افغانستان میں طالبان: کابل کی شاہراؤں سے اٹھتا تعفن اور سناٹے میں غیر یقینی کی کیفیت

ملک مدثر - بی بی سی، کابل

کابل
Getty Images
نماز جنازہ کی ادائیگی کے لیے کابل کے نواح میں موجود اس گھر میں لوگوں کا رش اور آہ و بکا ہے۔ یہاں کابل میں اتحادی فوج کے ساتھ کنسٹرکشن کے امور سے منسلک شخص کی لاش ائیرپورٹ سے پہنچی ہے۔ ان کے آٹھ بچے بے خبر ہیں کہ ان کے والد پر کیا بیتی اور آنے والی زندگی کیا مزید امتحان لے کر آئے گی۔

یہاں سے ہسپتال جانے پر میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جن کا بھائی برطانیہ سے چند روز پہلے ہی براستہ ازبکستان یہاں پہنچا تھا کہ گھر والوں کو ساتھ لے جائے لیکن دھماکے کے بعد وہ خود، ان کی سات سال کی بیٹی اور ایک تین ماہ کی بیٹی لاپتہ ہے جبکہ خاندان والوں کو ان کی اہلیہ کی لاش دھماکے کے ایک روز بعد ملی۔

شہر کے مرکز میں سڑک کے کنارے پڑی لاشوں اور ہسپتالوں کے سرد خانوں میں موجود لاشوں سے اب تعفن اٹھ رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کی شناخت کے لیے اب تک کوئی یہاں نہیں پہنچ سکا لیکن بہت سے ایسے ہیں جو ہر ہر لاش کو دیکھنے اور پہچاننے کی اذیت سے گزر رہے ہیں۔

کون کہاں گیا یہاں یہ کوائف اکھٹا کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں۔ ہسپتالوں کے وارڈز میں زخمی ہوجود ہیں۔ جن کی کہانی ایک عام دھماکے کے متاثرین سے مختلف ہے۔

ہسپتال کے مردہ خانے میں ہمیں ایسی لاشیں دکھائی دیں جن کے چہرے اور گردن پر براہ راست گولیوں کے نشانات تھے۔

ہمیں ایسے عینی شاہدین بھی ملے جو اس دھماکے کی نہیں بلکہ اس کے فوری بعد ہونے والی فائرنگ کی باتیں کر رہے ہیں۔

چند لوگ الزام عائد کرتے ہیں کہ یہ فائرنگ وہاں موجود فوج نے کی لیکن بی بی سی آزادانہ طور پر ان الزامات کی تصدیق نہیں کر سکا۔

میرے ساتھ موجود رپورٹر سکندر کرمانی نے اس الزام کے حوالے سے امریکی وزارت دفاع کو اپنا سوال بھجوایا لیکن تاحال انھیں کوئی جواب نہیں دیا گیا کہ اس روز ایئرپورٹ کے اندر موجود فورسز نے کیا واقعی لوگوں پر براہ راست فائرنگ کی تھی؟

کابل

BBC

یہاں خون میں لت پت دستاویزات ہیں، وہی پاسپورٹ جس کے سہارے یہ لوگ اتنے دنوں سے ایئرپورٹ کے اندر اور باہر موجود تھے آج ان کی لاشوں پر شناخت کے لیے رکھے گئے ہیں۔

یہ تصویریں ہم ناظرین کو دکھا نہیں سکتے لیکن ان کو کھینچنا ہماری پیشہ ورانہ ذمہ داری کا حصہ ہے لیکن یہ عمل کتنا تکلیف دہ ہے میرے پاس اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔

اذیت چند لمحات کی نہیں ہوتی بلکہ انسانی لاشوں کا یہ تعفن کئی ہفتے تک ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم نے چند روز پہلے کیا دیکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’تین روز سے سن رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر دھماکے کا خطرہ ہے اور پھر وہی ہو گیا‘

کابل ہوائی اڈے پر دہشت گردی، طالبان کو بدنام کرنے کی کوشش؟

افغان اویغور: ’ہمیں خوف ہے کہ طالبان ہمیں پکڑ کر چین کے حوالے کر دیں گے‘

’طالبان پہلے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئے پھر رات کو ہمارا دروازہ بھی کھکھٹایا‘

کابل

BBC

کابل کو اس دھماکے نے سنسان کر دیا ہے اور ہر جانب سناٹا ہے۔ ایسا نہیں کہ یہاں سے اب کوئی جانا ہی نہیں چاہتا لیکن گذشتہ ایک روز سے میں نے کابل میں سفارتخانوں کے باہر، بڑے ہوٹلوں کے باہر اور شاہراؤں پر ایسی کوئی قطار نہیں دیکھی جہاں لوگ دستاویزات لیے کھڑے ہوں یا درخواست لکھ رہے ہوں۔

میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ایئرپورٹ کے چند دروازوں پر کچھ لوگ واپس آئے ہیں۔ شمالی گیٹ پر بہت سے لوگ ہیں لیکن یہاں وقفے وقفے سے فائرنگ کی جا رہی ہے۔

ایبے گیٹ جہاں دھماکہ ہوا وہاں اب کوئی نہیں جا سکتا۔ اگر آپ صحافی ہیں تو آپ کے لیے ایک بار پھر وہی منظر ہے لیکن زیادہ سختی کے ساتھ۔

آپ وہاں جانے کی کوشش کریں گے تو طالبان آپ کو ماریں گے بھی، بدتمیزی بھی کریں گے اور کہیں گے ’جاؤ اجازت نشتہ!‘

بس ایک چیز ویسی ہی ہے اور وہ ہے طالبان کی پوزیشنز۔

کابل

Getty Images

ہمارے تقریباً سارے ہی صحافی دوست یا تو چلے گئے ہیں یا جانے کے لیے سامان باندھ رہے ہیں۔ جب وہ سب ایک کوسٹر میں نکل رہے تھے تو ان کے چہروں کے تاثرات کئی گھنٹوں بعد بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں۔

ایسے تھا جیسے ایک کشتی ہو اور اس میں مزید گنجائش نہ ہو اور وہ پیچھے والوں کو اکیلا چھوڑ کر جانا نہ چاہتے ہوں مگر وہ بے بس ہوں۔

میں رش کی وجہ سے اس لمحے کو کیمرے میں قید نہ کر سکا اور شاید میں ایسا کرنا بھی نہ چاہتا کیونکہ ان کے چہروں کی اداسی غیر معمولی نہ تھی۔

مجھ سمیت شاید کوئی بھی اتنی جلدی اس شہر میں پل پل بدلتے حالات کے بارے میں ایسا گمان رکھتا ہی نہیں تھا اور اب بھی معلوم نہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا ہو گا۔

کابل

Getty Images

سفارتی عملوں سے منسلک افراد اور بین الاقوامی اداروں کے لوگ کہتے ہیں کہ کبھی بھی فوری طور پر نکلنے کے احکامات مل سکتے ہیں۔

کھانے کی میز پر میری طالبان کے ایک رکن سے ملاقات ہوئی جو خود کو چند صوبوں کا خزانچی بتاتے ہیں۔

میں نے پوچھا ’آپ کے امیر المومنین کہاں ہیں‘ تو جواب ملا ’ہیں تو ادھر ہی لیکن ان پر پابندیاں ہیں جیسے ہی وہ ختم ہوئیں وہ منظر پر آ جائیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words