کرپٹو کرنسی: ہیکنگ حملوں کے متاثرین کی کہانیاں

Man looking at stocks
Getty Images
ٹیکسی ڈرائیور کرس بے چینی سے اپنے فون پر موصول ہونے والی اپڈیٹس چیک کر رہے تھے۔ ان کی طبعیت میں بے چینی اس وجہ سے تھی کیونکہ اُن کا کہنا ہے کہ ’میں تقریباً 2500 یورو مالیت کی کرپٹو کرنسی کھو سکتا ہوں۔‘

کرس خود کو آسٹریا سے تعلق رکھنے والے ایک کرپٹو کرنسی تاجر کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ’لیکوئڈ گلوبل‘ نامی کرپٹو کرنسی ایکسچینج پر ہونے والے ایک ہیکنگ حملے کے بہت سارے متاثرین میں سے ایک کرس بھی ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ’وہ اپنے ان تمام صارفین کی ڈوب جانے والی رقوم ادا کریں گے جو اس ہیکنگ حملے میں متاثر ہوئے ہیں۔ اس حملے میں ہونے والا کل نقصان تقریباً 100 ملین ڈالر ہے۔‘

مگر جب تک انھیں پیسے واپس نہیں ملتے بہت سے صارفین پریشان رہیں گے۔

38 سال کے کرس جب بھی اپنی پرانی ووکس ویگن ٹیکسی میں کسی مسافر کو بٹھاتے ہیں تو انھیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے لیے کیا داؤ پر لگا ہوا ہے۔

’میری گاڑی 20 سال پرانی ہے۔ میں ایک نئی گاڑی لے سکتا تھا۔ ڈوب جانے والی رقم میرے لیے بہت بڑی ہے۔ مجھے اتنے پیسے بچانے میں کم از کم ایک سال لگتا ہے۔‘

انڈونیشیا میں 27 سال کی دینا بھی انتہائی پریشان ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ان ہیکرز پر اتنا غصہ آ رہا ہے اور مجھے اپنے بارے میں پریشانی ہے۔ میرے پاس تقریباً 30 ہزار ڈالر ہیں اور یہ رقم مجھے زندگی گزارنے کے لیے چاہیے۔ میں تو صرف ایک گھریلو خاتون ہوں جو کرپٹو سے پیسے بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

ادھر دوسری جانب ناروے کے ایک 42 برس کے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ انھیں کسی بھی چیز پر توجہ برقرار رکھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ کئی برسوں میں انھوں نے جو دولت جمع کی تھی وہ انھیں غائب ہوتی نظر آ رہی ہے۔

’میرے پاس نو لاکھ ستر ہزار یورو تھے۔ میرے لیے یہ انتہائی پریشان کن بات ہے۔ مجھ پر شدید ذہبی دباؤ ہے، میں ہر وقت اسی بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔‘

بٹ کوائن

Reuters

خوفزدہ والدین

ادھر سڈنی میں رہنے والے جیمز بتاتے ہیں کہ ان کے والدین اس ہیکنگ کے واقعے پر انتہائی پریشان ہیں۔ جیمز اپنے پیسے کمپنی کی جانب سے ٹرانزیکشن روکنے سے پہلے نکالنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

’میرے والدین کے پاس ایک بٹ کوائن تھا جو کہ تقریباً 70 ہزار آسٹریلوی ڈالر کا تھا۔ یہ ان کے لیے بہت بڑی رقم تھی۔‘

’ظاہری بات ہے کہ اس سے پریشانی تو ہوئی۔ پہلے انھیں سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے اور پھر انھیں لگا کہ انھیں جلد از جلد بٹ کوائن کو فروخت کر دینا چاہیے، اور اسی کوشش کے دوران انھیں تقریباً 10 ہزار آسٹریلوی ڈالر کا نقصان ہوا۔‘

لیکوئڈ گلوبل کو گذشتہ ہفتے ہیک کیا گیا تھا اور اس بات کا امکان انتہائی کم ہے کہ کمپنی یہ رقم واپس حاصل کر سکے گی۔ اس جاپانی کمپنی نے بدھ کے روز کہا تھا وہ ’ایک جامع سکیورٹی ریویو کر رہی ہے اور صارفین کو یقین دہانی کروانا چاہتی ہے کہ انھیں اس واقعے کی وجہ سے کوئی مالی نقصان نہیں ہو گا۔‘

کیا یہ ایکسچینج محفوظ ہیں؟

لیکوئڈ گلوبل جیسی ایکسچینج کرپٹو کمپنیاں کرنسی کی دنیا میں ایک انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ وہ ویب سائٹس ہیں جہاں پر لوگ ڈیجیٹل کوائن جیسا کہ بٹ کوائن یا ایتھیریئم کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں اور بہت سے لوگ یہاں پر اپنے کوائن محفوظ رکھنے کے لیے رکھتے ہیں مگر ان ایکسچینج کمپنیوں کی سکیورٹی پر سوالات ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں ایک اور کرپٹو پلیٹ فارم ’پولی نیٹ ورک‘ بھی ہیک ہوا تھا جس میں صارفین کے 610 ملین ڈالر نکال لیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ دیگر ویب سروسز پر بھی کئی حملے ہو چکے ہیں اور سنہ 2014 سے اب تک کم از کم 1.6 ارب پاؤنڈ چوری کیے جا چکے ہیں۔

خاکہ

Getty Images

کرپٹو کرنسی پر ہونے والے بڑے بڑے ہیکنگ حملے

  • بٹ گریئل: 2018 میں اطالوی ایکسچینج سے 146 ملین چوری کیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے دو لاکھ 30 ہزار صارفین کو اس ہیکنگ حملے میں نقصان پہنچا
  • کو کوائن: 2020 میں مبینہ طور پر شمالی کوریا کے ہیکروں نے سیشیلز کی اس کمپنی پر حملہ کر کے 281 ملین ڈالر چوری کیے تھے۔ کمپنی نے رقم واپس حاصل کر لی تھی اور ان کے زیادہ تر صارفین کو پیسے لوٹا دیے گئے تھے
  • ایم ٹی گوکس: 2014 میں اس جاپانی ایکسچینج سے 450 ملین کے بٹ کوائن چرائے گئے جس کے بعد یہ کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ کسی بھی صارف کو ابھی تک پیسے لوٹائے نہیں گئے
  • کوائن چیک: 2018 میں جاپانی ایکسچینج سے 534 ملین چوری کیے گئے۔ صارفین کو آخر پیسے لوٹا دیے گئے تھے
  • پولی نیٹ ورک: اس چینی پلیٹ فارم سے رواں ماہ کے آغاز میں 610 ملین ڈالر چرائے گئے۔ ہیکروں نے تمام رقم لوٹا دی اور صارفین کو پیسے لوٹانے کا عمل جاری ہے

لاکھوں یہاں تک کہ کروڑوں ڈالرز چوری ہونے کے واقعات ہر چند ماہ بعد رونما ہو رہے ہیں اور کیونکہ ان پلیٹ فارمز کے حوالے سے زیادہ قوانین موجود نہیں تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ صارفین کو پیسے واپس ملیں گے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن: ’ہاوِنگ‘ کا عمل کیا ہے؟

کرپٹو کرنسی کی بقا کی جنگ میں کون کہاں کھڑا ہے؟

کرپٹو کوئین: وہ خاتون جس نے اربوں لوٹے اور غائب ہو گئی

بٹ کوائن کو قانونی کرنسی قرار دے دیا جائے تو آپ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

‘بال کٹوانا‘

ایسے بہت سے کیس بھی ہوئے ہیں کہ صارفین اپنی ایک ایک پائی کھو بیٹھے مگر انھیں صرف جزوی طور پر ریفنڈ کیے گئے۔ اسے عام طور پر ‘ہیئر کٹ‘ یعنی بال کٹوانا کہا جاتا ہے۔

لیکوئٹ گلوبل کے سی ای او نے منگل کو ایک ٹویٹ میں اپنی کمپنی کے حوالے سے کہا ہے کہ ‘کوئی بھی ہیئر کٹ نہیں ہوں گے۔‘

مالیاتی امور کی ماہر فرانسس کوپولا کہتی ہیں کہ کرپٹو کرنسی سسٹم سکیورٹی کے بارے میں صورتحال سمجھنے میں دیر کر رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘عام بینکنگ کا نظام سکیورٹی کے بارے میں بہت توجہ دیتا ہے اور اس کے اوپر سخت قوانین بھی لاگو ہوتے ہیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ‘بینکوں پر تو سارا وقت ہیکنگ حملے ہو رہے ہوتے ہیں مگر ان کا دفاع کہیں زیادہ بہتر ہے اور ان پر یہ ذمہ داری بھی ہے کہ انھیں اپنے صارفین کو پیسے لوٹانے ہوتے ہیں جو کرپٹو کرنسی سسٹم پر نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ بینکنگ کے نظام میں انفرادی طور پر لوگوں کے ساتھ فراڈ ہونے کا امکان کہیں زیادہ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو لاکھوں کا نقصان ہر وقت ہو رہا ہوتا ہے۔

ہیکنگ

Getty Images

روایتی بینکوں پر ہیکنگ حملے

ڈاکٹر امبر غدر کئی بڑے بینکوں کے لیے کام کر چکی ہیں اور اب انھوں نے ’کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم الائنس بلاک‘ بنایا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ روایتی بینکوں میں بھی ہیکنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

انھوں نے سنہ 2016 میں بنگلہ دیش کے ایک بینک سے 81 ملین ڈالر، سنہ 2017 میں یونین بینک آف انڈیا سے 171 ملین ڈالر کی چوریوں کی طرف توجہ دلائی مگر ان دونوں واقعات میں رقم واپس حاصل کر لی گئی تھی اور کسی صارف کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔

ڈاکٹر غدر کہتی ہیں کہ کرپٹو ہیکس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سیکٹر ضرورت سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

‘مسئلے میں ایک عنصر یہ ہے کہ یہ نظام اوپن سورس ٹیکنالوجی پر بنے ہوتے ہیں۔ اوپن سورس بہترین ہے کیونکہ یہ لوگوں کی مجموعی ذہانت کا فائدہ اٹھاتا ہے جس میں کمیونٹی ہی سافٹ ویئر اور پروٹوکول بہتر کرتی ہے مگر اس کی کمزوری یہ ہے کہ کوئی ایک ذہین شخص اس کے کوڈ کا توڑ سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر غدر کا خیال ہے کہ ان حملوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے اس حوالے سے قانون سازی۔

’ہمیں نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مختلف سٹینڈرڈز کی ضرورت ہے جن کی مانیٹرنگ کی جانی چاہیے تاکہ مارکیٹ کو محفوظ بنایا جا سکے۔‘

کرپٹو ہنگامہ

سائبر حملوں کے علاوہ روزمرہ کے سرمایہ کاروں کو گذشتہ کئی برسوں میں کرپٹو سکیموں کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے جیسے کہ ایگزٹ سکیم یا رگ پلز۔

تفتیش کار ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس سال کے آغاز میں ایفری کریپٹ نامی ایکسچینج میں لاکھوں ڈالر کیسے غائب ہوئے جب اس کے بانی بھاگ گئے تھے۔

اسی طرح کینیڈا کی ایکسچینج کواڈریگا سی ایکس کے صارفین ابھی تک اپنے پیسوں کی واپسی کے لیے لڑ رہے ہیں جب سنہ 2019 میں اس کے بانی کی ہلاکت کے بعد 135 ملین ڈالر کا حساب موجود نہیں تھا۔

روایتی مالیاتی نظام میں بھی ایسے کئی متاثرین ہیں جو بڑے پیمانے کی پیرامڈ سکیموں یا دیگر فراڈ کا نشانہ بنتے ہیں جن میں شاید کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ہونے والے نقصانات سے زیادہ نقصان ہوتے ہیں۔

مگر تیزی سے بڑھنے کے باوجود کرپٹو مارکیٹ ابھی کہیں چھوٹی ہے اور حالیہ تاریخ اس صنعت میں سکیورٹی کے مسائل کی کہانی سناتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words