کراچی کیمیکل فیکٹری میں آگ، کم از کم 10 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مزید مزدوروں کے فیکٹری میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آتشزدگی کا سنگین واقعہ ہے جس میں آگ نے فیکٹری کے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور کو متاثر کیا۔ 15 فائر ٹینڈرز نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا جبکہ بلڈنگ کی کولنگ کا عمل جاری ہے۔

حکام کے مطابق فیکٹری میں آگ لگنے کی وجوہات کا بھی پتہ نہیں لگ سکا ہے۔

فائربریگیڈ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ دو منزلہ عمارت چاروں اطراف سے بند ہے، اسی لیے شاول کے ذریعے کھڑکیاں توڑ کر لاشوں کو نکالا جا رہا ہے جبکہ مزدروں کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد بھی فیکٹری کے سامنے موجود ہے۔

فائربریگیڈ حکام کے مطابق آگ کی اطلاع ملنے کے بعد 10 بج کر 10 منٹ پر اُن کی پہلی گاڑی فیکٹری کی جانب روانہ کی گئی تھی۔

دوسری جانب حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ اس وقت تک 10 لاشیں نکالی گئی ہیں اور بیشتر افراد کی ہلاکت دم گھنٹے کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق پہلے فلور پر 21 کے قریب مزدور کام کر رہے تھے اور فیکٹری سے فوری طور پر باہر نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ پولیس اور فائر بریگیڈ حکام آگ کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ستمبر 2012 میں کراچی کے علاقے بلدیہ میں واقع علی انٹرپرائیز فیکٹری میں آتشزدگی میں ڈھائی سو سے زائد مزدو ہلاک ہوئے تھے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سید مراد علی شاہ نے کورنگی میں واقع فیکٹری میں آگ لگنے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی اور لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹس طلب کر لی ہے۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے خاندان کی بھرپور مدد کرنے کی ہدایت اور زخمیوں کا حکومتی خرچ پر علاج کروانے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

یہ خبر ابھی مزید اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words