افغانستان میں طالبان: طالبان کے دعوؤں کے باوجود کابل میں خواتین گھروں تک محدود

خدائے نور ناصر - بی بی سی ، اسلام آباد

افغانستان
Getty Images
افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کو لگ بھگ دو ہفتے ہونے کو ہیں اور اس دوران طالبان کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے سے نہیں روکیں گے۔

مگر دوسری جانب کابل کی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم خواتین کا کہنا ہے جب 15 اگست کو طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تھا وہ دن اُن کا یونیورسٹی میں آخری دن تھا کیونکہ اس کے بعد سے وہ واپس یونیورسٹی نہیں جا پائی ہیں۔

کابل یونیورسٹی میں زیر تعلیم کئی خواتین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب سے طالبان نے کابل کا کنٹرول حاصل کیا ہے تب سے وہ نہ یونیورسٹی گئی ہیں اور نہ ہی بازار جانے کے لیے اپنے گھروں سے نکلی ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان ترجمان یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ افغان خواتین شریعت اور افغان معاشرے میں رائج روایات کی پابندی کرتے ہوئے میں سکول، یونیورسٹی یا دفاتر جا سکتی ہیں۔

زمزمہ (فرضی نام) کابل یونیورسٹی کے ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ پالیسی ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 15 اگست کے دن وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ معمول کی طرح یونیورسٹی پہنچیں اور کلاسز لینا شروع کیں۔

’دوسرے ہی پیریڈ کے دوران ہمیں بتایا گیا کہ اپنے اپنے گھر چلی جاؤ کیونکہ طالبان کابل شہر کی طرف آ رہے ہیں۔ چونکہ سب کے دلوں میں ماضی کے طالبان کا خوف تھا، اس لیے ہمیں انتظامیہ کی جانب سے گھر جانے کا کہا گیا۔‘

افغانستان

Getty Images

زمزمہ کے مطابق اُس کے بعد جس خوف اور ڈر میں یونیورسٹی کی ساری خواتین اور مرد طالبعلم وہاں سے نکلے، وہ بیان کرنے کے لیے اُن کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

زمزمہ کے مطابق یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد بازار میں پھیلی افراتفری کی وجہ سے گھر جانے کے لیے ٹیکسی نہیں مل رہی تھی۔

’شہر میں وحشت ناک صورتحال تھی۔ ٹیکسی یا گاڑیاں نہیں مل رہی تھیں اور سب لوگوں کو اپنے اپنے گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔‘

کابل یونیورسٹی کی اس طالبہ کے مطابق یونیورسٹی سے نکلتے وقت اُنھیں بتایا گیا تھا کہ اگر طالبان نے شہر کا کنٹرول حاصل کر لیا تو یونیورسٹی نہیں آنا اور اگر طالبان نے کنٹرول حاصل نہ کیا تو پھر اگلے دن وہ واپس یونیورسٹی آ سکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اب بھی ہم یونیورسٹی کے واٹس ایپ گروپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ کوئی بھی ابھی تک نہ تو یونیورسٹی گیا اور نہ ہی یونیورسٹی کی طرف سے ہمیں کچھ بتایا گیا۔‘

اگرچہ زمزمہ کے مطابق ابھی تک اُن کی یونیورسٹی کے مرد طالب علم بھی واپس یونیورسٹی نہیں گئے لیکن مردوں کی نسبت خواتین میں ڈر اور خوف اس لیے زیادہ ہے کہ ’ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں مرد طالب علموں کو پڑھنے کی اجازت ہو لیکن خواتین زیادہ پُراُمید نہیں۔‘

بینر

BBC

منی سکرٹ سے برقعے تک: افغان خواتین کی زندگیاں کیسے بدلیں

افغانستان کے جغرافیے میں چھپا وہ راز جو اسے ‘سلطنتوں کا قبرستان’ بناتا ہے

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟


یونیورسٹی تو چھوڑیں، بازاروں میں بھی خواتین نہیں

کابل یونیورسٹی کی طالبہ زمزمہ مزید کہتی ہیں کہ طالبان کے آنے کے بعد پہلے دو دن تو اُنھیں ایسا محسوس ہوا کہ طالبان خواتین کو حجاب میں یونیورسٹی اور بازاروں میں جانے دیں گے لیکن دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کا یہ احساس بھی ختم ہو رہا ہے۔

’بازاروں میں بھی خواتین نظر نہیں آ رہی ہیں، ماضی جیسے حالات تو بالکل نہیں ہیں۔ ہمیں اُمید تھی کہ شاید طالبان خواتین کو حجاب میں گھر سے نکلنے کی اجازت دے دیں گے لیکن وہ سب صرف دعویٰ ہی تھا، عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں۔‘

زمزمہ نے طالبان پر الزام لگایا کہ ’میڈیا میں وہ خواتین اور انسانی حقوق کی جو باتیں کر رہے ہیں وہ صرف اور صرف بین الاقوامی برادری میں اپنا مقام بنانے کے لیے کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔‘

’بازاروں میں بھی ماضی کی طرح خواتین نہیں ہیں۔ کوئی بھی خاتون گھر سے باہر نہیں نکلتی اور اگر نکلتی بھی ہے تو گھر کے کسی مرد کے ساتھ حجاب میں نکلتی ہے۔‘

افغانستان

Getty Images

ہمارا مستقبل، ہماری اُمیدیں سب کچھ ختم

زمزمہ کے مطابق جب سے طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل آئے ہیں تو ’اُن کی اُمیدیں ختم ہو گئی ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے لیے پریشان ہیں۔‘

زمزمہ کہتی ہیں کہ گذشتہ بیس برسوں میں افغان خواتین نے جو حاصل کیا تھا وہ سب ختم ہو گیا اور اب ’اُن کا ملک تیس، چالیس سال پیچھے چلا گیا ہے۔‘

کابل میں رہنے والی ایک اور خاتون فرزانہ، طالبان کے آنے سے پہلے ایک سرکاری دفتر میں کام کر رہی تھیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کے آنے کے بعد وہ نہ اپنے دفتر گئی ہیں اور نہ ہی جائیں گی۔

’مجھے دفتر کی جانب سے بتایا گیا کہ اگر کوئی فون کال بھی آئے کہ دفتر آؤ، تب بھی نہیں آنا۔ ایسا نہ ہو طالبان اسی بہانے آپ کو بلائیں اور پھر کوئی نقصان پہنچائیں۔‘

فرزانہ کے مطابق اب اُنھوں نے گھر پر ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ حالات کے نارمل ہونے تک گھر سے باہر کوئی کام نہیں کریں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words