افسر شاہی اور میرا بہاول پور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھی ہمیں بھی عوامی خدمت کا شوق چراتا ہے تو اپنی عزت و ناموس کو داؤ پر لگا کر متعلقہ افسر کی منت ترلے سے کام نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ایسے ہی کسی کام کے سلسلے میں پبلک ہیلتھ انجینئیرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایس۔ ای محترم خالد بخاری سے ملنے کے لئے کمر باندھی۔ جب دفتر کے باہر پہنچے تو برآمدوں اور سڑک پر پانی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا دریا میرا منتظر تھا۔ دل میں یہ خیال آیا کہ ہو سکتا ہے ہمارے ازلی دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں ہمارے پیاسے دریا ستلج میں پانی چھوڑ دیا۔

ایک راہگیر سے اس بہتے دریا کے بارے میں استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ پانی کی ٹینکی اپنی بوسیدہ حالی کی وجہ سے یہ سارا پانی سڑک پر چھوڑ کر اب محو خرام ہے۔ خیر، پانی کے بیچوں بیچ پڑی کمزور اینٹوں کے سہارے اپنے دامن کو ہر چھینٹ سے بچاتے بچاتے ہم پبلک ہیلتھ کے دفاتر کے کسی برآمدے تک پہنچ گئے اور تلاش بسیار کے کے بعد بخاری صاحب کے شاہی دفتر کے باہر ایک خرانٹ نائب قاصد کو میرے ہمدم دیرینہ یاسین انصاری نے اپنا ملاقاتی کارڈ پکڑوایا تو وہ فرمانے لگا، صاحب اندر کسی میٹنگ میں ہیں۔

ہماری بے جا ضد سے مجبور ہو کر کارڈ اندر پہنچا دیا گیا لیکن واپسی پر نائب قاصد نے نوید سنائی کہ بادشاہ سلامت نے اگلے ہفتے ملاقات کا وقت دیا ہے۔ ہمارے نوابی خون نے جوش مارا تو ہم نے اپنا کالم نگار والا وزیٹنگ کارڈ بھی ایس۔ ای صاحب تک اندر پہنچا دیا کہ شاید وہ سمجھتے ہوں کہ ہم بھی اکثریت کی طرح کسی لفافے کے چکر میں حاضر ہوئے ہیں۔ خیر خدا خدا کر کے بخاری صاحب کی میٹنگ اختتام پذیر ہوئی تو دفتر کے باہر موجود دست بستہ غلامان کو یہ نوید ملی کہ صرف ایک بندہ اندر جا سکتا ہے کیونکہ اندر ایک نشست ہی موجود ہے۔

میں نے اپنے ہم عصران کو گزارش کی کہ آپ خود اندر جائیں، ایسا نہ ہو کہ اندر جا کر ہمارا نوابی خون بد مزگی کا سامان نہ پیدا کردے۔ پانچ منٹ کی ایک مختصر نشست کے بعد ہمارے دوستوں کی گلو خلاصی ہوئی اور انہوں نے ہمیں یہ نوید دی کہ مستقبل قریب میں کام ہو جائے گا۔ باہر موجود پانی سے بچتے بچاتے ہم نے فیصلہ کیا کہ لگے ہاتھوں سیکرٹری ایریگیشن جنوبی پنجاب سے ملاقات بھی کر لی جائے۔ جب وہاں پہنچے تو ان کا خالی دفتر نئے پاکستان کے کرتا دھرتا، اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان، کرپشن سے پاک وزیر اعلیٰ محترم عثمان بزدار کی کار کردگی کا منہ چڑانے کے لئے کافی تھا۔ اسی دوران ایک اور محکمے کے ایم ڈی کی گاڑی بھی دوپہر بارہ بجے تک دفتر میں نہیں پہنچی تھی۔

18 اگست 2018 ء کو جیسے ہی تحریک انصاف کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو میری طرح ہر پاکستانی نے سکھ کا سانس لیا کہ اب نیا پاکستان ہو گا اور نیا نظام ہو گا، امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ ہر افسر کا کڑا احتساب ہو گا اور ہمیں حضرت عمر فاروق ؓ کا دور اپنی ان آنکھوں سے دیکھنا نصیب ہو گا۔ وزیر اعظم پاکستان کی پہلی تقریر نے ہماری آنکھوں میں جلتے امیدوں کے دیے اس وقت مزید روشن کر دیے جب یہ کہا گیا کہ اب کوئی بھوکا نہیں سوئے گا اور کرپٹ افسران کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے گی۔

میری آنکھوں کے سامنے اب بھی کبھی کبھی یہ خبر دوڑنے لگتی ہے کہ ”وزیراعظم عمران خان نے بیورو کریسی کے منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالنے اور عوامی شکایات کے ازالے کے لئے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے افسران کی ترقی کو عوامی شکایات کے حل کے ساتھ مشروط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خفیہ سالانہ رپورٹ ( اے سی آر) کے درجنوں خانوں میں ایک خانہ عوامی شکایات کے حل کا بھی ہوگا جس کے ایک سو نمبروں میں سے پانچ سات نمبر ہوں گے“ لیکن گڈ گورننس کے تمام کے تمام دعوے وقت گزرنے کے ساتھ دھرے کے دھرے رہ گئے اور ہم اپنی آنکھوں میں اسلامی ریاست مدینہ کے خواب سجائے ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں دھکے کھانے پر آج بھی مجبور ہیں۔

دارلسرور مملکت خداداد بہا ول پور میرے لئے اس لئے بھی محترم ہے کہ یہ نہ صرف میرے آباء کی ریاست ہے بلکہ تقسیم پاکستان سے پہلے یہاں پر ہمارے آباء و اجداد نے گڈ گورننس کی وہ مثالیں قائم کی ہیں جن کی باز گشت آج بھی بہاول پور شہر کے محلات میں سنی جا سکتی ہے۔ یہاں کے حکمرانوں سے محبت اور عقیدت کا مشاہدہ کرنا ہے ہو آباد کاران کے بزرگوں سے ملاقات کر کے پوچھ لیں۔ ریاست کے دادا پوتا نوابین کی انصاف اور رعایا پروری کی ایسی سینکڑوں مثالیں میرے علم میں ہیں جو ماضی کی گڈ گورننس کی عکاس ہیں۔

ریاست بہاول پور کے باشندگان کی ایک خاصیت ہے کہ یہ ہمیشہ اپنے سینیئر اور بزرگ کی خوشامد کی حد تک عزت کرتے ہیں اور ہر موقع پر اس کا اظہار کرنے سے نہیں چوکتے۔ مہمان نوازی بھی ہم ریاستی لوگوں کے خون میں شامل ہے۔ ان خصوصیات کا سب سے زیادہ ناجائز فائدہ یہاں پر ٹرانسفر ہو کر آنے والے افسران اٹھاتے ہیں اور ان کی گردن کا سریا مزید سخت ہو جاتا ہے لیکن جب وہ یہاں سے بالائی پنجاب یا وسطی پنجاب کا رخ کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں صرف اس لئے آنسو نہیں ہوتے کہ تمام افسران کو ہماری مہمان نوازی یا محبت یاد آ رہی ہوتی ہے بلکہ افسران اعلیٰ کی اکثریت اس بات پہ نوحہ کناں ہوتی ہے کہ اب ساری زندگی ہمیں ایسے مٹی کے مادھو کہیں نہیں ملیں گے۔

جو ہر وقت ہماری راہ میں آنکھیں بچھائے ہمارے منتظر رہتے ہیں۔ مجھے کچھ عرصہ پنجاب کے دل یعنی لاہور میں بھی رہائش پذیر ہونے کا شرف حاصل رہا ہے، میں نے وہاں کے دفاتر اور افسران کے کر و فر کا بھی مشاہدہ کیا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے بہاول پور کا (سوائے طارق بشیر چیمہ کے) کوئی بھی سیاسی وارث ایسا نہیں ہے جو ان افسران کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنے کی جرات رکھتا ہو، جو ان کو صرف یہی کہہ سکے کہ جس ٹیکس کی رقم سے آپ اور آپ کے کتے پلتے ہیں وہ ہماری عوام کا ہے جن کو آپ کے دفاتر میں آنے اور اپنے مسائل سنانے کی بھی آزادی نہیں ہے۔

بہاولپور کے عوام کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک آزادی کے بعد اس لئے بھی ہو رہا ہے کہ ہماری ریاست کے چند کاسہ لیس ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ افسر شاہی کو اس علاقے کے اصل مسائل بتانے اور درست سمت دکھانے کی بجائے ان کو اپنی گمراہ کن خوشامد سے خوش رکھا جائے اور سب اچھا ہے کہ رپورٹ دی جائے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بن گیا، افسران اعلیٰ کی تعیناتی ہو گئی لیکن ان کے احتساب کے لئے مقامی طور پر کوئی ایسا نظام وضع نہیں کی گیا جس کی مدد سے ان کی بر محل اور بروقت باز پرسی کی جا سکے۔

اگر میرے جیسے ایک عام شہری کو کسی بھی حاکم اعلیٰ سے کوئی شکایت ہو تو مجھے پانچ سو کلومیٹر طویل سفر کر کے لاہور جانا ہو گا اور ایسے افسران کی شکایت کرنا ہو گی جن کے دفاتر کی تمام کرسیوں پر خوشامدی ٹولے نے قبضہ کیا ہوتا ہے۔ جہاں چائے کے دور چلنے کے علاوہ سارا دن کوئی کام نہیں ہوتا۔ میں جس دفتر میں جاتا ہوں، وہاں بہاول نگر، رحیم یار خان جیسے دور درز شہروں سے آئے اکثر سائلین ہاتھوں میں فائلیں پکڑے، سر نیہوڑائے اعلی افسر کی گاڑی کے ہارن کے منتظر ہوتے ہیں۔

علی الصبح اپنے شہروں سے روانہ ہو کر ان دفاتر میں جب یہ مسکین اور غریب افراد پہنچتے ہیں تو چپڑاسی اور نائب قاصد کی جھڑکیاں ہی ان کی منتظر ہوتی ہیں۔ دفاتر کا وقت ختم ہونے کے بعد ان کے پاس نہ تو رہائش ہوتی ہے اور نہ ہی واپس اپنے شہر پہنچنے کے لئے کوئی زاد راہ، گڈ گورننس کا دعوی کرنے والوں سے میری ایک گزارش ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور جنوبی پنجاب میں ایسے افسران تعینات کیے جائیں جو یہاں کے باشندوں کی محرومیوں کا ازالہ کریں نہ کہ نفرت کی آگ کو اس حد تک بھڑکائیں کہ جنوبی پنجاب، خاص طور پر بہاولپور کے عوام بغاوت پر اتر آئیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments