انصار عباسی کی ورکنگ وومن سے متعلق ٹویٹ پر سوشل میڈیا بحث: ’ورکنگ وومن ہونا کوئی گناہ نہیں، عورت ایک انسان ہے اور اس کا اپنی ذات پر پورا حق ہے‘

عماد خالق - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ماں
Getty Images
پاکستانی معاشرے میں خواتین کی برابری اور اس کی سماجی حیثیت پر بحث ایک معمول ہے، خاص کر اگر وہ ورکنگ وومن ہے تو اسے معاشرے میں مخلتف رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عمومی طور پر قدامت پسند حلقوں میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک ورکنگ وومن اپنے خاندان اور امور خانہ داری کو احسن طریقے سے پورا نہیں کر پاتی۔ اکثر اوقات خاندان کی بڑی بوڑھیاں ورکنگ وومن پر گھریلو خواتین کو ترجیح دیتی ہیں اور ورکنگ وومن کو اپنے بچوں کی پرورش سے متعلق باتیں بھی سننے کو ملتی ہیں۔

ایسی ہی ایک بحث کا آغاز پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے کو ملا جب صحافی انصار عباسی نے اس حوالے سے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں سارہ آصف نامی ایک خاتون ورکنگ وومن سے متعلق بات کر رہی تھی۔

ویڈیو میں سارہ آصف کہتی ہیں کہ ’کبھی وہ بھی نوکری پیشہ تھیں اور انھوں نے ملازمت چھوڑ کر اپنے بچوں کے لیے ایک گھریلو خاتون بننے کا فیصلہ کیا جس پر انھیں بہت سی باتیں سننا پڑیں۔‘

ویڈیو میں انھوں نے بچوں کی پرورش، عورت کی معاشی آزادی کے لیے ملازمت سمیت متعدد باتیں کی ہیں۔

لیڈرز اکیڈمی نامی ویب سائٹ پر سارہ آصف کے پروفائل میں انھیں ایک ٹرینر اور سپیکر بتایا گیا ہے۔ مذکورہ ویڈیو تقریباً چھ ماہ پرانی ہے اور سارہ آصف کی ’بینگ ہر‘ یوٹیوب سیریز کا ایک حصہ ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس ویڈیو میں کہی گئی باتوں کے حوالے سے ایک بحث چھڑی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ صحافی انصار عباسی نے اس ویڈیو کو جس کیپشن کے ساتھ شیئر کیا، اس پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا ردعمل

سوشل میڈیا صارفین نے انصار عباسی کی اس ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے جہاں ورکنگ مدرز کی بچوں کی اچھی پرورش اور دیگر ورکنگ وومن کے اپنے خاندان کی معاشی آسودگی کے لیے کردار پر بات کی وہی اس پر سخت ردعمل بھی دیا۔

سابق حکومت میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن سلمان صوفی نے انصار عباسی کی ٹویٹ کے ردعمل پر اپنے ’وومن آن ویلز‘ انیشیٹو کی تصاویر لگا کر معاشرے میں خواتین کے کردار پر اہمیت ڈالنے کی کوشش کی۔

صحافی و اینکرپرسن ابصا کومل نے انصار عباسی کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا: ’آج کے مشکل معاشی حالات میں جہاں آپ کو اس پیغام کو عام کرنا چاہیے کے عورتیں مردوں کا ہاتھ بٹائیں اور دونوں مل کر گھر کا خرچ چلائیں تاکہ سارا بوجھ گھر کے مرد کے کندھے پر نہ ہو، معذرت کے ساتھ عباسی صاحب! آپ تمام نوکری کرنے والی عورتوں کے خلاف محاذ کھول کر بیٹھ گئے۔‘

ڈاکٹر عائشہ نے لکھا کہ ’ورکنگ وومن ہونا کوئی گناہ نہیں۔ اب اگر ساری خواتین ڈاکٹرز گھر بیٹھ جائیں تو اپنے بچے کی ڈیلیوری کسی مرد سے کروانی ہے انصار صاحب ؟ عورت صرف ماں بیٹی بیوی نہیں ہوتی وہ ایک انسان ہے اور اس کا اپنی ذات پر پورا حق ہے۔‘

خود پر ہونے والی تنقید کو دیکھتے ہوئے صحافی انصار عباسی نے دوبارہ ایک ٹویٹ کی اور لکھا: ’کچھ خواتین میرے ٹویٹ پر دُکھی ہیں جو میرا مقصد نہ تھا۔ میں نے ورکنگ ومن بننے کی جنونیت کی بات کی۔ خواتین کو اس جنونیت میں مبتلا کرنے کے خلاف ہوں کہ اُنھیں مردوں کی طرح ہر حال میں کام کرنا ہے۔ مجبوری یا شوق کے لیے کام کرنے والی خواتین کو ایسا ماحول دیں جو اسلامی ہو، استحصال سے پاک ہو۔‘

صائمہ مرتضیٰ نامی صارف نے انصار عباسی کی ٹویٹ کے حق میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’شکریہ انصار صاحب ہماری قوم کو اس اہم پیغام دینے کے لیے، وہ کہتے ہیں نہ کے مجھے ایک اچھی ماں دو، میں تمھیں ایک اچھی نسل دوں گا، میری بھی یہ ہی سوچ ہے کہ اگر ایک عورت گھر پر رہ سکتی ہے تو اسے ضرور رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنے بچوں کی پرورش کر سکے کیونکہ اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔‘

جبکہ نجم الہدی نامی صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہی مسئلہ ہے کہ ہم ایک ہی چھڑی سے سب کو ہانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشرے میں ہر طرح کے گھرانے ہوتے ہیں، امیر، غریب اور متوسط گھرانے جہاں گھر ایک آدمی کی تنخواہ سے نہیں چل سکتا۔ پھر کچھ خواتین اپنا مقام اپنے پروفیشن میں بنانا چاہتی ہیں اور ساتھ ساتھ گھر بھی چلاتی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

‘کیسی ماں ہو جو بچوں کو ڈے کیئر چھوڑ کر آتی ہو؟‘

بچہ کوئی ’پپی‘ یا ‘پلہ‘ نہیں ہوتا: میرا راجپوت

عورتیں اگر گھر کا کام کرنا چھوڑ دیں تو کیا ہوگا؟

’گاؤں کے مردوں کو مجھ سے بات کرنی ہو گی، دیکھتی ہوں تمھیں کام سے کون روکتا ہے‘

معاشی طور پر مستحکم خاتون بچوں کی پرورش بہتر انداز میں کر سکتی ہے

بی بی سی بات کرتے ہوئے پاکستان میں میڈیا اور ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’میڈیا میٹرز‘ سے منسلک صدف بیگ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بچوں کی اچھی پرورش ورکنگ مدر ہو یا ہاوس وائف دونوں ہی کر سکتی ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک کنبے کی اچھی پرورش ماں اور باپ کی شراکت داری اور تعاون سے ممکن ہوتی ہے۔‘

انھوں نے پاکستانی معاشرے میں عورت کے کردار کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جس گھر میں خاتون معاشی طور پر مستحکم ہوتی ہے وہاں بچوں کی پرورش بہتر انداز میں ہو سکتی ہے کیونکہ وہ خود بھی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں باپ کی مدد کرتی ہے۔‘

لمز یونیورسٹی سے منسلک معالمہ ندا کرمانی بھی صدف سے اتفاق کرتی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ندا نے کہا کہ ’تحقیق سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ جن گھروں میں مائیں معاشی طور پر مستحکم ہیں وہاں بچوں کی پرورش بہتر انداز میں ہوتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ معاشرے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وقت بدل رہا ہے۔

’اگر ایک لڑکی پڑھ لکھ کر آتی ہے تو اس کے کچھ خواب ہیں، چند مقاصد ہیں اور اگر وہ اپنے کنبے کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ احسن طریقے سے وہ مقاصد حاصل کرتی ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔‘

بچوں کی بہتر پرورش کی ذمہ داری صرف ماں پر ہی کیوں؟

اس حوالے سے صدف بیگ کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی معاشرے میں اب بھی گھر اور کنبے کی ذمہ داری کا بوجھ صرف عورت یا ماں پر ہے۔ اگر وہ باہر سے کام کر کے آئی ہے تو یہ تصور کیا جاتا ہے کہ گھر کے تمام امور بھی وہ اچھے طریقے سے ادا کریں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں عورت اور مرد خاص کر ماں اور باپ کے فرائض اور ذمہ داریوں کو بدلتے وقت کے ساتھ سمجھنا ہو گا۔ ایک باپ بھی اپنی اولاد کو وقت دے سکتا ہے، ماں کی عدم موجودگی میں گھر کے کام کر سکتا ہے، بچوں کی دیکھ بھال کر سکتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اب بہت سے گھروں میں ایسا ہو رہا ہے، اگر شوہر نے برتن دھو دیے تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔‘

صدف کا کہنا ہے کہ آج بھی ہم ہمارے گھروں میں ’بہو‘ پر گھر چلانے کی جو ذمہ داری ہے وہ ’داماد‘ پر نہیں۔

ندا کرمانی کا کہنا ہے کہ ’عورت اور مرد خصوصاً ماں اور باپ کی بچوں کی طرف ذمہ داریاں مشترک ہیں۔ باپ کا کام صرف باہر سے کما کر لانا ہی نہیں۔ بچوں کو مناسب وقت دینا اور ان کی دیکھ بھال اس کی بھی ذمہ داری ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words