ہم جنس پرست انڈین امریکی جوڑے شادی کے لیے منفرد انداز اپنانے لگے

امریکہ میں انڈین نژاد امریکی ہم جنس پرست جوڑوں کو روایتی طرز پر شادی کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اُن کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

بی بی سی کے لیے سویتا پٹیل رپورٹ کرتی ہیں کہ کیسے یہ جوڑے اب شادی کے لیے نئے اور منفرد انداز اختیار کر رہے ہیں۔

جب ہم جنس پرست جوڑے سمیر سمودرا اور امیت گوکھلے نے ہندو روایات کے مطابق شادی کرنے کا فیصلہ کیا تو انھیں ایک غیر متوقع رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

کوئی بھی پجاری اُن کی شادی کروانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

شمالی کیرولائنا میں رہنے والے سمیر بتاتے ہیں کہ ’ہم ہندو روایات کے تحت شادی کرنا چاہتے تھے مگر کئی پنڈتوں نے انکار کر دیا۔ مجھے اس وقت شدید غصہ آیا جب ایک پنڈت نے صرف میرے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے بے حد زیادہ پیسوں کا مطالبہ کر ڈالا۔‘

وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کی شادی میں کوئی پنڈت بے دلی سے شامل ہو، اس لیے اُنھوں نے کچھ الگ کرنے کی ٹھانی۔

سمیر بتاتے ہیں کہ ’میرے ایک دوست نے پنڈت بننے کے لیے درکار بنیادی اصول اور باتیں سیکھیں اور پھر ہم نے ایسی ہندو روایات کا انتخاب کیا جو ہم جنس شادی کے لیے قابلِ فہم تھیں۔‘

کئی انڈین امریکی جوڑے بولی ووڈ سٹائل میں پرتعیش شادیوں کا خواب دیکھتے ہیں، جس میں بھرپور روایات شامل ہوں مگر یہ ہم جنس پرستوں کے لیے اتنا آسان نہیں ہے، یہاں تک کہ امریکہ میں بھی نہیں۔۔۔ جہاں سنہ 2015 میں ہم جنس شادیوں کو قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

اب تک ملک میں تین لاکھ سے زیادہ ہم جنس پرست جوڑے شادی کر چکے ہیں مگر انڈین امریکیوں کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات اُنھیں شادی کروانے والے پنڈتوں اور پجاریوں کی جانب سے دھتکار دیا جاتا ہے۔

مندر اپنے احاطوں میں ہم جنس شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتے، پنڈت اُن ایسے جوڑوں سے سیدھے منھ بات نہیں کرتے یا اُن کی خاطر شادی کی روایات میں تبدیلی کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، اور کچھ واقعات میں تو ایسا بھی ہوا کہ شادی والے دن پنڈت وعدے کے باوجود پہنچے ہی نہیں۔

اس طرح انڈین امریکی جوڑوں کو اپنی روایات کے مطابق منفرد تقریبات کے لیے اپنے دوستوں اور خیر خواہوں کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر سپنا پانڈیہ اپنی شادی کے لیے خود پنڈت بن گئیں، حالانکہ ہندومت میں خواتین پجاری نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اُنھوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ اور اُن کی پاکستانی مسلمان اہلیہ سحر نے شادی کا فیصلہ کرنے پر بے تحاشہ مخالفت کا سامنا کیا۔

سپنا نے کہا ’مجھے مندر جا کر پنڈت سے اس بارے میں پوچھنا نامناسب لگ رہا تھا اور میری اہلیہ سحر کو مسجد جا کر کسی مولوی سے اس متعلق پوچھنا۔ چنانچہ ہم نے اپنی تقریب خود ہی ترتیب دی۔

اُنھوں نے ایسے مقدس ہندو منتروں کا انتخاب کیا جو اُن کے مطابق اُن کے بندھن کی نوعیت کے زیادہ قریب تھیں۔

سپنا پانڈیہ اب اقلیتوں کے حقوق کے لیے ایک غیر منافع بخش تنظیم چلاتی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اب وہ ہم جنس پرست جوڑوں کی شادیاں کروانے میں مدد بھی فراہم کرتی ہیں۔

اُن جیسے پجاری کم ہیں، مگر ہیں ضرور، اور انھوں نے پدر شاہی کی مخالفت میں اپنے اپنے پروفیشنل کریئرز کے ساتھ اس کام کو اپنایا ہے۔

یہ روایتی پنڈتوں کے لیے ایک چیلنج ہے، کیونکہ اُن کے نزدیک شادی صرف ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہی ممکن ہے۔

ابھیشیک سنگھوی جین مت کے پنڈت ہیں اور ٹیکس کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔

سنہ 2019 میں ویبھوو جین اور پراگ شاہ کے درمیان ہونے والی ہم جنس پرست شادی کی تصاویر نے دنیا بھر کے کئی ہم جنس پرست جوڑوں کو متاثر کیا۔

سنگھوی کہتے ہیں ’وہ اچھے نوجوان لڑکے تھے جو جین مذہب کی روایات کے تحت شادی کرنا چاہتے تھے۔ جین ازم کی بنیاد ہی ہمدردی اور محبت پر ہے۔ تمام مذاہب امن کی دعوت دیتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’لڑکی ہوں اور لڑکی سے شادی کر لی تو کیا قیامت ٹوٹ پڑی؟‘

افغانستان کے ہم جنس پرست: ‘مجھے دیکھتے ہی مار دیا جائے گا’

امریکہ میں ہونے والی ہم جنس پرست شادی پر انڈیا میں واویلا کیوں؟

ڈاکٹر شکاوک داس اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ پہلے مسیحی تھے اور پھر بعد میں اُنھوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا۔ وہ سنسکرت اور انڈین سٹڈیز میں پی ایچ ڈی ہیں۔

ڈاکٹر شکاوک داس لاس اینجلس میں لکشمی نارائن مندر کے ہیڈ پجاری ہیں اور اُنھوں نے ہزاروں شادیاں کروائی ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے ہندو مذہبی کتابوں میں کہیں یہ نہیں لکھا دکھائی دیتا کہ ہم جنس شادیاں نہیں ہو سکتیں۔‘

اُنھوں نے حال ہی میں کروائی گئی ایک ہندو شادی کا حوالہ دیا۔ ’دولہے کے عمر رسیدہ والدین نے ’ہمارے بیٹے کو ہماری ثقافت میں جگہ دینے کے لیے‘ پُرنم آنکھوں کے ساتھ میرا شکریہ ادا کیا۔ ہم سب اس دنیا میں آنے والی روحیں ہیں۔ کبھی ہمارا جسم مرد اور کبھی عورت ہوتا ہے، مگر ہماری روحیں برابر ہیں۔‘

اُنھوں نے مونیکا مارکیز اور نکی برووا کی شادی کروائی اور اُنھیں ایسا کرنے سے حوصلہ ملا۔

انڈین امریکی مصنفہ اور کاروباری شخصیت نکی برووا کہتی ہیں کہ ’مونیکا اور میں دونوں ہی اپنی اپنی ثقافت میں گندھی ہوئی ہیں۔ ہم نے کم عمری سے ہی روایتی شادی کا خواب دیکھ رکھا تھا۔‘

اُن کی شریک حیات میکسیکن امریکی ہیں۔ نکی برووا کہتی ہیں کہ اُنھیں پنڈت کی تلاش میں بہت مشکل ہوئی مگر بالآخر یہ ڈاکٹر شکاوک داس کی بدولت ممکن ہو سکا۔ ’اُنھوں نے کبھی بھی ہمیں عجیب محسوس نہیں کروایا۔ یہ قدرتی محسوس ہوا اور یہ سب بہت خوبصورت تھا۔ ہمیں اپنائیت محسوس ہوئی۔‘

ڈاکٹر شکاوک داس اور سپنا پانڈیہ جیسے ترقی پسند پجاریوں کی اب امریکہ بھر میں کافی طلب ہے۔ ایسے کئی پنڈت تو دوسرے شہروں تک کا سفر بھی کرتے ہیں جہاں جوڑوں کو اُن کی شادی کروانے کے لیے کوئی نہیں مل رہا ہوتا۔

سان فرانسسکو ویسے قبولیت کے لیے کافی مشہور ہے لیکن اس کے باوجود یہاں پر ہم جنس پرست شادیاں کروانے پر رضامند پجاری بہت کم ہیں۔ یہاں موجود متعدد ہندو مندر ہم جنس پرست شادیوں کی اجازت نہیں دیتے۔ جب مادھوری انجی اور پریتی نارائن کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ اس سے کافی پریشانی ہوئیں۔

پریتی کہتی ہیں کہ ’بالآخر ہمیں ایک جنوبی ایشیائی ہم جنس پرست گروپ کے ذریعے پنڈت راجہ بھٹر ملے جو خود بھی لاس اینجلس میں مقیم ہم جنس پرست ہیں اور میریے ہر برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

’ہم نے اس میں پرلطف حصے باقی رکھے اور بور کر دینے والے حصے نکال دیے۔ چونکہ ہم دونوں خواتین ہیں اس لیے مرد اور عورت سے متعلق باتیں شامل کرنا معقول نہیں تھا۔‘

اس طرح کی منفرد تقریبات کو نہ صرف ہم جنس پرستوں میں پذیرائی حاصل ہے بلکہ پدرشاہی، عورت مخالف جذبات اور ذات پات کا خاتمہ چاہنے والے غیر ہم جنس پرست جوڑوں میں بھی مقبولیت حاصل ہے۔

اور اس لیے ہم جنس پرست پجاریوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہل شرما کے مطابق ’میں نے یہ پایا ہے کہ میں ایک بائی سیکشوئل ہندو ہوں، اس نے مجھے بین المذاہب اور ہم جنس شادیاں کروانے کا حوصلہ دیا ہے۔‘

تاہل یونائیٹڈ ریلیجنز انیشیٹیو کی کوآرڈینیٹر برائے شمالی امریکہ ہیں اور ترقی پسند ہندوؤں کی تنظیم سادھنا کی بورڈ ممبر ہیں۔

شادیوں کی پلاننگ کرنے والی پروی شاہ کا کہنا ہے کہ شادیوں کی صنعت میں بھی اب رویے تبدیل ہونے لگے ہیں، چاہے وہ پجاری ہوں، پلانرز، کیٹررز، یا پھر مہندی آرٹسٹ۔ ’اب زیادہ تر وینڈر نہ کہنے کے بجائے ہاں کہتے ہیں۔ اگر کسی ہم جنس پرست جوڑے نے مجھ سے رابطہ کیا تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔‘

لیکن اب بھی بہت سے ذہنوں کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔ نیہا اسر جنوبی کیلیفورنیا کی ایک مشہور مہندی آرٹسٹ ہیں۔

اُنھوں نے بین المذاہبی یا ہم جنس محبت کو اپنے آرٹ میں جگہ دے کر کافی شہرت حاصل کی ہے۔

مثال کے طور پر اُنھوں نے دلہن کی مہندی کے دلکش ڈیزائن میں دولہے کا نام چھپا دینے کی روایت میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے۔

’اب میں دونوں دلہنوں کے نام اُن کی مہندی میں چھپا دیتی ہوں۔‘

سویتا پٹیل سان فرانسسکو میں مقیم فری لانس صحافی ہیں جہاں وہ جیو پولیٹیکس، ٹیکنالوجی، پبلک ہیلتھ اور انڈین برادری سے متعلق لکھتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words