پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل صحافتی تنظیموں کی طرف سے مسترد

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فواد چوہدری
BBC
وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ قانون کو جہاں ملک بھر کی مختلف منتخب صحافتی تنظیموں نے مسترد کر دیا ہے اور وزیر اعظم سے اس مجوزہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، وہیں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر مملکت فرخ حبیب صحافیوں کے چند دھڑوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

گزشتہ چند روز کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس قانون کی حمایت میں صحافیوں کے جن گروپوں کے ساتھ ملاقات کی ہے اس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم کے وفد نے ان سے ملاقات کی ہے اور مجوزہ قانون کی حمایت کا یقین دلایا ہے، جبکہ صحافیوں کی منتخب نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پی ایف یو جے کا کہنا ہے وزیرِ اطلاعات سے ملاقات کرنے والوں میں چند صحافی تو ضرور ہو سکتے ہیں لیکن وہ صحافیوں کے منتخب نمائندے نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ اس وقت ملک میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نام سے پانچ سے زیادہ تنظیمیں میدان میں ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی منتخب نمائندہ تنظیم سمجھی جانے والی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون آزادی اظہار رائے کو دبانے کے مترادف ہے، اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے کسی نمائندہ وفد نے وفاقی وزیر اطلاعات سے ملاقات کی ہو۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے حال ہی میں ملاقات کرنے والوں میں صحافی مظہر اقبال بھی شامل ہیں جنھوں نے ایک وفد کے ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات سے ملاقات کی تھی اور انھیں پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ قانون کی حمایت کا یقین دلایا تھا۔

مظہر اقبال کا کہنا ہے کہ انھوں نے کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پروفیشنل گروپ) کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے جس کے وہ، بقول ان کے، منتخب صدر ہیں۔

مظہر اقبال کے بقول ان کی تنظیم کے حال ہی میں انتخابات ہوئے ہیں جس میں انھیں بطور صدر منتخب کیا گیا ہے۔

جب پی ایف یو جے پروفیشنل گروپ کے صدر سے پوچھا گیا کہ ان کی تنظیم کے انتخابات کہاں ہوئے تھے تو انھوں نے جگہ کا ذکر تو نہیں کیا البتہ یہ ضرور کہا کہ ان کے گروپ کی حلف برداری کی تقریب نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہوئی تھی اور ان کے بقول حلف برداری کی یہ تقریب اس سال مارچ یا اپریل میں منعقد ہوئی تھی۔

نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم کا کہنا ہے کہ پریس کلب میں اس تنظیم کی حلف برداری کی کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ’نیشنل پریس کلب میں کسی جگہ پانچ دس لوگ بیٹھ گئے ہوں اور انھوں نے ہی ایک دوسرے سے حلف لے لیا ہو، ویسے حلف برداری کی تقریب پریس کلب میں منعقد نہیں ہوئی۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے ’صحافتی تنظیموں‘ سے ملاقات کے بارے میں متعدد بار رابطہ کیا گیا اور اس کے علاوہ انھیں پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ قانون سے متعلق دیگر صحافتی تنظیموں کو بھی اعتماد میں لینے کے بارے میں سوالات بھی لکھ کر بھیجے گئے لیکن انھوں نے اس پر اپنا کوئی ردعمل نہیں دیا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے ان کی تنظیم صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک بھر کی 13 یونین آف جرنلسٹس کے نمائندوں نے انھیں ووٹ دیکر منتخب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان 13یونین آف جرنلسٹس میں کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ سکھر، رحیم یار خان، گوجرانوالہ، ایبٹ آباد اور بہاولپور کی صحافیوں کی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

پی ایف یو جے کے انتخاب کا طریقہ کار

پی ایف یو جے کے انتخابات کے طریقہ کار کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ پہلے یونین آف جرنلسٹس کے انتحابات ہوتے ہیں اور پھر ان کے نمائندے جنھیں ’ڈیلیگیٹس‘ کہا جاتا ہے، فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے عہدیداران کا انتخاب کرتے ہیں۔

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ انتخابات سے تین ماہ قبل فیڈرل ایگزیکیٹو کونسل بنائی جاتی ہے جو انتخابات کے انعقاد کے شیڈول کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ ایک کمیٹی بھی تشکیل دیتی ہے اور وہ انتخابی مراحل کی نگرانی کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ایف یو جے کے عہدیداروں کے ہر دو سال کے بعد انتخابات ہوتے ہیں اور آخری انتخابات کراچی میں ہوئے تھے جس میں وہ اپنے حریف کو شکست دے کر پی ایف یو جے کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کا صحافیوں کی ’حقیقی تنظیم‘ ہونے کے بارے میں اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے علاوہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی ان کی تنظیم کے ساتھ ہیں اور یہ ساری تنظمیں حکومت کی طرف سے میڈیا اتھارٹی کے قیام کے لیے مجوزہ قانون کے خلاف آوازیں اٹھا رہی ہیں۔

پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی

وزارت اطلاعات کی طرف سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قانون کے مسودے پر نہ صرف صحافیوں کی منتخب تنظیموں نے احتجاج کیا ہے بلکہ براڈکاسٹ ایسوسی ایشن، اخبارات اور ٹی وی مالکان نے بھی اس مجوزہ قانون کو مسترد کر دیا ہے اور اس قانون کے خلاف الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر اشتہارات شائع ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام ’بولنے کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے‘۔

اس مجوزہ قانون کے مندرجات میں صحافتی تنظیموں کو جن شقوں پر اعتراض ہے ان میں یہ بھی ہے کہ تمام اختیارات اس اتھارٹی میں شامل گیارہ افرد کے پاس ہوں گے اور اس اتھارٹی کا چیئرمین گریڈ اکیس یا بائیس کا سرکاری افسر ہوگا جس کا انتخاب صدر مملکت کریں گے جبکہ اس اتھارٹی میں ہر صوبے کا ایک ایک نمائندہ ہوگا جس کا انتخاب بھی صدر وفاقی حکومت کی سفارشات کی روشنی میں کریں گے۔ اس کے علاوہ اس کمیٹی میں سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری اطلاعات بھی ہوں گے۔

اس کمیٹی کو حکومت کی طرف سے جو ٹاسک دیا جائے گا وہ اس کو پورا کرنے کی پابند ہوگی جبکہ یہ کمیٹی جو ٹربیونل بنائے گی وہ ٹربیونل 21 روز میں فیصلے کا پابند ہوگا اور وہ جو بھی فیصلہ کرے گا اس پر اگر کسی کو اعتراض ہوا تو وہ اس کو صرف سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکے گا۔

صحافتی تنظیموں نے اس مجوزہ قانون کے خلاف اس روز احتجاج کا پروگرام بنایا ہے جب صدر مملکت نئے پارلیمانی سال کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کے خطاب کے بارے میں ابھی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words