سپریم کورٹ یا چیف جسٹس، از خود نوٹس لینے کا اختیار کس کے پاس: پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر نئی بحث

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ آف پاکستان
BBC
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے لیے گئے از خود نوٹس کو واپس لے لیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی معاملے پر از خود نوٹس لینے کا اختیار کسی بینچ کے پاس نہیں بلکہ چیف جسٹس کے پاس ہے۔

پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لا رجر بینچ نے از خود نوٹس لینے کے دائرہ اختیار کے معاملے پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معاملہ کسی بینچ کے سامنے آئے تو وہ خود اس کا نوٹس نہیں لے سکتا بلکہ وہ یہ معاملہ چیف جسٹس کے نوٹس میں لاسکتا ہے اور چیف جسٹس کا اختیار ہے کہ وہ اس معاملے پر بینچ تشکیل دیں۔

آئینی ماہرین کی اس پانچ رکنی لارجر بینچ کے فیصلے کے متعلق رائے ذرا مختلف ہے۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 184کی شق 3 جو کہ از خود نوٹس سے متعلق ہے اس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ از خود نوٹس لینے کا اختیار ملک کے چیف جسٹس کے پاس ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین کی اس شق میں سپریم کورٹ کا ذکر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر وہ جج جو کسی بینچ کا حصہ ہے وہ سپریم کورٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مفاد عامہ کے کسی معاملے پر سپریم کورٹ کا کوئی بھی بینچ از خود نوٹس لے سکتا ہے۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اگر ایک لمحے کے لیے اس پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو درست تسلیم کر لیا جائے تو ماضی میں سپریم کورٹ کے ججوں نے جو از خود نوٹس لیے تھےاور جن پر فیصلے سنائے گئے تھے ان تمام از خود نوٹسوں پر کیے گئے فیصلوں پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ آئین میں کہیں بھی ایسا نہیں لکھا ہوا کہ صرف چیف جسٹس ہی سپریم کورٹ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں جس میں چیف جسٹس کی طرف سے از خود نوٹسوں کا ان کے بقول غلط استعمال ہوا جس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس ثاقب نثار قابل ذکر ہیں۔

عرفان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے دور میں جب ہسپتالوں اور سکولوں پر چھاپے مارتے تھے تو کیا اس حوالے سے کوئی درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار آفس میں دائر ہوتی تھی جس پر وہ کارروائی کرتے ہوئے چھاپے مارتے تھے؟

یہ بھی پڑھیئے

صحافیوں پر تشدد کرنے والے پکڑے کیوں نہیں جاتے؟

کیا اسلام آباد صحافیوں کے لیے غیر محفوظ بنتا جا رہا ہے؟

جسٹس گلزار احمد کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال: ’ججز والد کے درجے کے برابر ہیں اس لیے مجھے معاف کر دیا جائے‘

ترقیاتی فنڈز کیس: چیف جسٹس اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں، فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ

انھوں نے کہا کہ ایک طرف سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہتی ہے کہ وفاقی حکومت سے مراد صرف وزیر اعظم نہیں بلکہ کابینہ میں شامل وزرا ہیں جبکہ دوسری طرف اس طرح کے فیصلے دے کر جوڈیشل ڈکٹیٹرشپ لائی جا رہی ہے۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں تو جسٹس عمر عطا بندیال کو اس لارجر بینچ میں بیٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ وہ اگلے سال فروری میں ملک کے چیف جسٹس ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کی شق چار میں یہ لکھا گیا ہے کہ اگر کسی جج کا یا اس کے کسی دوست یا رشتہ دار کا مفاد وابسطہ ہے تو اس کو اس بینچ میں بھی نہیں بیٹھنا چاہیے جس میں یہ معاملہ سنا جا رہا ہے۔

پاکستان کے سابق چیف لا افیسر کا کہنا تھا کہ از خود نوٹس لینے کا معاملہ ایک انتظامی نوعیت کا معاملہ ہے اور بہتر ہوتا کہ اس بارے میں چیف جسٹس فل کورٹ بلا کر اس کا فیصلہ کر دیتے۔

جسٹس عمر عطا بندیال

Supreme Court of Pakistan
پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لا رجر بینچ نے از خود نوٹس لینے کے دائرہ اختیار کے معاملے پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معاملہ کسی بینچ کے سامنے آئے تو وہ خود اس کا نوٹس نہیں لے سکتا

انھوں نے کہا کہ اگر چہ سپریم کورٹ کے جج یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ آئین کی سربلندی کے لیے ایک پیج پر ہیں لیکن ان کے عمل سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے ان میں اختلافات واضح ہیں۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں بھی سپریم کورٹ کے ججوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے اور اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس ارشاد حسن خان اور جسٹس سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں بنائے گئے بینچ ایک دوسرے کے خلاف آرڈر پاس کر رہے تھے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی طرف سے از خود نوٹس لینے کے اختیار کے معاملے کو بڑی عجلت میں نمٹایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صرف دو دن کی عدالتی کارروائی کے بعد جس میں صرف اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو سنا گیا، اس کے بعد اس کا فیصلہ سنا دیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اگر جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرف سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس پر کوئی متاثرہ فریق عدالت میں گیا ہوتا تو پھر بھی کہا جا سکتا تطا کہ متاثرہ فریق کی درخواست کی سماعت کے لیے قائم مقام چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل دیا گیا لیکن یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو درست مان لیا جائے کہ از خود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہے تو موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد نے، جو اُس وقت چیف جسٹس نہیں تھے، کراچی سرکلر ریلوے کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا، وہ بھی واپس لیں اور اس پر جو احکامات جاری ہوئے وہ بھی واپس لیں۔

انھوں نے کہا کہ جسٹس گلز ار احمد نے جس وقت کراچی سرکلر ریلوے کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا تو اس وقت آصف سعید کھوسہ ملک کے چیف جسٹس تھے۔

رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اس عدالتی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی درخواست کے بارے میں جو عدالتی سماعت کی تھی اس کو ہی ختم کر دیا گیا اور یہ درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی ہے کہ وہ اس پر بینچ تشکیل دیں۔

انھوں نے کہا کہ آئین میں یہ درج ہے کہ کسی بھی جج کو اس وقت تک بینچ سے الگ نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ خود اس بینچ سے الگ ہونے میں آمادگی ظاہر نہ کرے۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ان کے از خود نوٹس لیے جانے کے بارے میں لارجر بینچ کی تشکیل کے بارے میں ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک بینچ کی عدالتی کارروائی کو دیکھنے کے لیے مانٹیرنگ بینچ نہیں بنایا جا سکتا۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بارے میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی درخواست پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری اطلاعات کو 26 اگست کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words