سپریم کورٹ: کرنل (ر) انعام الرحیم غداری اور جاسوسی کے الزامات سے بری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاپتا افراد کے مقدمات پر کام کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ کو جاسوسی اور غداری کے الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کے خلاف کیس ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔ ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر معذرت چاہتے ہیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کے بیان کے بعد کیس نمٹا دیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم بینچ میں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو کرنل انعام الرحیم روسٹرم پر پہنچے۔ اس موقع پر بینچ میں شامل جسٹس قاضی امین نے انہیں دیکھ کر کہا کہ کرنل صاحب کے خلاف تو کئی کیس ہی نہیں ہے۔

اس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔ ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔

خالد جاوید نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ آرمی ایکٹ کے تحت کسی عام شہری کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر گرفتاری ضروری ہو تو اس کے لیے ایک طویل طریقۂ کار ہے۔ لہذا عام شہریوں کی آرمی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے حوالے سے فیصلہ دیا جائے کیوں کہ بعض افراد کو گرفتار کرنا پڑتا ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ "ہم یہاں تعلیمی بحث کے لیے نہیں بیٹھے کہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلین افراد کی گرفتاری کا حق ہے یا نہیں۔ جب ان کے خلاف کوئی کیس ہی نہیں تو پھر ان کے خلاف بحث ختم کی جائے۔”

جسٹس عمر عطا بندیال نے کرنل انعام الرحیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب تو آپ کو رات کو کوئی تنگ تو نہیں کرتا۔ جس پر کرنل انعام نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نہیں اب کوئی تنگ نہیں کرتا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس نمٹانے کا اعلان کیا۔

کرنل (ر) انعام الرحیم لاپتا، جاسوسی کا کیس

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو 17 دسمبر 2019 کو ان کی رہائش گاہ سے نامعلوم افراد اغوا کر کے لیے گئے تھے جس پر راولپنڈی کے تھانہ مورگاہ میں ان کے بیٹے کی مدعیت میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

تاہم نو جنوری 2020 کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ان کی گرفتاری اور حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ان کی رہائی کے احکامات کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا اور وزارتِ دفاع نے 13 جنوری 2020 کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے درخواست کی کہ ان کی رہائی کا حکم نامہ معطل کیا جائے۔

عدالت کی طرف سے وجوہات پوچھنے پر اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ جب وزارتِ دفاع کے ماتحت اداروں نے انعام الرحیم کے گھر پر چھاپہ مارا تو ان کے زیرِ استعمال لیپ ٹاپ سے بہت سا مواد ملا جس کے مطابق وہ ایک جاسوس ہیں۔ ان کے لیپ ٹاپ سے پاکستان کے جوہری اثاثوں، آئی ایس آئی اور کچھ دیگر افراد کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ کرنل انعام الرحیم کا ایک نیٹ ورک ہے اور ان سے ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں کئی گرفتاریاں ہونی ہیں۔

عدالت نے معلومات کی روشنی میں لاہور ہائی کورٹ کا رہائی کا حکم نامہ معطل کر دیا تاہم 23جنوری 2020 کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت میں وزارتِ دفاع نے ان کی رہائی کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا پاسپورٹ جمع کر لیا جائے اور لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ بتایا جائے تو وہ ان کی رہائی کے لیے تیار ہیں۔

وزارتِ دفاع نے قبل ازیں لیپ ٹاپ سے حساس معلومات حاصل ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ کرنل انعام الرحیم کے بیٹے نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد کا لیپ ٹاپ کوئی بھی نہیں لے کر گیا اور وہ ان کے قبضہ میں ان کے گھر پر موجود ہے۔

23 اور 24 جنوری 2020 کی درمیانی رات کرنل انعام الرحیم کو رہا کر دیا گیا جس کے بعد مختلف اوقات میں یہ کیس عدالت میں چلتا رہا۔

مجھ پر جاسوس کا لگا داغ ختم ہو گیا: انعام الرحیم

کرنل انعام الرحیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ مجھ پر لگایا گیا ایک جھوٹا الزام ختم ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ راولپنڈی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ آرمی ایکٹ کے تحت کسی عام شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی کو گرفتار کرنا مقصود ہو تو سیشن جج سے وارنٹ حاصل کرنے کے بعد گرفتاری کی جا سکتی ہے۔

کرنل انعام الرحیم نے کہا کہ جب لاہور ہائی کورٹ میں رہائی کا فیصلہ سامنے آیا۔ لاہور ہائی کورٹ کا حکم نامہ ابھی بھی موجود ہے جس کے مطابق پاکستان کی فوج کسی بھی سویلین کو گرفتار نہیں کر سکتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس ابھی بھی 400 سے زائد کیسز ہیں جن میں لاپتا افراد کا معاملہ شامل ہے۔ وہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کون ہیں؟

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم پاکستان کی فوج کے 62 ویں لانگ کورس میں شریک تھے اور فوج کی شعبہ قانون یعنی جیگ برانچ سے تعلق رکھتے تھے۔

سال 2007 میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد 2008 میں راولپنڈی میں قانون کی پریکٹس شروع کی۔

کرنل انعام الرحیم اس وقت میڈیا کی نظروں میں آئے جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر حملہ کے الزام میں گرفتار رانا فقیر اور دیگر ملزمان کا کیس کوئی وکیل لینے کو تیار نہیں تھا اور کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے یہ کیس لیا اور عدالت میں ان کا دفاع کیا۔

اس کیس کے علاوہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم مختلف کیسز میں لاپتا افراد کی طرف سے عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔ ان پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے ۔

وہ اس وقت بھی ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ جب کہ صحافیوں کے خلاف کیسز میں ان کی مدد کے لیے بننے والی پاکستان بار کونسل کی وکلا ٹیم میں بھی شامل ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3106 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments