افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہرات میں زندگی: ’میں ایک قیدی کی طرح ہوں، میری زندگی رک گئی‘

ہرات
EPA
ہرات میں کئی مقامات پر طالبان نے چیک پوسٹ بنائے ہوئے ہیں
افغانستان کے تیسرے بڑے شہر ہرات میں رہنے والے لوگوں نے بتایا ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی زندگیاں مکمل طور پر بدل گئی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہرات کی آبادی پانچ لاکھ سے زائد ہے اور 13 اگست کو یہ طالبان کے قبضے میں آ گیا تھا۔ یہ ملک کے مغرب میں ایک اہم صوبائی دارالحکومت ہے، جو ایران اور ترکمانستان کی سرحدوں کے قریب ہے۔

بی بی سی نے ایک ثنا نامی خاتون سے بات کی ہے جو کئی برسوں سے این جی او کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک طالب علم سید سے بھی بات کی گئی ہے۔

ان دونوں نے ماضی میں غیر ملکی تنظیموں کے لیے کام کیا اور اسی لیے ممکنہ طور پر انھیں دوسروں کے مقابلے میں طالبان سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

ان کی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

ثنا

میں ہر روز طالبان کے بارے میں کہانیاں سنتی ہوں کہ وہ شہریوں کے خلاف تشدد کا استعمال کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر میں نے ایک ہفتہ پہلے ہی سنا تھا کہ یہاں سے نزدیک ہی طالبان نے دو لوگوں کے، جنھوں نے کچھ چوری کیا تھا، ہاتھ کاٹ دیے تھے۔

میں نے سنا ہے کہ طالبان نے لوگوں کو پیغام بھیجا ہے کہ حکومت اب ان کے کنٹرول میں ہے اور وہ نئے قوانین بنا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ خواتین کو کام پر جانے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی عورت باہر جانا چاہتی ہے تو اس کے ساتھ ایک مرد ہونا چاہیے۔ مردوں کو جین اور ٹی شرٹ نہیں پہننی چاہیے۔ خواتین کو حجاب یا برقع پہننا چاہیے اور انھیں اپنا چہرہ لوگوں سے چھپانا چاہیے۔

لوگ، خاص طور پر خواتین، اب شہر جانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ طالبان اب وہاں موجود ہیں۔ تقریباً 99 فیصد خواتین گھروں میں رہ رہی ہیں۔ یہاں تک کہ مرد بھی باہر جانے سے ڈرتے ہیں۔

طالبان

Reuters
شہر کی گلیوں اور سڑکوں پر طالبان کا راج ہے اور خواتین گھروں سے نہیں نکل رہیں

طالبان کے پاس بندوقیں ہیں۔ وہ نارمل لوگوں کی طرح نہیں لگتے۔ جو مرد حضرات گھروں سے باہر جاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ شہر میں بہت سے طالبان ہیں اور ان کے لیے زیادہ دیر تک شہر میں رہنا مشکل ہے۔ مرد صرف اپنے کام پر جاتے ہیں اور گھر واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

زندگی میں پہلی مرتبہ میں گھر پر رہ رہی ہوں۔ میں تقریباً ایک ہفتے سے گھر پر ہوں۔ میں ایک قیدی کی طرح ہوں۔ شاید یہ میری زندگی کا اختتام ہے۔ نہ کوئی کام، نہ پڑھائی۔ اگر میں باہر جانا بھی چاہوں تو مجھے برقع یا مکمل حجاب پہننا پڑے گا، جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔

میں اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پریشان ہوں، یقینی طور پر میں 100 فیصد بہت پریشان ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے پچھلے کام کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتی ہوں اور ان حالات میں میں کچھ خریدنے کے لیے باہر نہیں جا سکتی۔

میں اپنے دفتر، دوسرے شہروں یا ممالک میں تعلیم یا تربیت کے لیے آسانی سے نہیں جا سکوں گی، جیسا کہ میں نے پہلے کیا تھا۔

ہرات

EPA
ہرات کی سڑکوں پر طالبان پہرا دیتے ہوئے

’میری زندگی رک گئی‘

یہ ناممکن ہے کہ میں وہ چیزیں کر سکوں جو میں ماضی میں کرتی تھی۔ میرا خیال ہے کہ میرا مستقبل مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اگر میں افغانستان میں رہی تو میرا مستقبل روشن نہیں ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ میری زندگی یہاں رک گئی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ مجھے جلد ہی نشانہ بنایا جائے۔ میں نے این جی اوز کے لیے کام کیا ہے خاص طور پر خواتین کے حقوق کے لیے اور طالبان کو ’انسانی حقوق‘ جیسے الفاظ سے نفرت ہے۔ اس لیے وہ مجھے مارنے کی کوشش کریں گے۔

شہر میں کافی خوراک اور طبی سامان موجود ہے لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے دور دراز کے اضلاع کو جانے والی سڑکیں بند تھیں۔ لوگ شہر میں آ کر کچھ نہیں خرید سکتے تھے۔ انھیں ادویات اور خوراک کی قلت کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا تھا۔

خوش قسمتی سے گزشتہ ہفتے سے سڑکیں دوبارہ کھل گئی ہیں اور ایران اور ترکمانستان کی سرحدیں دوبارہ کھول دی گئیں اور میں نے سنا ہے کہ خوراک اور ادویات ہرات آ رہی ہیں۔

بینر

BBC

کیا طالبان افغانستان کو واپس تاریک ماضی میں دھکیل دیں گے؟

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اب افغان پناہ گزین کہاں جائیں گے؟

طالبان نے دس دن میں افغانستان کے اہم ترین علاقوں پر کیسے قبضہ کیا؟

کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟


تقریباً گزشتہ دو ہفتوں سے ہمارے علاقے میں بجلی نہیں ہے کیونکہ انھوں (طالبان) نے بجلی کی تاروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہرات کے اکثر علاقوں میں لوگوں کے پاس بجلی نہیں۔ کبھی کبھار تو ہمارے پاس پینے کا پانی بھی نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ ہرات چھوڑ کر ایران چلے گئے ہیں یا طالبان کے قبضے سے پہلے وہ کابل چلے گئے تھے۔

کبھی کبھی میں آنکھیں بند کر کے سوچتی ہوں کہ شاید میں سو رہی ہوں، شاید میں کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہی ہوں۔ گزشتہ 20 برسوں میں کسی نے یہ سوچا بھی نہیں ہو گا کہ ایک دن طالبان دوبارہ واپس آ کر پورے افغانستان پر قبضہ کر لیں گے اور یہ اتنی جلدی ہوا، دو، تین ہفتوں میں۔

میں اب تک صدمے میں ہوں۔ ہرات ان شہروں میں سے ایک تھا جہاں اچھی سیکورٹی تھی۔ یہ سوچنا نا ممکن تھا کہ طالبان ہرات پر قبضہ کر لیں گے۔

ہرات

Reuters
سید کہتے ہیں افغان لڑکیاں سکول تو جا رہی ہیں لیکن انھیں کہا گیا ہے کہ مکمل حجاب پہنیں

سید

پروازیں اور تمام سروسز منقطع ہیں اور بینک بند ہیں۔ جو دفاتر پاسپورٹ جاری کر رہے تھے وہ بھی بند ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کا افغانستان چھوڑنا مشکل ہو گیا ہے۔

لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے سکول کھلے ہیں۔ طالبان نے طالبات سے کہا ہے کہ وہ مکمل حجاب کے ساتھ آئیں۔

گھر گھر تلاشی

طالبان پورے شہر میں موجود ہیں۔ عام معافی کے اعلان کے باوجود وہ گھر گھر جا کر تلاشی لے رہے ہیں۔

یہ مجھ سمیت بہت سے لوگوں کے لیے پریشان کن ہے۔ میں نے سنا ہے کہ وہ ایک شاعر کو اٹھا کر لے گئے ہیں، جس کا ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا۔

میرے لیے اب سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ میں گریجویشن مکمل کرنے والا تھا اور اب میں اپنا آخری سمیسٹر بھی ختم نہیں کر پاؤں گا۔

20 برسوں میں ہم نے جو کچھ بنایا وہ اب ختم ہو چکا اور ہمیں واقعی کوئی امید نہیں۔ میں بہت زیادہ مایوس ہوں۔ عالمی برادری نے افغانستان سے ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔

وہ اب افغانوں کے آزادی حاصل کرنے میں مدد کے لیے کام نہیں کرتے۔ آپ پہلے ہی دیکھ رہے ہیں کہ خواتین ٹی وی پروگراموں سے چلی گئی ہیں اور نہ ہی وہ اب نیوز پریزینٹر ہیں۔

میں جو سب کچھ کر رہا ہوں اور جو کچھ سوچ رہا ہوں وہ افغانستان سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے سے متعلق ہے، اپنے مستقبل سے متعلق کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ افغانستان میں ممکن ہو گا۔

میں نے ایسا خواب نہیں دیکھا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words