کم سن بچے کے ساتھ سیاحت: ’بچے صرف ماں کی ہی نہیں باپ کی بھی ذمہ داری ہوتے ہیں‘

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں احسن فاروقی نامی شخص نے اپنے 23 ماہ کے بیٹے کے ساتھ سفر اور سیر پر اکیلے جانے کا تجربہ شئیر کیا جس پر سوشل میڈیا صارفین نے مختلف قسم کی رائے کا اظہار کیا۔

اپنے اس سفر نامے کے بارے میں بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے احسن نے بتایا کہ ‘میں نے اپنے 23 ماہ کے بیٹے کے ساتھ کراچی سے چار دن کا سفر کیا اور ہماری منزلوں میں اسلام آباد، مظفر آباد، شاردا اور بھوربن شامل تھے۔ میں بینک میں نوکری کرتا ہوں اور میری بیوی بھی نوکری کرتی ہے۔ لیکن میری بیوی کا امتحان تھا اور اس لیے وہ نہ تو ہمارے ساتھ جا سکتی تھیں اور انھیں تیاری کے لیے اکیلے وقت بھی درکار تھا۔ اس لیے میں نے سوچا کہ میں اپنے بیٹے کو سیر کے لیے ساتھ لے جاتا ہوں۔’

’میرا بیٹا میرے بہت قریب ہے کیونکہ میری بیوی ایک نوکری پیشہ خاتون ہیں اس لیے ہم دونوں مل کر اسے سنبھالتے ہیں۔‘

لیکن اس پوسٹ کو لگانے کے بعد کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مجھے یہ کہہ رہے تھے کہ ‘لگتا ہے کہ یہ آدمی بیوی سے نوکری کروا کے اس کے پیسوں پر عیاشی کر رہا ہے’ یا پھر کچھ ایسے بھی لوگ تھے جنھوں نے میری بیوی پر بے حد تنقید کی کہ ‘کیسی عورت ہے کہ اپنے بچے کو نہیں سنبھال سکتی ہے۔ شوہر اور بچے کو اکیلا چھوڑ دیا’

’میں ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں خود بھی کماتا ہوں اور اپنے 23 ماہ کے بیٹے کے ساتھ اکیلے سفر کرکے میں کوئی انوکھا کام نہیں کیا۔ بچے صرف ماں کی ہی نہیں باپ کی بھی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ ‘

وہ کہتے ہیں: ’مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میری پوسٹ پر زیادہ تر لوگوں نے مثبت کمنٹ کیے۔ جن میں زیادہ تر خواتین تھیں جو اس بات کو سراہا رہی تھیں کہ یہ رجحان عام ہونا چاہیے کہ مرد بھی بچوں کی ذمہ داری ایک عورت کی طرح اٹھائیں۔ ‘

میری زندگی کا ایک بہترین سفر

میں سفر کرنے کا شوقین ہوں۔ تاہم اس مرتبہ کا سفر تھوڑا مختلف تھا کیونکہ مجھ سے زیادہ سامان میر کا تھا۔ جیسا کہ اس کے دودھ، پیمپر اور دیگر اس کے استعمال کی چیزیں۔ میں نے اور میرے بیٹے نے ان چار دنوں میں بہترین وقت گزارا۔ اس سے پہلے میرے بیٹے نے کبھی شہر سے باہر سفر نہیں کیا اور میں نے کبھی کسی چھوٹے بچے کے ساتھ سفر نہیں کیا تھا لہذا یہ ہم سفر ہم دونوں کے لیے ایک منفرد تجربہ تھا۔

یہ بھی پڑھیئے

تم کرو تو احسان، ہم کریں تو ذمہ داری

’عورت کی تربیت ہی ایسے ہوتی ہے کہ شادی اور بچہ ہی سب سے بڑی کامیابی ہے‘

’ہم دونوں نے اس سفر کی تمام تر قدرتی خوبصورتی کو انجوائے کیا۔ میرا بیٹا ندیوں، آبشارو، سر سبز میدان اور بھیڑ بکریاں کو دیکھ کر خوب لطف اندوز ہوا اور مجھے کسی بھی لمحے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ مجھے اپنے سفر کے فیصلے پر نظرثانی کرنی ہے یا واپس جانا ہے۔

’تاہم اس کے ساتھ ساتھ میں نے انڈے کو ابالنے سے لے کر اپنے بیٹا کا سارا کھانا خود ہی پکایا اور یہ چار دن اس کے لیے وقف کر دیے تاکہ میں بطور والد اپنے بیٹے کے ساتھ ایک اچھا اور یادگار وقت گزار سکوں۔

ایک بات جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ تھی کہ ظاہر ہے ہم نے حرا کو بہت یاد کیا۔

‘میں چاہتا تھا کہ میری بیوی بغیر کسی رکاوٹ کے امتحان دے’۔

‘میرے بیٹے کی پیدائش کے بعد سے ہی میرا یہ معمول رہا ہے کہ میں شام کو جب گھر آتا ہوں یا چھٹی کے دن میں خود اپنے بیٹے کو کھلاتا پلاتا ہوں۔ اس کے پیمپر تبدیل کرنا اور اس کے باقی کام کرنا میں اپنا فرض سمجھ کر کرتا ہوں اور یہ سب اس کے ساتھ وابستگی کا نتیجہ ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنی بیوی کو اپنے بیٹے کی پرورش میں اس کے ہم منصب بننے کی تائید کی۔ یہی وجہ ہے کہ میرا بیٹا میرا دوست ہے۔‘

’ہمارے معاشرے میں یہ تاثر عام ہے کہ بیوی کا کام صرف گھر داری کرنا ہے یا پھر اگر بچہ تو وہ صرف بیوی کی ہی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنی اس محدود سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ میں نے کبھی بھی اپنی بیوی کو اپنے بیٹے کی کسی غلطی یا مسئلے میں قصوروار نہیں ٹھہرایا اور اگر مجھے کہیں کو کمی نظر آتی ہے تو میں اسے خود پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

’میری بیوی نے ماسٹرز کیا ہوا ہے اور آگے پڑھنا چاہتی ہیں۔ اس لیے میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ سفر کرنے کا ارادہ کیا کہ میری بیوی کو بغیر کسی رکاوٹ کے امتحان کے لیے تیاری کرنے کا موقع مل جائے۔ اور میرے اس فیصلے پر مجھے اپنی بیوی کی مکمل حمایت حاصل تھی اور وہ کافی پراعتماد تھی کہ میں بیٹے کی اچھی دیکھ بھال کروں گا۔‘

‘عورت کو بھی اپنے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے’

احسن فاروقی کی بیوی حرا نے کہا ’میں نے شادي سے پہلے یہی دیکھا تھا کہ بچے عورت کی ذمہ داری ہیں۔ لیکن میرے شوہر نے ہمیشہ مجھے اس بات احساس دلایا کہ یہ مرد کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہیں جتنے عورت کی۔ ‘

’ایسا نہیں ہے کہ احسن نے پہلی مرتبہ ہمارے بیٹے کو سنبھالا ہے۔ میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ جیسے مرد کو اپنے لیے گھر اور گھر والوں سے دور وقت درکار ہوتا ہے ویسی ہی عورت کو بھی ایسا وقت میسر ہونا چاہیے کہ وہ بھی اپنے دوستوں کے ساتھ بچے شوہر کے پاس چھوڑ کر چھٹی ماننے جا سکے اور میں یہ اکثر کرتی ہوں۔ کیونکہ مجھے بھی اپنے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ ‘

’جبکہ ہمارے ہاں اگر کوئی بیوی یا ماں ایسا کرنے کا سوچتی ہے تو اسے یا تو آوراہ کہہ دیا جاتا ہے یا لاپرواہ ماں اور بیوی سمجھا جاتا ہے جو انتہائی غلط ہے۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت کی بھی اپنی زندگی ہوتی ہے جس میں اس کے لیے گھر، شوہر، بچوں کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جو ضروری ہوتی ہیں۔ اس رجحان کو یقینی طور پر جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

’ماں اور باپ دونوں کو ہی اپنے بچوں کے ساتھ اس قسم کا تعلق یقینی طور پر بنانا چاہیے تاکہ اگر عورت کو کبھی اپنے کیرئر اور پڑھائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تو وہ دے سکے۔ ‘

Comments - User is solely responsible for his/her words