عالمی سطح پر خوردنی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کیا واقعی حکومت نے برداشت کیا ہے؟

تنویر ملک - صحافی

کراچی کے علاقے ناظم آباد کی رہائشی ریحانہ محمود کچن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے بہت فکر مند ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ان کے کچن کا خرچہ بہت تیزی سے بڑھا ہے۔

ان کے مطابق آج سے تین سال پہلے دس کلو چکی آٹا 500 سے 530 روپے کے درمیان آتا تھا لیکن آج آٹے کے دس کلو تھیلے کی قیمت 750 روپے تک جا پہنچی ہے۔

اسی طرح تیل کا ایک پیکٹ جو آج سے تین سال پہلے 200 سے 210 روپے تک دستیاب تھا آج اس کی قیمت 340 سے 350 تک پہنچ چکی ہے۔

ایک کلو چینی جو وہ 55 سے 60 روپے میں خریدا کرتی تھیں، آج وہ چینی 110 روپے سے بھی زیادہ قیمت پر خریدنے پرمجبور ہیں۔

ریحانہ محمود گھریلو خاتون ہیں اور ان کے شوہر نوکری کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ تین برسوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں تو بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم ان کے شوہر کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن کے باعث ان کے شوہر کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان میں اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے صرف ریحانہ محمود ہی پریشان نہیں ہیں بلکہ مہنگائی میں اضافے نے ملک کے تمام طبقات، خاص کر متوسط اور غریب طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

پاکستان میں سنہ 2018 کےانتخابات کے بعد بننے والی تحریک انصاف کی حکومت کو اس وقت مہنگائی کی وجہ سے سب سے زیادہ تنقید کا سامنا ہے۔

حزب اختلاف، خصوصاً اس میں شامل سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت پر جب تنقید کی جاتی ہے تو اس میں خوردنی اشیاء کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جس میں نواز لیگ کے دور میں اشیائے خورد و نوش کی کم قیمتوں کو دکھایا جاتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر وزارت خزانہ نے خوردنی اشیاء کی قیمتوں کے سلسلے میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں یہ اعتراف تو کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے عالمی سطح پر خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو مکمل طور پر صارفین کو منتقل نہیں کیا اور عالمی سطح پر ہونے والے اضافے کو برداشت کر کے صارفین کو قیمتوں میں بہت زیادہ ہونے والے اضافے سے بچایا ہے۔

حکومت کے اس دعوے میں کتنی حقیقت ہے، اس کے متعلق اجناس اور معیشت کے ماہرین کہتے ہیں کہ اس دعوی میں بہت زیادہ سچائی نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے کیا جانے والا دعویٰ اس حد تک تو صحیح ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی سطح پر زیادہ قیمت کو پوری طرح عوام پر منتقل نہیں کیا گیا تاہم کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ پوری طرح عوام کو منتقل ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں اب بڑی تعداد میں خوردنی چیزوں کی درآمد ہو رہی ہے اور ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے بھی ان کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

حکومت کا دعویٰ کیا ہے؟

وفاقی حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں مقامی سطح پر اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تین سال پہلے تحریک انصاف کی حکومت پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کے بعد برسر اقتدار آئی تھی۔ تاہم جہاں حکومت مقامی سطح پر قمیتوں میں اضافے کا اعتراف کر رہی ہے تو دوسری جانب اس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ملکی سطح پر صارفین کو عالمی سطح پر خورد و نوش کی چیزوں میں ہونے والے بے پناہ اضافے سے بھی اس نے بچایا ہے اور بڑھتی ہوئی قیمتوں میں سے زیادہ حصہ اس نے خود برداشت کیا ہے اور اس کا کم حصہ صارفین تک پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

کیا پاکستان میں مہنگائی جانچنے کا نظام صحیح ہے؟

اخراجات بڑھ رہے ہیں، تنخواہ نہیں۔۔۔

حکومت کا ’کمر توڑ مہنگائی کی کمر توڑنے کا فیصلہ‘

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل بہتری کی وجوہات کیا ہیں؟

وزارت خزانہ نے اس سلسلے میں ایک چارٹ بھی جاری کیا ہے جس میں مختلف خوردنی چیزوں کی عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ اور مقامی سطح پر ان کی قیمتوں میں اضافے کا تناسب دکھایا گیا ہے۔ ان خوردنی اشیا میں چینی، گندم، گھی، دال چنا اور نیڈو دودھ کی قیمتوں کو ظاہر کیا گیا ہے۔

اس چارٹ کے مطابق:

عالمی سطح پر چینی کی قیمت میں اگست 2018 سے لے کر اگست 2021 تک 83 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مقامی سطح پر اس کی قیمتوں میں 41 فیصد اضافہ ہوا۔

گندم کی قیمت میں عالمی سطح پر 51 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مقامی سطح پر اس کی قیمتوں میں 53 فیصد اضافہ ہوا۔

گھی کی قیمتوں میں عالمی سطح پر 98 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت 41 فیصد بڑھی۔

دال چنا کی قیمت میں عالمی مارکیٹ میں 40 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت 37 فیصد بڑھی۔

نیڈو دودھ کی قیمت عالمی سطح پر 52 فیصد بڑھی جبکہ ملکی سطح پر اس کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔

دوسری جانب وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں تقریباً چار فیصد کے حساب سے مجموعی ملکی پیداوار بھی بڑھی ہے جس کی وجہ سے عام پاکستانی کی اوسط آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس اضافی آمدنی کی وجہ سے وہ زیادہ قیمتوں کے اثر سے محفوظ رہا۔

کیا حکومتی دعویٰ صحیح ہے؟

حکومت کی جانب سے کیے جانے والے دعوے کے مطابق اس نے عالمی سطح پر بہت زیادہ اضافے کو ملکی صارفین کو منتقل نہیں کیا اور خوردنی اشیا کی قیمتوں کو کم بڑھنے دیا۔

اس سلسلے میں پاکستان میں اجناس سے متعلق امور کے ماہر شمس الاسلام نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جن چیزوں پر یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان کی عالمی سطح پر قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو اس نے مکمل طور پر صارفین کو منتقل نہیں کیا اس میں سے دو نمایاں گندم اور چینی ہیں۔ ان دونوں چیزوں کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ دیکھنے میں آیا اور پاکستان کو مہنگے نرخوں پر گندم اور چینی درآمد کرنا پڑی۔

ان کے مطابق تاہم یہ حقیقت بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ ان دونوں چیزوں کی پاکستان میں بھی پیداوار ہوتی ہے اور صرف اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ان کی درآمد کی جاتی ہے، اب اگر مقامی طور پر پیدا کی جانے والی گندم اور چینی کی قیمتوں کو درآمد کی جانے والی ان اجناس کو ملا کر دیکھا جائے تو پھر اس دعوے میں حققیت نظر نہیں آتی کیونکہ ملک میں چینی اور گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے لیکن پھر بھی قیمتوں میں لگاتار اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اجناس کے ایک اور ماہر احسن محنتی نے اس سلسلے میں کہا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ بھی ہوا اور اس کا اثر ملکی مارکیٹ پر بھی آیا تاہم حکومت نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا اور مختلف طریقوں اور سبسڈی دے کر قیمتوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے یہ اقدام یوٹیلٹی کارپوریشن کے ذریعے کیا ہے جہاں مارکیٹ سے کم داموں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کی جاتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یوٹیلٹی سٹورز سے ملک کی آبادی کا 25 فیصد حصہ فائدہ اٹھاتا ہے جن میں 50 فیصد غریب طبقہ شامل ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور معاشی ماہر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک پٹرولیم مصنوعات کا تعلق ہے اس میں تو حکومت نے اپنا کردار ادا کیا کہ مہنگی مصنوعات کا سارا بوجھ عوام تک منتقل نہیں ہونے دیا جس میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور سیلز ٹیکس کم کر کے ان قیموں میں زیادہ اضافے کو روکا ہے تاہم اشیائے خوردو نوش کے معاملے میں یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور ان کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پاشا نے کہا کہ حکومت اگرچہ دعویٰ کر رہی ہے لیکن اس کا یہ دعویٰ بھی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ہے۔ پاشا نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ادارہ شماریات ملک میں مہنگائی کی شرح ساڑھے آٹھ فیصد بتا رہا ہے جبکہ آزاد معاشی ماہرین اور ادارے اس شرح کو بارہ ساڑھے بارہ فیصد تک بتا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا اعداد و شمار کے ساتھ ’ہیر پھیر‘ کیا جاتا ہے تاکہ اپنی ’تھوڑی بہت کارکردگی کو بہت نمایاں کیا جائے اور ناکامی کو چھپایا جا سکے‘۔

ایک اور معاشی ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے اس سلسلے میں کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی مسلسل دوہرے ہندسوں میں رہی ہے اور اس نے عام آدمی کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔

اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی یا مقامی؟

پاکستان میں کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں ہونے والے بے تحاشا اضافے کو حکومت عالمی سطح پر ان کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے جوڑتی ہے تاہم پاکستان میں معیشت کے ماہرین صرف عالمی سطح پر ہونے والے اضافے کو اس کی وجہ قرار نہیں دیتے بلکہ مقامی سطح پر قیمتوں کی نگرانی کا کمزور حکومتی نظام، کارٹیلائزیشن، ناجائز منافع خوری وغیرہ کو بھی اس کا الزام دیتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں بہت زیادہ مہنگائی بڑھی ہے۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ اگر حکومت کے اعداد و شمار کو ہی لیا جائے تو پاکستان میں مہنگائی نو فیصد کے حساب سے بڑھی ہے جب کہ اسی خطے میں بنگلہ دیش اور ہندوستان میں مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد کے قریب ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والے اضافے نے ان ممالک کو بھی متاثر کیا لیکن وہاں پاکستان سے کم مہنگائی سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے ملک میں دوسری وجوہات بھی ہیں۔ انھوں نے کہا ایک تو پاکستان بہت زیادہ کھانے پینے کی چیزیں درآمد کرتا ہے اور روپے کی ڈالر کے مقابلے میں بے قدری ان کی درآمدات کو مہنگا بنا رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جس طرح ڈالر بڑھ رہا ہے تو خدشہ ہے کہ آٹے اور چینی کی قیمتیں بھی مزید بڑھیں گی کیونکہ اب ہم بہت زیادہ مقدار میں ان کی درآمد کر رہے ہیں۔

پاشا نے حکومت کے بجٹ خسارے کو بھی چیزوں کے نرخوں میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اس خسارے کو کم کرنے کے کے لیے بہت زیادہ نوٹ چھاپ رہی ہے جو منی سپلائی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے اور یہ بھی چیزوں کو مہنگا کرنے میں حصہ ڈال رہا ہے۔

ڈاکٹر اکرام الحق کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے پاکستان اپنی خوراک کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے اب درآمدات پر انحصار کر رہا ہے اور مہنگا ڈالر ان چیزوں کو مقامی مارکیٹ میں مہنگا بنا رہا ہے۔ انھوں نے ملک میں کارٹیلائزیشن کو بھی اس کی ایک وجہ قرار دیا ہے جن پر حکومتی نگرانی کا نظام بہت کمزور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words