مینار پاکستان کے واقعے کے بعد پارکوں کے لیے نئی ہدایات کیا ہیں؟

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

مینار پاکستان
Getty Images
لاہور مینار پاکستان میں 14 اگست کے موقع پر ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کے معاملے کے بعد کئی حلقوں کی طرف سے مختلف قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟ کیا خواتین محفوظ ہیں؟ کیا ادارے اور حکومت اپنا کام کر رہے ہیں؟ قانون کی بالادستی کیوں نہیں نظر آتی؟ وغیرہ وغیرہ۔

جب بھی کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو متعلقہ اداروں اور حکومت کی طرف سے مختلف قسم کے اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ آئندہ ایسا جرم ہونے سے روکا جا سکے۔ یعنی ہر نئے واقعے کے ساتھ نئی تجاویز بھی سامنے آتی ہیں۔ حال ہی میں مینار پاکستان میں پیش آنے والے واقعے کے بعد بھی ایسی باتیں کی گئیں۔ لیکن ایک تجویز جو اس واقع کے بعد سامنے آئی وہ یہ تھی کہ ٹک ٹاکروں اور یوٹیوبروں کا پنجاب کے پارکوں میں داخلہ بند کیا جائے۔

اس تجویز سے متعلق گردش کرتی خبریں سن کر ڈیجیٹل دنیا سے جڑے یوٹیوبر اور ٹاک ٹاکروں سمیت کئی لوگوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے لگے۔ جیسا کہ یہ کیسے ممکن ہوگا؟ مجھ سے ایک دوست نے پوچھا کہ کیا گیٹ پر ان کی تصویریں دیں گے؟ لیکن آج کل کو ہر دوسرا شخص یہی کر رہا ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کو کیسے پتا چلے گا کہ یہ عام شہری ہے یا نہیں۔۔۔۔

ہم پارک میں گھومنے جائیں گے تو کیا ویڈیو یا تصویریں نہیں بنا سکتے ہیں؟ کچھ ایسی باتیں بھی سننے میں آئیں کہ شاید پارک میں داخلے کے لیے فیملی کا ساتھ ہونا ضروری ہوگا۔ آخر ہوگا کیا؟ ان تمام سوالات کے جواب لینے کے لیے بی بی سی کی جانب سے چئیرمین پارکس اینڈ ہارٹیکلچر (پی ایچ اے) یاسر گیلانی سے رابطہ کیا گیا جس پر انھوں نے کہا کہ کے یہ تمام باتیں اور تجاویز پہلے ہی زیر بحث آچکی ہیں اور ہمارے بورڈ ممبروں نے یہ مشورے دیے ہیں۔ ’لیکن ہم باضابطہ طور پر کسی پر پابندی نہیں لگا رہے ہیں اور نا ہی یہ ممکن ہے۔ البتہ اگر کسی نے پارک نے کمرشل ویڈیو بنانی ہے تو اس کے لیے پہلے بھی پی ایچ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ جس کے بعد اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے۔ جہاں تک رہی بات ٹک ٹاک کی تو اس پر تو پہلے ہی پی ٹی اے نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔‘

مزید پڑھیے:

مینارِ پاکستان کیس: پولیس ’نظر نہ آنے والے‘ درجنوں ملزمان تک کیسے پہنچی؟

مینارِ پاکستان کیس: 66 ملزمان گرفتار، خاتون کو سرعام ہراساں کرنے کی ایک اور وائرل ویڈیو پر تحقیقات شروع

’مینار پاکستان میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ہاں، ہم یہ ضرور کرنے جا رہے ہیں کہ ہم نے تمام پارکس کی سیکورٹی پہلے سے زیادہ کر دی ہے اور سیکورٹی اہلکاروں کو چوکنا رہنے کا کہا ہے۔ یہی نہیں ہم نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ کسی تہوار یا پبلک ڈے کے موقع پر لوگوں پر خصوصی نظر رکھی جائے گی کون کس قسم کی وڈیو بنا رہا ہے اور یہ کام ہمارے اہلکار سر انجام دیں گیں۔ اور اگر کوئی شخص غیر اخلاقی ویڈیوز بناتا نظر آتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے علاوہ اس بات کا بھی خیال رکھے گا کہ اگر کہیں ہجوم ہے تو اسے اس انداز میں سنبھالا جائے کہ کوئی بد نظمی نا ہو۔ اسی طرح ہم نے اپنے سیکورٹی اہلکاروں کو یہ بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پارکوں کے اندر بھی گشت کریں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرا ماننا ہے کہ لاہور شہر کے لوگ خاصے مہذب ہیں اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔‘

اس بارے میں پنجاب حکومت کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پی ایچ اے کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام پارکوں کے اندر سی سی ٹی وی کیمروں کے نظام کو بہتر کیا جائے گا اور پی ایچ اے کی سیکورٹی کے علاوہ ان کی معاونت کرنے کے لیے پولیس اہلکار بھی پارکوں میں موجود ہوں گے تاکہ ایسا ناخوشگوار واقعہ دوبارہ نا ہو۔

حکومت کے اس فیصلے کے بعد یہ دیکھا گیا ہے کہ شہر کے مختلف پارکوں کے گیٹ پر دو دو پولیس اہلکارا تعینات ہیں جو اس سے پہلے نظر نہیں آتے تھے۔ تاہم اس واقعے سے جڑے سوالات آج بھی وہیں موجود ہیں کہ جب یہ واقعہ رونما ہو رہا تھا تو سیکورٹی اور پولیس اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر اس لڑکی کو کیوں نہیں بچایا؟ یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان سوالات کے تسلی بخش جوابات نا ملنے پر چند اعلیٰ افسران کو ان کے عہدوں سے بھی ہٹایا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words