کابل: برطانوی سفارتخانے کی خالی عمارت سے بعض افغانوں کی دستاویزات ملنے کا انکشاف

Taliban fighters displaying their flag on outskirts of Kabul on 15 August 2021
EPA
برطانوی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ جب برطانوی سفارت خانے کے عملے نے کابل میں اپنے سفارتخانے کی عمارت خالی کی تو اس سے پہلے حساس مواد کو تباہ کرنے کی ’ہر ممکن کوشش‘ کی گئی تھی۔

برطانوی دفتر خارجہ کا یہ بیان برطانوی اخبار ٹائمز کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس کے مطابق برطانیہ کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کی تفصیلات خالی کی جانے والی سفارت خانے کی عمارت میں ’زمین پر بکھری ہوئی‘ پائی گئی تھیں۔

برطانوی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اس خبر میں جن تین خاندانوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کی حفاظت میں مدد کی گئی ہے۔

دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’کابل میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے عملے نے تیزی سے کام کیا تھا‘۔

برطانیہ نے 13 اگست کو، جب طالبان جنگجو افغانستان کابل کے قریب پہنچ گئے تھے، اپنے سفارت خانے کو ہوائی اڈے کے قریب ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

دفتر خارجہ پہلے ہی برطانوی شہریوں کو کہہ رہا تھا کہ وہ افغانستان چھوڑ کر چلے جائیں اور مئی میں اعلان کردہ پالیسی کے تحت سابق افغان عملے اور ان کے خاندانوں کو برطانیہ منتقل کرنے کا عمل بھی جاری تھا۔

اخبار ٹائمز کے مطابق گزشتہ منگل کو سفارت خانے کے احاطے سے افغان کارکنوں اور وہاں نوکری کی درخواست دینے والوں کی ایسی دستاویزات ملیں جن سے ان کی شناخت ہو سکتی تھی۔ جب یہ دستاویزات ملیں تب تک سفارتخانے کی عمارت پر طالبان قابض ہو چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اب افغان پناہ گزین کہاں جائیں گے؟

طالبان کے خوف اور ’ممکنہ موت‘ سے بچ کر کابل نقل مکانی کرنے والے افغان شہری

طالبان سے بچ کر بھاگ نکلنے والے افغان پناہ گزین کی کہانی

کہا جا رہا ہے کہ کاغذات میں عملے کے سات اراکین کے نام اور پتے درج تھے، جن میں ایک سینئر اہلکار بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان افراد کی تفصیلات، اور پتے بھی تھے جنھوں نے مترجم کی نوکریوں کے لیے درخواستیں دی تھیں۔

ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، عملے میں سے کچھ کو برطانیہ منتقل کر دیا گیا ہے، لیکن ابھی تک عملے کے کم از کم دو اراکین کے متعلق کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔

اخبار کے مطابق عملے کے تین افغان افراد اور ان کے آٹھ خاندان والوں کو جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں، بعد میں ڈھونڈ لیا گیا تھا۔

برطانوی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق وہ اخبار ’ٹائمز کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ملنے والی معلومات کو ہمارے ساتھ شیئر کیا اور ان تین خاندانوں کو بحفاظت نکالنے میں ہمارے ساتھ کام کیا۔‘

British embassy site in Kabul

Getty Images
کابل میں برطانوی سفارتخانے کو طالبان کے کابل میں آنے سے پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا

فورن کامن ویلتھ ڈویلپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے ان لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتھک محنت کی ہے جنہوں نے ہمارے لیے کام کیا، اس میں تین خاندانوں کو محفوظ مقام پر بھی پہنچانا شامل ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کی عمارت خالی کرتے ہوئے ’ہر ممکن کوشش کی گئی تھی کہ حساس مواد کو تباہ کر دیا جائے۔‘

مزید پڑھیے

افغانستان کے جغرافیے میں چھپا وہ راز جو اسے ‘سلطنتوں کا قبرستان’ بناتا ہے

امریکہ کے بغیر کابل ایئرپورٹ کیوں نہیں چل سکتا؟

ایک مترجم ‘جہنم’ میں اور دوسرا اس سے بہت دور جانے میں کامیاب

لیبر کی شیڈو وزیرِ خارجہ لیزا نندی نے کہا کہ اس واقعے نے ’سنجیدہ سوالات اٹھائے‘ ہیں کہ طالبان کے کابل پر قبضے سے پہلے ان کے حکومتی ہم منصب ڈومینک راب کیا کر رہے تھے۔

پارلیمان کی خارجہ امور کی سیلیکٹ کمیٹی پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ افغانستان کی صورتحال پر دفتر خارجہ کے ردعمل کے متعلق تحقیقات شروع کر رہی ہے۔

دریں اثنا جمعہ کو وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ برطانیہ اپنے انخلا کے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے اور مزید لوگوں کو ملک سے نکالنے کے لیے ایئرپورٹ نہیں بلایا جائے گا۔

وزارت دفاع کی جانب سے جمعرات کی رات جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ نے اب تک 13 ہزار 146 افراد کو افغانستان سے باہر نکالا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words