پی آئی اے فلائیٹ 404: 32 برس قبل گلگت سے روانہ ہونے والی پرواز جسے آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی؟

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

GILGIT
نیلوفر، اُن کے شوہر ناصرالدین اور اُن کی کم عمر بیٹی جو فلائیٹ 404 پر سوار تھے

’میرے والد اپنی زندگی کی آخری سانس تک اپنی بیٹی، داماد اور کمسن نواسی کو یاد کرتے رہتے تھے۔ اپنی زندگی میں انھوں نے ہمالیہ کے پہاڑوں سے لے کر افغانستان اور انڈیا کے ساتھ موجود پاکستان کے سرحدی علاقوں تک اس طیارے کے ملبے کو تلاش کرنے کی ناکام کوششیں کیں جس میں یہ سب سوار تھے۔‘

جب گلگت کے رہائشی شاہد اقبال سے پی آئی اے کی بدقسمت فلائیٹ 404 کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اس کا جواب کچھ یوں دیا۔

25 اگست 1989 کی صبح لگ بھگ ساڑھے بجے گلگت سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی فلائیٹ نمبر 404 پر مسافروں اور عملے کے ارکان سمیت کُل 54 افراد سوار تھے، جن میں پانچ شیرخوار بچے بھی تھے۔

اِس فلائیٹ کو گلگت سے روانہ ہوئے پورے 32 برس بیت چکے ہیں مگر یہ اب تک لاپتہ ہے۔ اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا اور کن حالات میں حادثہ پیش آیا۔ حکام نے طیارے کے ملبے کو ڈھونڈنے کی طویل مگر ناکام کوششوں کے بعد اس فلائیٹ پر سوار تمام افراد کو مردہ قرار دے دیا تھا۔

اسی فلائیٹ پر سوار مسافروں میں عبدالرزاق ایڈووکیٹ کی بیٹی نیلوفر، ان کے شوہر ناصرالدین اور کم عمر نواسی بھی شامل تھے۔

عبدالرزاق کے بیٹے شاہد اقبال بتاتے ہیں کہ اُن نے والد نے اپنی زندگی میں ذاتی طور پر بھی اس طیارے کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی کیونکہ وہ کہتے تھے ’کیا جہاز یا اس کا ملبہ سوئی ہے جو ڈھونڈنے والوں کو نظر نہیں آ رہا؟‘

عبدالرزاق کی کچھ عرصہ پہلے ہی وفات ہوئی ہے۔

پی آئی اے

اس طیارے پر سوار افراد میں دو غیر ملکیوں اور پانچ بچوں سمیت 49 مسافر جبکہ عملے کے پانچ ارکان سوار تھے۔ مسافروں میں اکثریت کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا۔

دو غیرملکی مسافروں میں فری لانس صحافی اور معلم ڈاکٹر رینا سڈریس اور پال میک گورین شامل تھے۔

شاہد اقبال طیارے میں سوار اپنی بہن نیلوفر سے چار سال چھوٹے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ میرے بہنوئی ناصرالدین زرعی بینک گلگت میں مینجر تھے۔ ’وہ اپنے ایک سینیئر ساتھی آصف الدین کے ہمراہ اسلام آباد جا رہے تھے۔ اس طیارے میں آصف الدین کی بیگم اور بچے بھی موجود تھے۔‘

’میں نے خود اپنے بہنوئی، بہن اور کم عمر بھانجی کو ایئرپورٹ چھوڑا تھا۔ وہاں پر آصف الدین کا خاندان بھی موجود تھا۔ دونوں خاندان ایئرپورٹ پر گپ شپ کر رہے تھے۔ جب جہاز ٹیک آف کرگیا تو میں واپس گھر آ گیا تھا۔‘

’کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد جب ہم لوگوں نے پتہ کرنا چاہا کہ وہ خیر خیریت سے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں تو بتایا گیا کہ طیارہ ہی لاپتہ ہو چکا ہے۔ یہ خبر سُن کر ہم پر تو جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی تھی۔‘

فلائیٹ نمبر 404 کی ایسی ہی کہانی کئی خاندانوں کی ہے۔

گلگت
محمد عرفان

گلگت کے رہائشی ظہور احمد راولپنڈی میں اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی اعجاز احمد، ماموں زاد بھائی محمد ابراہیم اور بھائی کے دوست محمد عرفان بھی اسی طیارے میں سوار تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’میرا بھائی اسلام آباد کے ایچ نائن کالج میں انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا۔ وہ چھٹیوں پر گھر آیا تھا اور اب چھٹیاں ختم ہونے کو تھیں۔ ہمارا گھر ایئرپورٹ کے قریب ہی تھا۔ میں خود موٹرسائیکل پر اسے ایئرپورٹ چھوڑنے گیا تھا۔ میرے کزن محمد ابراہیم ہم سے پہلے ہی ایئرپورٹ پہنچ چکے تھے جبکہ محمد عرفان سے اُن کی ملاقات ایئرپورٹ ہی پر ہوئی تھی۔‘

ظہور احمد بتاتے ہیں ان کے سامنے یہ تینوں دوست ہنستے کھیلتے جہاز میں سوار ہوگئے تھے۔ ‘میں وہ منظر کئی سال بعد بھی نہیں بھول سکا ہوں کہ کس طرح تینوں نے جہاز میں سوار ہونے سے پہلے مجھے ہاتھ ہلا کر خداحافظ کہا تھا۔’

ظہور احمد کہتے ہیں میری والدہ اس واقعے کے بعد ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھیں۔

’بیٹے کو کھو دینے کے بعد جب بھی میری والدہ کسی طیارہ حادثے کی خبر سُنتی تھیں تو وہ دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیتی تھیں۔ آج 32 سال ہو چکے ہیں مگر ہمیں اب تک نہیں بتایا گیا کہ طیارے کے ساتھ کیا ہوا تھا؟‘

طیارہ

فلائیٹ نمبر 404 کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

بی بی سی نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے رابطہ قائم کر کے فلائیٹ نمبر 404 کے حوالے سے معلومات حاصل کرنا چاہیں تو بتایا گیا کہ یہ بہت پرانا واقعہ ہے، اس فی الحال اس حوالے سے کوئی تحقیقاتی رپورٹ ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔

دونوں اداروں کے مطابق وہ اس فلائیٹ کے حوالے سے کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے مطابق فلائٹ نمبر 404 ایک فوکر ایف 27 فرینڈ شپ طیارہ تھا جس نے پہلی پرواز سنہ 1962 میں بھری تھی۔

لاپتہ ہونے سے قبل یہ طیارہ مجموعی طور پر ساڑھے چوالیس ہزار گھنٹوں سے زائد کی پرواز مکمل کر چکا تھا۔

ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے مطابق اس طیارے نے گلگت سے 25 اگست 1989 بروز جمعہ 7:36 منٹ پر پرواز بھری تھی۔ 7:40 منٹ پر طیارے کے عملے کی جانب سے کنٹرول روم کو بتایا گیا کہ وہ توقع کررہے ہیں کہ وہ 7:59 منٹ پر سطح سمندر دس ہزار فٹ کی بلندی پر ہوں گے۔

عملے کی طرف سے کنٹرول روم کے ساتھ یہ آخری رابطہ تھا۔ اس دور میں میڈیا میں شائع ہونے والی چند رپورٹس کے مطابق طیارہ چند منٹ ہی فضا میں رہنے کے بعد غائب ہو گیا تھا۔

GILGIT PLANE

طیارے کی تلاش کا آپریشن

اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا تھا کہ طیارہ لاپتہ ہونے کے بعد پاکستان کے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں کم از کم سات سو افراد، جن میں مہم جو اور علاقے سے واقفیت رکھنے والے مقامی افراد بھی شامل تھے، نے طیارہ تلاش کرنے کے آپریشن میں حصہ لیا جو کئی روز جاری رہا۔

اس آپریشن میں پاکستان فضائیہ کے چار ہیلی کاپٹرز، دو سی 130 اور پی آئی اے کے دو طیاروں نے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں تلاش کے آپریشن میں حصہ لیا۔

پاکستانی حکام کی درخواست پر انڈین ایئر فورس نے بھی اپنی حدود میں طیارے کے ملبے کو ڈھونڈنے کے لیے آپریشن کیا تھا۔

اس دور میں اس حوالے سے شائع ہونے والی خبروں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تلاش کا کام زیادہ تر دنیا کے دشوار ترین پہاڑ نانگا پربت اور اس کے ارد گرد کیا گیا تھا۔ اس وقت نانگا پربت پر موجود دو برطانوی مہم جوؤں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ انھوں نے نانگا پربت پر انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے ایک طیارے کو دیکھا تھا۔

شاہد اقبال بتاتے ہیں کہ حکام کی جانب سے طیارے پر سوار افراد کو مردہ قرار دینے اور تلاش کے آپریشن کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد بھی ان کے والد کو یقین نہیں آتا تھا اور اسی لیے وہ نہ صرف خود نانگا پربت پر گئے تھے بلکہ انھوں نے اس سلسلے میں کئی مقامی افراد کی خدمات بھی حاصل کی تھیں۔

شاہد اقبال کے بقول حکام کی جانب سے آپریشن ختم ہونے کے بعد ناصرف ان کے والد بلکہ بہت سے خاندانوں نے اپنے تئیں اس طیارے کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور یہ سلسلہ کئی مہینوں تک چلتا رہا تھا۔

’میرے والد دیگر لواحیقن کے ساتھ مل کر چترال سے منسلک افغانستان کے پہاڑوں میں بھی گئے تھے۔ وہاں پر بھی مقامی لوگوں سے رابطے کیے تھے۔ لائن آف کنٹرول کا چپہ چپہ چھان مارا تھا۔ جہاں جہاں ممکن تھا وہاں تلاش کا کام کیا تھا۔‘

گلگت
عبدالرزاق اپنی آخری سانس تک اپنی بیٹی، داماد اور نواسی کو یاد کرتے تھے

ممکنہ طور پر طیارے کے ساتھ کیا ہوا ہوگا؟

پاکستان ایئر فورس کے سابق فلائنگ افسر سردار فدا حسین کے مطابق مذکورہ حادثے سے متعلق کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کیا ہوا ہو گا۔

فدا حسین عراق کی قومی ایئر لائن کے لیے بطور مشیر کام کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جس زمانے میں یہ حادثہ پیش آیا تھا اس وقت ٹیکنالوجی اتنی جدید نہیں تھی کہ جہاز کے ملبے کی ایک مشکل علاقے میں نشان دہی ہو سکتی، اب صرف امکانات ہی پر بات ہو سکتی ہے کیونکہ نہ تو ملبہ ملا اور نہ ہی بلیک باکس۔

فدا حسین کہتے ہیں کہ طیارے کا کنٹرول روم سے جو آخری رابطہ ہوا تھا وہ معمول کا رابطہ تھا۔

’دنیا بھر میں ہر فلائیٹ کے اڑان بھرنے کے فوراً بعد اس طرح کے رابطے ہوتے ہیں۔ یہ بالکل معمول کی کارروائی تھی جس سے کچھ بھی اخذ کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جب طیارے نے پرواز بھری تو شاید سب ٹھیک تھا۔‘

سردار فدا حسین کے مطابق ’پہلے رابطے کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ عموماً اگر طیارے میں کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے تو پائلٹ فوراً سب سے پہلا کام ایئر ٹریفک کنٹرول کو آگاہ کرنے کا کرتے ہیں۔ چونکہ ایسا کوئی پیغام نہیں دیا گیا اس لیے ممکنہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ شاید پیش آنے والا حادثہ انتہائی اچانک اور غیرمتوقع تھا جس کے باعث پائلٹ کو ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ قائم کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔‘

’یہ بھی ممکنات میں سے ہے کہ جہاز کا مواصلاتی نظام ہی فیل ہوگیا ہو جس کے باعث رابطہ کرنا ممکن ہی نہ رہا ہو۔‘

فدا حسین کہتے ہیں اگر اس زمانے کی کچھ شواہد اکھٹے کیے جاتے یا کوئی تحقیقاتی رپورٹ موجود ہوتی جس میں کوئی اشارہ یا ثبوت دستیاب ہوتا تو اس کی بنیاد پر آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجی سے تلاش کے عمل کو بڑھانے کی کوئی توقع بھی ہوتی مگر اب یہ ناممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نانگا پربت کے گلیشیئر اور برف پر طیارہ تلاش کرنا آسان نہیں رہا ہو گا۔

ظہور بتاتے ہیں کہ ’طیارہ لاپتہ ہونے کی اطلاع ملتے ہی ہم سب لوگ گلگت ایئر پورٹ پہنچ گئے تھے۔ وہاں پر افراتفری کا سماں تھا۔ ایئر پورٹ پر فرائض انجام دینے والوں کی اکثریت کا تعلق گلگت سے تھا جن سے ہم لوگوں کی شناسائی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ چونکہ افراتفری کا عالم تھا اسی لیے ہر طرح کی غیرتصدیق شدہ خبر اور متنازع باتیں کہی جا رہی تھیں۔

مزید پڑھیے

پاکستان میں ہونے والے فضائی حادثات کی تاریخ

حادثے کے بعد طیارے کے پرزے کیسے باتیں کرتے ہیں؟

پی آئی اے طیارہ حادثہ: ’انھوں نے کہا یہی آپ کے والد کی لاش ہے، سب شہدا ایک جیسے ہوتے ہیں‘

’کچھ لوگوں نے ہمیں بتایا فلائیٹ کو ٹیک آف کرنے والے جہاز کے اپنے پائلٹ نہیں تھے بلکہ سیر و تفریح کے لیے آنے والے کسی اور پائلٹ نے جہاز اڑایا تھا، وغیرہ وغیرہ۔‘

ظہور احمد کا کہنا تھا کہ ’اُس وقت ہم نے یہ ساری باتیں تحقیقاتی کمیٹی اور حکام کو بتائیں تھیں۔ مجھے نہیں پتا مگر اس وقت ہی سے ہم لوگ محسوس کر رہے تھے کہ حکام اور تحقیقاتی کمیٹی کا رویہ کچھ بہتر نہیں تھا۔ وہ ہماری کسی بھی بات پر توجہ ہی نہیں دیتے تھے۔‘

’ہمیں کہا جاتا رہا تھا کہ جلد ہی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی مگر آج 32 سال گزر چکے ہیں۔۔۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21129 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp