آٹھ لاکھ پاؤنڈ کے ٹیکس فراڈ کے بعد پاکستان فرار ہونے والے مجرم کو قید کی سزا

برطانیہ میں ٹیکس فراڈ کے بعد آٹھ سال سے مفرور شخص کو چار سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

محمد تنویر خان کو 2013 میں 8 لاکھ پاؤنڈ ’ویلیو ایڈڈ ٹیکس‘ (وی اے ٹی) کے معاملے میں دھوکہ دہی کا مجرم قرار دیا گیا تھا جس کے بعد وہ پاکستان بھاگ گئے تھے۔

سٹاک پورٹ کے ایک علاقے کے اس 66 سالہ رہائشی کو 13 اگست کو برطانیہ واپس آنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

مانچسٹر کی ایک عدالت نے انھیں پہلے دی جانے والی ساڑھے تین سال قید کی سزا میں مفرور ہونے کے جرم میں چھ ماہ کا اضافہ بھی کیا ہے۔

برطانیہ کے کسٹمز کے ادارے ’ایچ ایم ریونیو اینڈ کسٹمز‘ (ایچ ایم آر سی) نے کہا ہے کہ محمد تنویر خان نے پاکستان کی جانے والی جعلی برآمدات کی 350 سے زائد جھوٹی رسیدیں جمع کرائی تھیں۔

سزا سنائے جانے سے قبل مئی 2013 میں فرار ہونے کے بعد انھیں ’20 انتہائی مطلوب’ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

ایچ ایم آر سی کی فراڈ انویسٹی گیشن سروس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈن نوبلٹ نے کہا کہ ‘خان نے ٹیکس دہندگان کی آٹھ لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم چوری کی اور سوچا کہ وہ سزا سے بچ سکتے ہیں، لیکن اب انھیں اپنی سزا پوری کرنا ہوگی۔‘

ایچ ایم آر سی نے کہا کہ خان نے 2006 اور 2011 کے درمیان جھوٹی رسیدیں جمع کروائیں اور تفتیش کاروں نے ان کے کمپیوٹر سے 1700 سے زیادہ مشتبہ دستاویزات برآمد کیں۔

انھوں نے خان کی کمپنی سپیئرپوائنٹ لمیٹڈ کی طرف سے ‘مشکوک تجارت’ کی نشاندہی کی، جس کے وہ واحد ڈائریکٹر تھے۔

ایچ ایم آر سی نے کہا کہ خان کو چھ لاکھ 96 ہزار 749 پاؤنڈ واپس کرنے ہوں گے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انھیں مزید تین سال قید کاٹنی ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words