افغانستان سے انخلا کا فیصلہ جس نے امریکہ اور برطانیہ کے ’خاص رشتے‘ کی قلعی کھول دی

جان سوپل - مدیر شمالی امریکہ

چند دن قبل جب افغانستان افراتفری کا شکار ہو رہا تھا تو اسی دوران میں سوچ رہا تھا کہ گیارہ ستمبر 2001 کے واقعے کے 20 سال مکمل ہونے پر کچھ لکھا جائے۔ لہذا میں نے اپنی یاداشتوں کو کھنگالنا شروع کیا اور امریکہ کی سرزمین پر ہونے والے ان حملوں کے بعد اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کو دوبارہ سُنا۔

امریکہ کی تاریخ کے اس انتہائی سنجیدہ لمحے میں بھی حاضرین میں سے ایک شخص کی بہت تعریف کی گئی اور اس کے لیے تالیاں بھی بجائی گئیں اور وہ شخص تھے، اُس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر۔ ٹونی بلیئر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ’خاص رشتے‘ پر کامل یقین رکھتے تھے۔

ان پر اکثر یہ تنقید بھی کی جاتی تھی کہ وہ ’غلامانہ‘ حد تک اس خاص رشتے کو اہمیت دیتے ہیں۔ وہ بہت تیز تھے۔۔۔ لبرل خیالات کے حامل بل کلنٹن کو گرمجوشی سے گلے لگانے اور اس کے بعد قدامت پسند جارج ڈبلیو بش سے گلے ملنے میں انھوں نے کوئی توقف نہیں کیا۔

اس کا انحصار آپ کے نکتہ نظر پر ہے کہ آپ اسے فرمابرداری کہیں یا بزدلی کہ وہ امریکی مہمات میں سر جھکا کے شامل ہوتے رہے جن میں سے خاص طور پر عراق پر حملہ تھا۔

وزارت اعظمیٰ کا قلمدان چھوڑنے کے بعد بھی جب براک اوباما اور ان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں براجمان تھے، اور اگر ٹونی بلیئر کو تنقید کرنا ہوتی تھی تو وہ اس قدر گھما پھرا کر کرتے تھے کہ اس کو سمجھنے کے لیے آپ کو خفیہ پیغامات کو سمجھنے کا ماہر ہونا چاہیے۔

گذشتہ اتوار ناشتے کی میز پر جب انھوں نے جو بائیڈن کی افغان پالیسی کو بیان کرنے کے لیے ’احمقانہ‘ کا لفظ استعمال کیا تو مجھے تقریباً پھندا لگتے لگتے رہ گیا۔

انھوں نے احمق کا لفظ امریکی صدر کے لیے استعمال نہیں کیا، لیکن ذرائع ابلاغ کی خاص سمجھ بوجھ رکھنے والے بلیئر کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ اِس ہی طرح لکھا اور سمجھا جائے گا جیسا کہ انھوں نے یہ ہی کہا ہے۔ اور یقینی طور پر یہ ہی شہ سرخیاں لگائی گئیں کہ ’بلیئر نے بائیڈن کو احمق کہہ دیا۔‘

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ’یہ صرف افغان شہریوں کا معاملہ نہیں ہے یہ ہماری سکیورٹی کا بھی مسئلہ ہے۔‘

بالکل۔۔۔ وہ چودہ سال پہلے وزیر اعظم تھے اور اب وہ جو چاہیں کہہ سکتے ہیں۔ لیکن کیا آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اگر وہ آج وزیر اعظم ہوتے تو انھوں نے کبھی بھی اخبارات میں اشاعت کے لیے ایسی رائے کا اظہار کرنے کی جرات نہیں کی ہوتی۔ اس کا قطعی کوئی امکان نہیں تھا۔ خاص یا خصوصی رشتے اِس طرح نہیں چلتے۔ لیکن میں شرط لگا کر کہہ سکتا ہوں کہ بورس جانسن اس طرح کی بات کرنے کے لیے بے قرار ہوں گے۔

ڈاؤنگ سٹریٹ (برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ) کی تردیدوں کے باوجود اخبارات اور جرائد میں اس طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یقینی طور پر بورس جانسن نے امریکی صدر جو بائیڈن کے فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے افغان بحران پر اِن ہی الفاظ میں تبصرہ کیا۔

بلاشبہ اِس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ برطانوی وزیر اعظم کے بہت سے فیصلوں پر کئی اعتراضات کیے جا سکتے ہیں اور میں نے برطانیہ سے تین ہزار میل دور بیٹھے افغانستان کے معاملے پر بورس جانسن پر بے شمار تنقید ہوتے دیکھی ہے، لیکن سچی بات یہ ہے انخلا کے فیصلے پر ان پر کوئی تنقید نہیں کی جا سکتی۔

یہاں میں بورس جانسن سے کوئی نرمی نہیں برت رہا اور نہ ہی میں ان کی طرف سے وضاحتیں پیش کر رہا ہوں۔ یہ حقیقت پر مبنی ایک بیان ہے، ’خاص رشتے‘ پر جب بات عملی اقدام کی آتی ہے یا جب امریکہ کو کسی بات پر پریشانی ہوتی ہے تو یہ خاص رشتہ اتنا خاص نہیں رہتا۔

افغانستان کے بارے میں امریکہ نے یکطرفہ طور پر فیصلہ کیا یا جو بائیڈن نے یہ یک طرفہ فیصلہ کیا ہے، جو بھی ہے مگر امریکی انتظامیہ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ برطانیہ اس پر کیا سوچتا ہے۔ میری معلومات کے مطابق جو بائیڈن کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ خفیہ ادارے اور فوج کی اعلیٰ قیادت کن خدشات کا اظہار کرتے ہیں یا لندن کی طرف سے کن خطرات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ وہ نکلنا چاہتے تھے۔ جتنا مجھے علم ہے برطانوی شاہی حکومت کی طرف سے بہت شدت سے ان خطرات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن واشنگٹن میں ان پر کسی نے کان نہیں دھرا اور ان پر کوئی توجہ نہیں دی۔

اس صورتحال کا تجزیہ مجھے زرا ذاتی سوچ سے ہٹ کر کرنے دیجیے کہ آخر برطانوی وزیر اعظم کیا کر سکتے تھے۔ اگر ایک آٹھ سو پاؤنڈ کا گوریلا کمرے سے باہر جانا چاہتا ہو تو ایک چھوٹے سے لنگور کو کیا کرنا چاہیے۔

یہ سوچ کہ امریکہ کی افواج سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے برطانیہ کی افواج کو جانا چاہیے تھا بالکل غیر حقیقت پسندانہ ہو گی۔

برطانیہ کی وزارت دفاع کے پاس جتنے مرد اور خواتین وردی میں ہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے پاس افغانستان سے نکلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا یا پھر وہ بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانے کے لیے تیار ہو جاتیں اور اس کے باوجود شاید وہ طالبان کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیاب نہ ہوتی۔

امریکی فٹ بال کے کھیل کی زبان میں کہتے ہیں کہ امریکہ نے مقابلہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور برطانیہ کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ وہ اس فیصلے کے ساتھ کھڑا نہ ہوتا۔

جیسا کہ میں کہتا ہوں یہ ڈاؤنگ سٹریٹ کے موجودہ رہائشیوں کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اس مشہور گھر میں آنے والے ہر شخص کی بات ہے۔

امریکہ کے صدر نے جب کوئی فیصلہ کر لیا ہو تو اسے برطانوی وزیر اعظم روک سکتا ہے، یہ سوچنا بھی ایک بڑھک سے کم نہ ہو گا۔ بورس جانسن زیادہ سے زیادہ کیا کہنا چاہتے تھے ’بائیڈن معذرت کے ساتھ میں تمہیں یہ کرنے سے منع کرتا ہوں۔‘

برطانیہ میں کچھ اخبارات میں یہ بھی کہا گیا کہ اس وقت جب رونلڈ ریگن وائٹ ہاؤس میں تھے اور مارگریٹ تھیچر ڈاؤنگ سٹریٹ میں رہتی تھیں اور یہ خاص رشتہ انتہائی مضبوط تھا، تو ایسا سوچنا بھی مشکل تھا۔ کیا آپ مجھے بیوقوف بنا رہے ہیں؟ کیا کسی کو یاد ہے کہ جزائر غرب الہند کے جزیرے پر سنہ 1983 میں کیا ہوا تھا۔

اس وقت سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اور ’ڈومینو تھیوری‘ موجود تھی اور امریکہ کے پچھواڑے ایک بغاوت ہو گئی۔ مارکسسٹ سازشیوں نے وزیر اعظم کو پکڑ کر قتل کر دیا۔ اس کا بھرپور قوت سے جواب دینا ضروری تھا اور امریکہ نے پوری طاقت سے ’آپریشن ارجنٹ فیوری‘ کے نام سے کارروائی کی۔

لندن کی ڈاؤنگ سٹریٹ میں بھی غصہ پایا جاتا تھا اور اس کا اظہار مارگریٹ تھیچر کر رہی تھیں اور وہ ان کی راہ میں ہر شخص کو روندنے کے لیے تیار تھیں۔ رونلڈ ریگن نے اس کے باوجود کہ گرینیڈا دولت مشترکہ کے ملکوں میں شمار ہوتا تھا برطانیہ کو بتانا بھی گوارا نہیں کیا۔

برطانیہ اور شاہی خاندان کے لیے کافی ہتک آمیز بات تھی اور اس پر اس وقت کی حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کو حکومت پر چڑھائی کرنے کا ایک بہترین موقع مل گیا۔ لیکن امریکہ کو اس بات کی کوئی پراوہ نہیں تھی۔

اس موقع پر اس وقت کے حزب اختلاف کے رہنما اور شیڈو خارجہ سیکریٹری ڈینس ہیلی نے سابقہ خارجہ سیکریٹری کو برطانوی درالعوام میں طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ جب امریکہ کہتا ہے کہ چھلانگ لگاؤ تو خارجہ سیکریٹری کہتے ہیں کتنی اونچی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس طنز میں گہرا اور کڑوا سچ چھا ہوا تھا۔

برطانیہ اعتدال پسندی اور دانشمندی سے کام لینے کا کہہ سکتا ہے لیکن جیسا کہ برطانیہ کے آئین کے تحت لوگوں کے ووٹ سے وجود میں آنے والے دارالعوام اور غیر منتخب نامزد لوگوں پر مشتمل دارالعمرا کے پیچیدہ تعلقات ہیں بالکل اسی طرح سے طاقتور امریکہ اور اس سے کہیں کمزور برطانیہ کے ہیں۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ سنہ 1941 میں طے پانے والا ‘لینڈ لیز ایکٹ’ مکمل طور پر امریکہ کے مفاد میں تھا جب چرچل نے امریکی جنگی جہازوں کو خریدنے کے لیے بھاری قیمت ادا کی تھی۔ اس کے بعد نہر سویز بحران کے وقت امریکہ نے برطانیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے فرانس اور اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر جو حملہ کیا ہے اسے نہ روکا تو وہ اسے دیوالیہ کر دے گا۔

میں اس نوعیت کی بے شمار دوسری مثالیں پیش کر سکتا ہوں جبکہ امریکہ نے برطانیہ کے احساسات اور جذبات کی پرواہ کیے بغیر اقدامات کیے ہوں۔ میں گذشتہ سات سال سے واشنگٹن میں ہوں اور میں نے اسے بڑے قریب سے دیکھا ہے۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وائٹ ہاؤس میں ڈیموکریٹ پارٹی کا صدر ہو یا رپبلکن پارٹی کا اور برطانیہ اپنی کل سالانہ پیداوار کا کتنا حصہ اپنے دفاعی بجٹ پرخرچ کرتا ہے اور ہم چینی کمپنیوں سے کیا ٹیکنالوجی حاصل کرتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام پر کیا فیصلہ کرتا اور اس طرح کے اور بہت سے دوسرے امور ہیں۔

دراصل میں بہت خشک آدمی ہوں اور سفارتی خط و کتابت کو بہت غور سے پڑھتا ہوں۔ میں اس چیز کو اجاگر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ گذشتہ منگل کی شام کو جو بائیڈن اور جانسن کے درمیان ہونے والی فون کال جس کا متن ڈاؤنگ سٹریٹ نے شائع کیا اس میں امریکہ کو دبے دبے الفاظ میں ڈانٹا گیا۔

ایک پیراگراف میں جب اس چیز پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں گذشتہ 20 سال میں کی گئی تمام کوششیں اور مثبت کام ضائع نہ ہو جائیں، یہ اس قدر دبے دبے لفظوں میں کہا گیا کہ اس کا کوئی اثر نہیں رہا لیکن میں نے آپ کو یہ کہتے ہوا سُنا۔

اور آپ درست کہتے ہیں یہ برطانیہ کی طرف سے کوئی ایسا پیغام نہیں تھا جس سے امریکہ کو کوئی پریشانی ہو لیکن یہ کیا تھا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words