میرپور خاص کا راجڑ خاندان: تعلیم سے محبت میں اپنی 19 ایکڑ زمین وقف کر دی

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

فیصل راجڑ کی والدہ ایک سرکاری ٹیچر تھیں جنھوں نے انھیں تعلیم کی اہمیت اور اس سے زندگی اور معاشرے میں تبدیلی لانے کا درس دیا۔ یہی تربیت اور سبق آگے چل کر انھیں اس مقام تک لے آیا کہ میرپور خاص کے راجڑ خاندان نے اپنی 19 ایکڑ زمین تعلیم کے لیے وقف کر دی۔

سندھ کے ضلع میرپور خاص کے زمیندار فیصل راجڑ کی تصویروں کو ان دنوں سوشل میڈیا پر شیئر کر کے انھیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ انھوں نے اپنی سترہ ایکڑ زمین انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سکھر کو عطیہ کی ہے۔

فیصل راجڑ پیشے کے اعتبار سے سول انجینیئر ہیں تاہم اپنے دیگر تین بھائیوں کے ساتھ آبائی زمینیں بھی سنبھالتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آئی بی اے کو میرپور خاص میں کیمپس کے لیے زمین درکار تھی۔

فیصل اس ادارے کے بانی مرحوم نثار صدیقی کی خدمات اور ادارے کی کارکردگی سے متاثر تھے اور خود بھی سکھر میں اس کیمپس کا دورہ کر چکے تھے لہٰذا انھوں نے پیشکش کی کہ وہ 17 ایکڑ زمین عطیہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

’والدہ کا خاندان خوشحال نہیں تھا‘

فیصل راجڑ کے خاندان کی جانب سے فراہم کی گئی زمین شہر کے قریب واقع ہے۔ فیصل راجڑ بتاتے ہیں کہ زمین عطیہ کرنے کا فیصلہ ان کے خاندان کا مشترکہ ہے، وہ تجویز لے کر گئے، جسے سب نے قبول کیا۔

وہ بتاتے ہیں ’میری والدہ کا خاندان خوشحال نہیں تھا لیکن انھوں نے پڑھائی کی طرف توجہ دی۔ شادی سے قبل میری والدہ سرکاری ٹیچر تھیں۔ انھوں نے اور ان کے بھائی بہنوں نے بڑی محنت اور جدوجہد کی۔‘

’آج میری خالہ انگلینڈ میں ڈاکٹر ہیں جبکہ ماموں نواب شاہ انجینیئرنگ یونیورسٹی سے وائس چانسلر کے منصب سے ریٹائر ہوئے اور یہ سب کچھ تعلیم کی دین تھا۔‘

فیصل راجڑ کہتے ہیں کہ ’میرپور خاص میں جو کیمپس کھلے گا وہ صرف اس شہر کے لیے نہیں ہو گا بلکہ تھر، عمرکوٹ، سانگھڑ جیسے پسماندہ علاقوں سمیت سندھ کے دیگر اضلاع کے نوجوان بھی اس میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔‘

’اعلیٰ معیار کا ادارہ بنے گا اور یہاں سے جو گریجویٹ فارغ التحصیل ہوں گے انھیں اچھے مواقع ملیں گے اور وہ مارکیٹ کی طلب کو پورا کریں گے۔‘

فیصل راجڑ کے مطابق ’آئی بی اے کو زمین عطیہ کرنے کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جارہے ہیں۔‘

’کسی نجی ادارے کو کاروبار کے لیے نہیں بلکہ نیک مقصد کے لیے زمین دے رہا ہوں اس لیے اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ اس کا استعمال بھی اسی طرح سے ہو۔‘

علاقہ مکینوں سےعدم توجہ کا شکوہ

سندھ میں تعلیم اور اساتذہ کی کارکردگی سے فیصل راجڑ مطمئن نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’حکومت کی طرف سے جو توجہ ہونی چاہیے وہ نہیں اور اس کے ساتھ اس صورتحال کے ذمہ دار گاؤں میں رہنے والے لوگ خود بھی ہیں۔‘

’جس طرح ہم گاؤں کی مسجد اور اپنی اوطاق کا خیال کرتے ہیں اسی طرح سکول کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے ہی بچے یہاں پڑھتے ہیں لیکن ہم اپنا کردار ادا نہیں کر رہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کتنے پاکستانی بچے سکول جاتے ہیں؟

سندھ میں تعلیمی بدحالی کا ذمے دار کون؟

فیصل کا مزید کہنا تھا ’سرکاری استاد توجہ نہیں دے رہے۔ ان کا وہ معیار ہی نہیں کہ جو بچوں کو اس طرح سے پڑھا سکیں جس طرح سے آج کل کی ضرورت ہے۔‘

فیصل راجڑ کا گاؤں گوٹھ قیصر راجڑ میرپور خاص شہر سے قریب واقع ہے، جہاں سرکاری پرائمری سکول اور فلاحی ادارے دی سٹیزن فاؤنڈیشن کا سکول بھی موجود ہے۔

فیصل راجڑ کے مطابق ان کے گاؤں کے سرکاری پرائمری سکول کی مرمت، بچوں کے کپڑوں اور جوتوں کی دیکھ بھال بھی وہ خود کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یہاں ڈھائی سو بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ انھوں نے سٹیزن فاؤنڈیشن کو بھی دو ایکڑ زمین عطیہ کی تھی۔

انھوں نے پرائمری سکول بنایا اب وہ سیکنڈری سکول کا کیمپس بنا رہے ہیں۔ اس وقت یہاں دو شفٹس میں تین سو بچے پڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’سرکاری سکول اور ٹی سی ایف میں زیر تعلیم بچوں میں نصف لڑکیاں ہیں۔ اس سے کافی تبدیلی آئی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم ہی ایک راستہ ہے جس سے لوگ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘

بچوں کے لیے مفت پھلوں کا انتظام

میرپور خاص کا شمار سندھ کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں کی زمینیں اچھی پیداوار دیتی ہیں۔ یہاں پر زیادہ تر آموں کے باغات ہیں اور فی ایکڑ زمین لاکھوں روپے مالیت کی ہے۔

فیصل راجڑ کے خاندان کے پھلوں کے باغات بھی ہیں۔ انھوں نے اپنے گاؤں کے سکول کے ساتھ ’فروٹ فاریسٹ‘ بنایا تاکہ بچے جنک فوڈ خرید کر نہ کھائیں۔

سکول کے آس پاس موجود ان پھلوں کے باغات سے بچوں کو پھل لینے کی اجازت ہے۔ اس باغ میں موسمی پھل ہیں جیسے بیر، چیکو اور آم سمیت دیگر پھلوں کے درخت لگے ہوئے ہیں۔

فیصل کے مطابق اس کے علاوہ دو ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ پھلوں کی دو بڑی بڑی ٹوکریاں بھر کر سکول کے اندر رکھ دیں اور بچوں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ اس کا آزادانہ استعمال کریں تاکہ ان کے صحت کے مسائل حل ہوں۔

’کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کے وہ باہر سے کوئی چیز لے کر کھائیں، یہ پھل ان کے لیے بھی ایک تحفہ ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words