چینی صدر کے سیاسی نظریات قومی نصاب میں شامل

چین
Getty Images
چین میں نصاب پر بہت توجہ دی جاتی ہے
چین کی حکومت صدر ژی جی پنگ کے سیاسی نظریات کو ملک کے تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ بنانے کا سوچ رہی ہے۔

ملک کی وزارتِ تعلیم نے اپنے نئے ہدایت نامہ میں کہا ہے کہ ژی جی پنگ کی سیاسی سوچ نوجوانوں میں مارکس کے نظریات کو گھر کرنے میں مدد دے گی۔

یہ سیاسی نظریات ابتدائی جماعتوں سے یونیورسٹی تک کی سطح پر پڑھائے جائیں گے۔

چین کے صدر ژی جی پنگ کی طرف سے حکمران کیمونسٹ پارٹی کی جڑوں کو معاشرے میں مستحکم کرنے کی کوشش میں یہ اقدام بڑی حد تک مدد گار ثابت ہو گا۔

وزارتِ تعلیم نے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد سوشلزم کے مستقبل کےمعماروں اور وارثوں کو مضبوط اخلاقی، جسمانی اور نظریاتی بنیادوں پر تیار کرنا ہے۔

Chinese President Xi Jinping

Getty Images

اس ہدایت نامے میں مزدوروں کی تعلیم بھی شامل ہے تاکہ محنت کرنے کا جذبہ اور قومی سلامتی کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔

چین کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے نے سنہ 2018 میں ژی جی پنگ کی سوچ کو ملکی آئین کا حصہ بنا دیا تھا۔

اس کے بعد سے اس سوچ کو یونیورسٹی اور طلباء تنظیوں کی غیر نصابی سرگرمیوں میں شامل کر دیا گیا تھا۔

صدر ژی جی پنگ کی سیاسی سوچ یا نظریہ چودہ اصولوں پر مرتب ہے جس میں کیمونسٹ اقدار کو اولیت حاصل ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اس کا وسیع تر پیمانے پر پرچار اور تشہیر کی جائے گی۔

سرکاری نشریاتی ادارے گلوبل ٹائمز کے مطابق پرائمری کی سطح پر بچوں میں ملک سے اور چین کی کیمونسٹ پارٹی سے محبت اور وفاداری کا جذبہ پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ مڈل کی سطح پر بچوں میں سیاسی فیصلہ سازی اور رائے قائم کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے عملی اور علمی طریقہ استعمال کیے جائیں گے۔

کالج کی سطح پر طالب علموں کی سیاسی سوچ کو پروان چڑھانے پر زور دیا جائے گا۔

گلوبل ٹائمز نے وزارتِ تعلیم کے ایک اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ملک کی وزارتِ تعلیم ان موضوعات کو نصاب کا حصہ بنانے کے بارے میں سوچ رہی ہے جن سے قائدانہ صلاحیتیں اجاگر کرنے اور قومی دفاع کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

چین میں کئی سابق رہنما کے سیاسی نظریات کو بھی آئین اور قومی سوچ کا حصہ بنایا گیا۔

لیکن چین کی کیمونسٹ پارٹی کے بانی ماؤ ژے تنگ کے علاوہ کسی رہنما کے نظریے کو سوچ قرار نہیں دیا گیا۔ صرف ماو زے تنگ اور ڈینگ ژیاو پنگ کے ناموں سے سیاسی نظریات جڑے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words