پریسے آفرین: ’میں آپ سے کہیں زیادہ بہادر ہوں، مجھ پر ترس کھا کر ہمدردی نہ جتائیں‘

کریم الاسلام - بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی

پریسے آفرین
BBC
’چچ چچ چچ۔۔۔ کیا جل گئیں تھیں؟ کیا تمھاری جلد جل گئی ہے؟ کیا مچھلی کے ساتھ دودھ پی لیا تھا؟

کراچی کی رہائشی 23 سالہ پریسے آفرین گھر سے قدم باہر نکالیں، خریداری کے لیے بازار کا رُخ کریں یا ملازمت کے لیے انٹرویو دینے جائیں، اس نوعیت کے کئی اذیت ناک سوال انھیں سُننے کو ملتے ہیں۔

اِس دل دُکھا دینے والے رویے کی وجہ وہ حادثہ ہے جو پندرہ سال قبل پیش آیا تھا۔ آٹھ سال کی عمر میں پریسے ایک حادثے کا شکار ہوئیں جس میں اُن کے جسم کا 48 فیصد حصہ بُری طرح جھلس گیا تھا۔

درجنوں آپریشن، مستقل علاج اور بے بہا قوتِ ارادی کے بل بوتے پر پریسے معمول کی زندگی گزارنے کے قابل تو ہو چکی ہیں لیکن اُن کے چہرے اور جسم پر زخموں کے نشان اب بھی موجود ہیں۔

جہاں یہ نشان اُن کی ہمت اور حوصلے کی کہانی سُناتے ہیں وہیں اکثر اوقات انھی داغوں کی وجہ سے اُنھیں منفی معاشرتی رویوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

خوفناک حادثہ

پریسے آفرین یاد کرتی ہیں کہ حادثے کے وقت وہ بہت چھوٹی تھیں لیکن اُس دن پیش آنے والے تمام تر واقعات اُنھیں آج بھی ازبر ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’ہم بچے تھے اور میں اپنے ہم عمر ایک بچے کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ کھیل کھیل میں ہم نے آگ لگا دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہم دونوں آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔‘

حادثے کے فوراً بعد ہسپتال لے جائے جانا بھی اُنھیں اچھی طرح یاد ہے۔

پریسے آفرین

BBC

’میری حالت اِتنی خراب تھی کہ کئی ہسپتالوں نے تو مجھے داخل کرنے سے انکار کر دیا لیکن پھر ایک پرائیویٹ ہسپتال میں میرا علاج شروع ہوا۔ پہلے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ میں زندہ نہیں بچوں گی اور چند گھنٹوں کی مہمان ہوں۔ میں اُس وقت جتنی تکلیف میں تھی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔‘

’میرا پورا جسم پٹیوں میں لپٹا ہوا تھا اور میں کپڑے بھی نہیں پہن سکتی تھی۔ میں کئی ماہ ہسپتال میں رہی۔ جب ڈسچارج ہوئی تو چل نہیں سکتی تھی کیونکہ میرے پورے جسم پر زخم تھے۔‘

’کون سے گناہ کیے تھے؟‘

پریسے آفرین کو گھر میں انتہائی سازگار ماحول ملا جس کی وجہ سے بڑے ہوتے ہوئے اُنھیں دوسروں سے مختلف ہونے کا زیادہ احساس نہیں تھا لیکن باہر کے لوگوں نے اُنھیں اُن کی جلد پر موجود نشانوں کا شدت سے احساس دلایا۔ اُنھیں طرح طرح کی باتیں سُننے کو ملیں۔

’میں نے اپنی ایک آنٹی کو امّی سے یہ کہتے سُنا کہ اِس نے ایسے کیا گناہ کر دیے تھے جو اِتنی بڑی سزا ملی ہے؟ یہ سُن کر میں سکتے میں آ گئی کہ ایک آٹھ سال کی معصوم بچی نے کون سے گناہ کر دیے۔‘

’سکول میں بھی بچے مجھے طرح طرح کے ناموں سے پکارا کرتے تھے۔ ایک دفعہ بچوں کے ایک گروپ نے میرے چہرے کو دیکھ کر کہا کہ دیکھو یہ بھوت بنگلے سے نکل کر آئی ہے۔‘

پریسے بتاتی ہیں کہ ’ایک اور بار میں میوزیکل چیئر کھیل رہی تھی کہ غلطی سے میرا ہاتھ ایک بچی کے ہاتھ سے مس ہو گیا۔ اُس نے ہنگامہ برپا کر دیا اور انتہائی ناگوار شکل بنا کر کہا کہ ’اِٹ ٹچڈ می‘ یعنی اِس چیز نے مجھے چھوا ہے۔ پھر وہ گئی اور اُس نے اپنے ہاتھ دھوئے۔ یہ سب دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گئی۔‘

پریسے آفرین

BBC

’لوگ ڈر جاتے ہیں‘

سکول اور کالج کے بعد بھی پریسے کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔ عملی زندگی میں قدم رکھنے پر اُنھوں نے ایک سکول میں ملازمت کے لیے درخواست دی تو پرنسپل نے کہا کہ وہ ملازمت کے لیے تو اہل ہیں لیکن بچے اُن کو دیکھ کر ڈر جائیں گے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ایسا نہیں کہ لوگ مجھے دیکھ کر ڈرے نہیں۔ ’ایک بار شاپنگ مال میں ایک لڑکی نے مجھے دیکھ کر چیخ ماری تھی۔ اُس دن گھر آ کر میں بہت روئی تھی۔‘

لیکن پریسے کہتی ہیں کہ اُنھوں نے اِن سب باتوں کا کوئی اثر نہیں لیا اور ثابت قدم رہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’شاید اِس کی وجہ یہ تھی کہ میری والدہ ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔ اُنھوں نے شروع سے ہی مجھے سمجھایا کہ لوگ جو بھی کہیں اُس کا مجھ پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ شاید یہ میری ماں کی تربیت ہی ہے کہ آج میں اتنی بہادر اور پُراعتماد ہوں۔‘

پریسے اپنے آپ کو خوش قسمت تصّور کرتی ہیں کہ اُن کی زندگی میں بے شمار مخلص دوست بھی آئے جنھوں نے زندگی کے ہر موڑ پر اُنھیں سہارا دیا اور کسی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔

’آپ پلاسٹک سرجری کیوں نہیں کراتیں؟‘

جلد پر موجود نشانات کو چھپانے یا سرے سے غائب کر دینے کے لیے پریسے آفرین کو آئے دن مفت مشورے بھی ملتے رہتے ہیں۔ کبھی ٹیکسی ڈرائیور، کبھی کوئی رشتہ دار، بیوٹی پارلر والی خاتون یا بینک کے گارڈ، ہر کوئی آئے دن اُنھیں آزمودہ نسخے اور ٹوٹکے بتاتا رہتا ہے۔

’مشورے تو مجھے اِس قسم کے بہت ملے ہیں کہ کیموفلاج میک اپ استعمال کرو۔ لال لپ سٹک لگاؤ اور اُس کے اوپر فاؤنڈیشن استعمال کرو تو سب چُھپ جائے گا۔ میں کبھی بیوٹی پارلر میک اپ کروانے جاؤں تو اکثر میرے کہے بغیر ایسا بیہودہ میک اپ کر دیا جاتا ہے کہ چہرے کے سارے نشان چُھپ جاتے ہیں۔ کبھی تصویر بنوانے فوٹو سٹوڈیو جاؤں تو وہاں بھی یہی ہوتا ہے۔ وہ فوٹو شاپ سے میرے تمام نشان غائب کر دیتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’یہ تو پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے کہ مجھے پھلبہری ہے‘

وہ جنھیں معاشرے نے بھلا دیا، ان کی یاد دلانے والی تصویریں

بال چر: ’یہ بیماری آپ کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچاتی ہے‘

وہ جنھیں معاشرے نے بھلا دیا، ان کی یاد دلانے والی تصویریں

پریسے کو پلاسٹک سرجری کروانے کے بھی بہت مشورے ملے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اُن کے اب تک اِتنے آپریشن ہو چکے ہیں کہ وہ شمار کرنا بھول چکی ہیں۔ اُن کے مطابق پلاسٹک سرجری ایک انتہائی طویل، صبر آزما اور مہنگا کام ہے اور اِتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے۔

’پلاسٹک سرجری میں زخم کے ایک ایک انچ کو مرحلہ وار آپریٹ کیا جاتا ہے۔ جب جسم کی نارمل جلد کو کاٹ کر زخم والی جگہ پر لگایا جاتا ہے تو درد ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ یہ بہت غلط تصور ہے کہ ایک پلاسٹک سرجری کراو، پٹی اُتارو اور چہرہ تبدیل۔ ایسا صرف سٹار پلس کے ڈراموں میں ہوتا ہے۔‘

پریسے آفرین

BBC

’کوئی ردِعمل نہ دیں‘

پریسے سمجھتی ہیں کہ کسی شخص کو اگر روز چلتے پھرتے یہ بتایا جائے کہ وہ بدصورت ہے تو یہ کہنا غلط ہے کہ اُس پر اثر نہیں ہوتا۔

’بالکل اثر ہوتا ہے۔ اُس وقت نہ بھی ہو تو کچھ دن بعد وہ بات یاد آتی ہے اور دل دُکھاتی ہے۔جب کسی سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کو کیا ہوا ہے تو لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا کہ اُس ایک واقعے سے اُس شخص کی کس قدر تکلیف دہ یادیں وابستہ ہیں۔‘

’ایسے سوالوں سے وہ زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔ میں بڑی محنت کر کے اپنے آپ کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن پھر کوئی شخص ایک ایسی بات کر دیتا ہے جس سے میں واپس جا کر ٹھیک وہاں کھڑی ہو جاتی ہوں جہاں سے میں نے اپنا سفر شروع کیا۔‘

پریسے چاہتی ہیں کہ معاشرے میں اُن کے ساتھ بالکل ایسے ہی سلوک کیا جائے جیسے کسی دوسرے نارمل شخص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

’آپ صرف یہ کریں کہ مجھے میرے ہمارے حال پر چھوڑ دیں۔ آپ کو کسی بھی قسم کا ردعمل کیوں دینا ہے؟ میں اگر بازار میں جا رہی ہوں تو کوئی نہ کوئی مجھے مڑ کر ضرور دیکھے گا۔۔۔ کیوں؟ مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگتا۔ آپ پلیز ناگواری کا اظہار کریں اور نہ ہی ہمدردی کا۔ یہ دونوں رویے تکلیف دہ ہیں۔‘

’مجھے جس چیز سے سخت نفرت ہے وہ ہمدردی ہے۔ آپ کی ہمدردی کا مجھے اچار ڈالنا ہے؟ مجھے آپ کی ہمدردی کی بالکل ضرورت نہیں۔ آپ مجھے کیا ہمدردی دکھائیں گے؟ میں آپ سے کہیں زیادہ بہادر ہوں۔ میں نے زندگی دیکھی ہے۔ میں نے موت کو قریب سے دیکھا ہے۔ برائے مہربانی مجھ پر ترس کھا کر ہمدردی نہ جتائیں۔‘

پریسے آفرین

BBC

’مجھے داغ نہیں چُھپانے‘

اپنی 23 سال کی زندگی میں پریسے آفرین کو کوئی ایک ایسا شخص نہیں ملا جو اپنے چہرے کے داغ نہ چھپاتا ہو۔ اِس رویے کے لیے وہ معاشرے کو موردِ الزام ٹھہراتی ہیں۔

وہ سمجھتی ہیں کہ ہمارے یہاں کسی بھی قسم کے مختلف انسان کو قبول نہیں کیا جاتا۔

’اگر میرے چہرے پر نشان ہیں اور میں اپنی زندگی نارمل انداز میں گزار رہی ہوں تو بہت سے لوگوں کے لیے یہ اچھنپے کی بات ہے۔ اُن کے لیے کسی کے چہرے پر داغ قابلِ قبول نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’میں کیوں چُھپاؤں اپنے داغ؟ مجھے نہیں چُھپانے اپنے نشان۔ میں اپنے زخموں کو اپناتی ہوں۔ یہ زخم میری جدوجہد کی کہانی بتاتے ہیں۔ میں اپنے زخموں سے پیار کرتی ہوں۔ مجھے کبھی اِنھیں چھپانے کی ضرورت پڑی ہے اور نہ ہی مجھے انھیں چُھپانا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words