تتلی اڑی،اڑ نہ سکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تتلی اڑی، اڑ نہ سکی
تتلی اڑی
اڑ نہ سکی
بس میں بیٹھی
سیٹ نہ ملی
ڈرائیور بولا
”آ میرے پاس“
تتلی بولی
ہٹ بدمعاش
ڈرائیور بولا یہ کیا بات
تتلی بولی
گدھے کی لات
اگر آپ بھی بچپن میں چھم چھم کھیلتے ہوئے اس نظم سے گزرے ہیں تو آپ اکیلے نہیں۔

نہ بچپن میں کوئی مسئلہ ہے اور نہ چھم چھم کھیلنے میں، مسئلہ اس ذہنیت میں ہے جس کو اس نظم میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔

ہمارے دماغوں میں بچپن سے یہ رویے بیٹھے ہوئے ہیں کہ ”یہ تو ہوگا“ ، تتلی اڑے گی تو کوئی نہ کوئی بدمعاش اسے ”آ میرے پاس ضرور کہے گا“

ہم مردوں کے بہت سارے غلط رویوں کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔
مثلاً فنکشن یا کنسرٹ میں جاؤ تو ضرور ہی بدتمیزی ہوگی۔ اس لیے کبھی نہ جاؤ۔

عید بقر عید، ملک گیر چھٹی والے دن کسی پبلک پارک یا سی ویو قسم کی جگہ پہ کبھی نہ جاؤ، کچرا آیا ہوا ہوتا ہے (معذرت)

بازار میں رش کی جگہ پر جائیں گے تو ایک دو ہاتھ آپ کو ضرور چھو کے گزریں گے، یہ شاپنگ کی قیمت ہے تیار رہیں۔

منی بس میں بیٹھو تو دھیان رکھنا ہے کہ مردانے سے آگے والی سیٹ نہ ملے تو اچھا ہے ورنہ کوئی ہاتھ سائڈ سے آ کے تھوڑی دیر کا مزا لے سکتا ہے۔

لڑکوں سے بھری کسی یونیورسٹی میں پڑھو تو ذہن بنا لو کہ جگہ جگہ بات بات پہ ہوٹنگ بھی ہونی ہے اور زو معنی جملے بھی کان میں پڑیں گے، بس ڈھیٹ بن کے گزر جانا ہے اس کا کوئی حل نہیں۔

کام کرنے باہر نکلو گی تو اپنا رویہ حد درجہ سخت رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہاں بھی عجیب نظروں اور جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سوشل میڈیا پہ خاتون ہوتے ہوئے کوئی تصویر یا ویڈیو ڈالی جائے چاہے کانٹینٹ میں کوئی بیہودہ بات نہ ہو بلکہ کام کی بات ہو تو بھی تیار رہیں کہ انباکس الٹے سیدھے میسجز سے بھر جائے گا، یہ تو نارمل بات ہے۔

سوشل میڈیا کے علاوہ یہ سب باتیں ٹک ٹاک، اسمارٹ فونز، وائی فائی حتٰی کہ انٹرنیٹ آنے سے بھی پہلے کی ہیں اور اس وقت جب ٹی وی کی نشریات بھی چند گھنٹوں پہ مشتمل تھی۔

تو پھر اصل وجہ کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب رویے کسی بھی مہذب معاشرے میں ہر گز نارمل نہیں سمجھے جاتے اور ہم اسلام کا نام لیوا ہونے کے باوجود انہیں نارمل گردانتے ہیں۔

بات صرف اتنی ہے کہ چاہے کوئی با پردہ گھریلو لڑکی ہو، کوئی فیشن ایبل خاتون ہوں، کوئی آئٹم نمبر کرنے والی فلم ایکٹریس یا ڈانسر ہو، ٹک ٹاکر ہو، یا کوئی پیشہ کرنے والی عورت ہو۔ ایسا سلوک کرنے کا حق پھر بھی کسی کو نہیں پہنچتا۔

ملک، مذہب، معاشرت، تربیت، تہذیب جب کسی بھی خاتون کو بغیر اجازت چھونے کا حق نہیں دیتے تو ہم کون ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ”ایسی“ لڑکیاں اسی سلوک کی مستحق ہیں؟

چلیں سب چھوڑیں بس ایک سوال کا جواب دے دیجئے۔

کل کو کوئی ایسا موقع آیا کہ آپ کی با پردہ بہن یا بیٹی حادثاتی طور پہ کسی ایسے مجمع میں پھنس گئی تو کیا آپ گارنٹی دے سکتے ہیں کہ اس کے ساتھ کچھ ایسا نہیں ہوگا؟

! ذرا سوچیے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments