پاکستان کے کم از کم دو شہروں لاہور اور اسلام آباد میں سیف سٹی اتھارٹی کے تحت نصب ہونے والے کیمروں سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہت مدد مل رہی تھی۔

’ان کیمروں کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے باآسانی مشکوک افراد کے سکین یا تصاویر کے پرنٹس حاصل کر سکتے تھے جن کی تصدیق نادرا کے سسٹم کے ذریعے باآسانی اور جلدی کی جا سکتی تھی۔ ساتھ ہی ان افراد کی معلومات حاصل ہو جاتی تھیں۔‘

کیا یہ شواہد عدالت میں قابلِ قبول ہیں؟

آئی جی پنجاب نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پولیس نے وقوعہ کی تحقیقات کے آغاز ہی میں ایک خاص ٹیم تشکیل دے دی تھی جس کا کام تمام تر ڈیجیٹل شواہد یعنی سوشل میڈیا وغیرہ پر موجود ویڈیوز اور تصاویر کو حاصل کرنا اور ان کا فرانزک تجزیہ کرنا تھا۔

’اس ٹیم ہی کو جیو فینسنگ کی مدد سے جائے وقوعہ پر موجود مشکوک افراد کا پتہ لگانے اور ان کے کالوں کے ریکارڈ وغیرہ سے بھی اس کی تصدیق کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔‘

سلمان طارق کے مطابق اگر گرفتار کیا گیا کوئی شخص عدالت میں پولیس کے اس دعوے کو چیلنج کرتا تھا کہ اس کو غلط گرفتار کیا گیا تو ’پولیس سی ڈی آر یعنی کال ریکارڈ اور جیو فینسنگ ڈیٹا کی مدد سے یہ ثابت کر سکتی تھی کہ وہ اس مقام پر موجود تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں محض ویڈیو بطور ثبوت قابلِ قبول ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ’اس لیے پولیس ویڈیوز کا فرانزک یا سائنسی تجزیہ کرواتی ہے تاکہ ان ڈیجیٹل شواہد کو عدالت میں قابلِ قبول بنا جا سکتے اور ملزمان کو سزا دلوانے میں مدد ملے۔‘

یہ بھی پڑھیے

چار سو اور باقی ہم سب

وہ صبح کبھی تو آئے گی: آمنہ مفتی کا کالم

وسعت اللہ خان کا کالم: علامہ اقبال کی خود کشی!

رکشہ کیس میں پولیس کو کتنی کامیابی حاصل ہوئی تھی؟

مینارِ پاکستان کے بعد ایک خاتون کو ہراساں کرنے کے ایک اور واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں ایک رکشے میں سوار ایک خاتون کو ایک شخص نے زبردستی بوسہ دینے کی کوشش کی تھی۔

لاہور پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق اس ویڈیو کے حوالے سے بھی چند مشکوک افراد سے پوچھ گچھ کی جارہی تھی۔ ’ہر پہلو سے تصدیق کی جا رہی تھی کہ پولیس صحیح افراد تک ہی پہنچے اور کوئی بے گناہ نہ پھنس جائے۔‘

اس ویڈیو میں بھی خاتون کو ہراساں کرنے والے شخص کی پشت نظر آ رہی تھی اور چہرہ واضح نہیں تھا۔ پولیس کے مطابق ویڈیو کا بھی فرانزک تجزیہ کیا جا رہا تھا۔ تاہم تاحال متاثرہ خاتون نے باضابطہ طور پر کارروائی کے لیے پولیس کو درخواست نہیں دی تھی۔

سکیورٹی امور کے ماہر سلمان طارق کے مطابق اس صورت میں بھی اگر متاثرہ خاتون سامنے نہیں آتیں اور مشکوک شخص کی شناخت نہیں کرتیں تو پولیس کو روایتی طریقہ تحقیقات سے ملزم کر گرفتار کرنے کے بعد جائے وقوعہ پر اس کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے جیو فینسنگ سے مدد مل سکتی تھی۔

پولیس کے ردِ عمل میں تاخیر ہوئی یا نہیں؟

دوسری جانب پولیس کی ایک تین رکنی تحقیقاتی ٹیم یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ مینارِ پاکستان کے واقعے میں پولیس متاثرہ خاتون کی مدد کو پہنچی تھی یا نہیں۔ اگر پہنچی تھی تو کیا ردِ عمل میں تاخیر کی گئی تھی اور اگر ایسا تھا تو اس کا ذمہ دار کون تھا۔

اس ٹیم نے تاحال اپنی رپورٹ آئی جی پنجاب کو جمع نہیں کروائی تھی۔ یاد رہے کہ پنجاب حکومت کے احکامات پر پہلے ہی ‘پولیس کی طرف سے ردِ عمل میں تاخیر پر’ ڈی آئی جی آپریشنز سمیت چار پولیس افسران کو معطل یا عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words