ملالہ یوسفزئی: طالبان کی ایک گولی کا زخم جو نو برس بعد بھی بھر نہیں سکا

            نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی اکتوبر 2012 میں پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے حملے کا نشانہ بنیں اور نو برس بعد بھی ان کا علاج جاری ہے۔ ملالہ نے اپنے علاج کی کہانی اور افغانستان میں طالبان کی واپسی کے تناظر میں درج ذیل مضمون فیس بک کے بلیٹن پوڈیم کے لیے تحریر کیا، جس کا ترجمہ انھوں نے بی بی سی اردو کو اشاعت کے لیے فراہم کیا ہے۔

دو ہفتے قبل جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا جاری تھا اور طالبان کا تسلط قائم ہو رہا تھا، تو میں بوسٹن کے ایک ہسپتال میں بستر پر لیٹی اپنے چھٹے آپریشن کے عمل سے گزر رہی تھی، کیوںکہ طالبان نے میرے جسم کو جو نقصان پہنچایا تھا، ڈاکٹروں نے اس کا علاج جاری رکھا تھا۔


اکتوبر 2012 میں پاکستانی طالبان کے ایک رکن نے میری سکول ویگن پر سوار ہو کر میری بائیں کنپٹی میں گولی داغ دی۔ گولی نے میری بائیں آنکھ، کھوپڑی اور دماغ کو چیر دیا۔ میرے چہرے کے اعصاب کو مجروح کیا، میرے کان کا پردہ توڑ ڈالا اور میرے جبڑے کے جوڑوں کو شدید نقصان پہنچایا۔


پشاور میں ایمرجنسی سرجنوں نے عارضی طور پر میری بائیں کھوپڑی کی ہڈی کو ہٹا دیا تاکہ میرے دماغ کو چوٹ لگنے کی وجہ سے بننے والے سوجن کے لیے جگہ پیدا ہو۔ ان کی فوری کارروائی نے بلاشبہ میری جان بچائی لیکن جلد ہی میرے اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا اور مجھے ہوائی جہاز کے ذریعے اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔ ایک ہفتے کے بعد ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ مجھے شدید دیکھ بھال کی ضرورت ہے اور علاج جاری رکھنے کے لیے مجھے ملک سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے۔


اس عرصے کے دوران مجھے کوما میں رکھا گیا تھا۔ گولی لگنے کے دن سے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں ہوش میں آنے تک مجھے کچھ بھی یاد نہیں۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو مجھے احساس ہوا کہ میں زندہ ہوں لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ میں کہاں تھی یا مجھے انگریزی بولنے والے اجنبیوں نے کیوں گھیر لیا تھا۔


ملالہ

AFP

میرے سر میں شدید درد تھا۔ میری نظر دھندلا گئی تھی۔ میری گردن میں لگی ٹیوب نے میرے لیے بات کرنا ناممکن بنا دیا تھا۔ کئی دن گزرنے کے باوجود میں بولنے سے قاصر تھی لیکن میں نے ایک نوٹ بک میں چیزیں لکھنا شروع کیں اور جسے میں کمرے میں آنے والے ہر شخص کو دکھاتی۔ میں نے کچھ سوالات لکھے تھے: میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ میرے والد کہاں ہیں؟ اس علاج کا خرچہ کون دے گا؟ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔


میں نے لفظ آئینہ لکھا اور اسے نرسوں کو دکھایا۔ میں اپنے آپ کو دیکھنا چاہتی تھی۔ آئینے میں مَیں نے اپنے چہرے کا صرف آدھا حصہ پہچانا۔ دوسرا حصہ میرے لیے نامانوس تھا۔ کالی آنکھ، گن پاؤڈر کے چھینٹے، مسکراہٹ سے عاری، چمک غائب، یہاں تک کہ میں اس کو جنبش بھی نہیں دے سکتی تھی۔ میرے آدھے بال منڈوائے جا چکے تھے۔ میں نے سوچا کہ طالبان نے میرے ساتھ یہ بھی کیا ہے۔ لیکن نرس نے کہا کہ ڈاکٹروں نے سرجری کے لیے منڈوا دیے ہیں۔


میں نے پرسکون رہنے کی کوشش کی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ’جب وہ مجھے ڈسچارج کریں گے تو میں نوکری تلاش کروں گی، کچھ پیسے کماؤں گی، ایک فون خریدوں گی، اپنے گھر والوں کو فون کروں گی اور اس وقت تک کام کروں گی جب تک میں ہسپتال کے تمام بل ادا نہ کروں۔‘


https://twitter.com/Malala/status/1430217081442738179


مجھے اپنی طاقت پر یقین تھا۔ میں پُراعتماد تھی کہ میں ہسپتال سے نکل کر ایک بھیڑیے کی طرح دوڑ لگاؤں گی، ایک شاہین کی طرح اڑوں گی لیکن میں نے جلد ہی محسوس کیا کہ میں اپنے جسم کے بیشتر حصے کو کوئی حرکت نہیں دے سکتی۔ ڈاکٹروں نے امید ظاہر کی کہ میری یہ کیفیت عارضی ہے۔


میں نے اپنے پیٹ کو چھوا۔ وہ سخت اور بے لچک تھا۔ میں نے نرس سے پوچھا کیا میرے پیٹ میں کوئی مسئلہ ہے؟ اس نے مجھے بتایا کہ جب پاکستانی سرجنوں نے میری کھوپڑی کی ہڈی کا کچھ حصہ ہٹایا تو انھوں نے اسے میرے پیٹ میں منتقل کیا تاکہ کچھ عرصہ کے بعد وہ میری دوسری سرجری کرکے اسے دوبارہ سر میں ڈال سکیں۔


یہ بھی پڑھیےلیکن برطانیہ کے ڈاکٹروں نے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اس جگہ پہ بالآخر ٹائٹینیم پلیٹ لگانے کا فیصلہ کیا جہاں میری کھوپڑی کی ہڈی تھی۔ اس طریقۂ کار کو کرینیو پلاسٹی کہتے ہیں۔ انھوں نے میری کھوپڑی کا ٹکڑا میرے پیٹ سے نکال لیا جو آج میرے بک شیلف پر پڑا ہے۔


ٹائٹینیم کرینیو پلاسٹی کے دوران انھوں نے میرے کان کے اندر اس مقام پر کوکلئیر امپلانٹ بھی کیا جہاں گولی نے میرے کان کا پردہ توڑ ڈالا تھا۔


جب میرا خاندان برطانیہ میں میرے ساتھ شامل ہوا تو میں نے فزیکل تھیراپی اور بحالی کا عمل شروع کیا۔ میں آہستہ آہستہ چلتی، بچے کی طرح قدم اٹھاتی، بات بھی بچے کی طرح کرتی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے دوسری زندگی کا آغاز کیا ہو۔


برطانیہ کی سرزمین پر پہلی مرتبہ اترنے کے چھ ہفتے بعد ڈاکٹروں نے میرے مفلوج چہرے سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا کرنے کے لیے انھوں نے ایک بار پھر میرے چہرے کو کاٹ دیا اور میرے چہرے کی شدید کٹی ہوئی رگوں کو اس امید پر دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی کہ بالآخر ان کی بتدریج نشوونما ہوگی اور یہ نقل و حرکت میں سہولت فراہم کریں گی۔


اعصابی سرجری کے چند ماہ بعد اور چہرے کے باقاعدہ مساج کے ساتھ میرے توازن اور حرکت میں تھوڑی بہتری آئی۔ اگر میں اپنے ہونٹ بند کرکے مسکراؤں تو اس طرح میں قریباً اپنا پرانا چہرہ دیکھ سکتی ہوں۔ جب میں ہنستی تو اپنے ہاتھوں سے اپنا منھ ڈھانپ لیتی تاکہ لوگ یہ نہ دیکھ پائیں کہ چہرے کا ایک حصہ دوسرے حصے کی طرح کام نہیں کر رہا ہے۔


میں نے آئینے میں جھانکنے یا اپنے آپ کو ویڈیو میں دیکھنے سے گریز اختیار کرنا شروع کیا۔ اپنے ذہن میں مَیں نے سوچا کہ میں ٹھیک لگ رہی ہوں۔ میں نے حقیقت کو قبول کیا اور خوش رہنے لگی۔


دوسری طرف میرے والدین ہر اس چیز کا علاج چاہتے تھے جو ان کی بیٹی نے کھو دی تھی۔ چناں چہ ہم نے بوسٹن میں ماس آئی اینڈ ایئر کے سرجنز سے ملاقات کی تاکہ ان سے کراس فیشل نرو گرافٹ کے بارے میں بات کریں جو کہ مفلوج چہرے کا ایک پیچیدہ علاج ہے۔


مجھے دو بڑے آپریشنوں کی ضرورت ہو گی۔ 2018 میں ڈاکٹروں نے سب سے پہلے میری پنڈلی سے ایک نس نکالی اور اسے میرے چہرے میں نصب کیا جو دائیں طرف سے بائیں طرف تیزی سے حرکت کرتی تھی۔


2019 میں انھوں نے میری ران سے ٹشو لیا اور اسے میرے چہرے کے بائیں جانب لگایا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ نس ٹشو سے جڑ جائے گی اور میرے چہرے کے پٹھوں کو سگنل بھیجنا شروع کر دے گی۔


اور اس نے کام کیا۔ بالآخرمیں اپنے چہرے کو زیادہ حرکت دینے کے قابل ہوئی۔ لیکن دوسرا طریقۂ کار میرے گال اور جبڑے کے ارد گرد اضافی چربی اور بلغمی سیال پیدا کرنے کا سبب بنا۔ تب ڈاکٹروں نے کہا کہ مجھے ایک اور سرجری کی ضرورت ہے۔


بوسٹن میں نو اگست کی صبح پانچ بجے میں اٹھی تاکہ میں اپنی نئی سرجری کے لیے ہسپتال جاؤں اور خبر دیکھی کہ طالبان نے زوال پذیر افغانستان کے پہلے بڑے شہر قندوز پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگلے چند دنوں میں آئس پیکس کے ساتھ میرے سر کے گرد پٹی لپیٹ دی گئی اور میں ٹی وی سکرین پر دیکھتی رہی کہ ایک صوبے کے بعد دوسرا صوبہ ان لوگوں کے سامنے ہتھیار ڈالتا رہا جن کی بندوقیں اس شخص کی بندوق کی طرح گولیوں سے بھری ہوئی تھیں جس نے مجھے نشانہ بنایا تھا۔


جیسے ہی میری طبیعت بحال ہوئی، میں فون پہ فون کال کر نے لگی، دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت کو خط لکھنے لگی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ان کارکنوں سے بات کرنے لگی جو ابھی تک افغانستان میں تھے۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران ہم ان میں سے کئی کارکنوں کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ محفوظ مقام تک پہنچانے میں مدد کر سکے ہیں لیکن میں جانتی ہوں کہ ہم سب کو نہیں بچا سکتے۔’


جب طالبان نے مجھے گولی ماری تو پاکستان میں موجود صحافی اور چند بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس پہلے ہی میرا نام جانتے تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ میں برسوں سے، شدت پسندوں کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف بول رہی تھی۔ انھوں نے حملے کو رپورٹ کیا اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس پر ردِ عمل ظاہر کیا۔ لیکن اس کا ردِ عمل مختلف بھی ہوسکتا تھا اور میری کہانی شاید ایک مقامی خبر میں ختم ہوجاتی کہ ’پندرہ سال کی لڑکی کو سر میں گولی مار دی گئی۔‘


’میں ہوں ملالہ‘ کا بینر تھامے ہوئے لوگوں کے ہجوم کے بغیر، ہزاروں خطوط اور مدد کی پیشکشوں کے بغیر، دعاؤں اور خبروں میں تذکروں کے بغیر، شاید مجھے طبی امداد نہ ملتی۔ میرے والدین یقینی طور پر خود ان اخراجات کو پورا کرنے کے قابل نہ ہوتے اور شاید میں زندہ نہ رہ پاتی۔


نو سال کے بعد میں ابھی تک صرف ایک گولی سے ہی صحت یاب ہو رہی ہوں۔ افغانستان کے لوگوں نے پچھلی چار دہائیوں میں لاکھوں گولیاں کھائی ہیں۔ میرا دل ان لوگوں کے لیے ٹوٹ جاتا ہے جن کے نام ہم بھول جائیں گے یا انھیں کبھی پہچان بھی نہیں سکیں گے اور جو مدد کے لیے پکار رہے ہیں لیکن ان کی مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچ سکے گا۔


میری حالیہ سرجری کے زخم تازہ ہیں۔ میں اپنی پیٹھ پر اب بھی وہاں پر داغ ڈھو رہی ہوں جہاں ڈاکٹروں نے میرے جسم سے گولی نکالی تھی۔


چند دن قبل میں نے اپنی بہترین سہیلی کو فون کیا، وہی لڑکی جو سکول بس میں اس وقت میرے ساتھ بیٹھی تھی جب مجھ پر حملہ ہوا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ مجھے دوبارہ بتائیں کہ اس دن کیا ہوا تھا۔


’کیا میں چیخ اٹھی تھی، کیا میں نے بھاگنے کی کوشش کی تھی؟‘ میں آپ سے پوچھتی ہوں۔


’نہیں‘، اس نے کہا ’تم پرسکون اور خاموش تھیں، طالب نے جیسے ہی تمہارا نام پکارا، تم اس کی آنکھوں میں گھور رہی تھیں۔ تم نے میرا ہاتھ اتنی مضبوطی سے تھام لیا تھا کہ میں کئی دنوں تک اس میں درد محسوس کرتی رہی۔ اس نے تمھیں پہچانا اور فائرنگ شروع کی۔ تم نے اپنے چہرے کو ہاتھوں سے ڈھانپ لیا اور نیچے جھکنے کی کوشش کی۔ ایک سیکنڈ کے بعد تم میری گود میں گر گئیں۔‘


میری دو ہم جماعتوں شازیہ اور کائنات کو ہاتھ اور بازو میں گولی لگی تھی اور سکول کی سفید بس خون سے سرخ ہو گئی تھی۔


میرے جسم پر ایک گولی اور کئی آپریشنوں کے نشانات ہیں لیکن اس دن کی کوئی یاد میرے ذہن میں موجود نہیں لیکن نو سال بعد میری بہترین سہیلی کو ابھی تک ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔


نوٹ: ملالہ یوسفزئی نے یہ مضمون فیس بک کے بلیٹن پوڈیم کے لیے تحریر کیا ہے جس کا ترجمہ انھوں نے بی بی سی اردو کو اشاعت کے لیے فراہم کیا ہے۔



                         
Comments - User is solely responsible for his/her words