’افغانستان میں ہماری خدمات رائیگاں گئیں؟‘، سابق امریکی فوجیوں کا سوال

Ask America graphic
BBC
افغانستان میں امریکہ کی بیس سالہ جنگ میں آٹھ لاکھ امریکی فوجیوں نے حصہ لیا۔ دو ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اس جنگ میں مارے گئے اور بیس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔

امریکہ نے افغانستان میں جنگ لڑنے اور افغانستان کی فوج کو تیار کرنے پر 822 ارب ڈالر خرچ کیے لیکن طالبان نے ایک بار پھر ملک کی فتح کر لیا ہے۔

چار ایسے امریکی فوجی جنھوں نے افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا، وہ اس جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

Ask America graphic

BBC

جیسن کریل

جیسن کریل 2010 میں افغانستان کے شہر قندھار میں تعینات رہے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ میں ٹائٹینک فلم کا آخری حصہ دیکھ رہا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ جہاز نے ڈوبنا تو ہے، لیکن یہ نہیں معلوم کہ کب اور کتنی جلدی۔

میرے خیال میں صدر بائیڈن نے افغان افواج کے بارے میں جو کہا ہے وہ سخت ضرور ہے لیکن سچ ہے۔

یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ افغان فوج اتنی جلدی شکست کھا گئی ہے۔ وہ ان علاقوں پر اپنا قبضہ قائم نہیں رکھ سکے تھے جو امریکی فوج نے ایک عشرہ پہلے ’سرج‘ کے بعد حاصل کیے تھے۔ اس کے بعد شہروں کی باری تھی، پہلے چھوٹے اور پھر بڑے۔ افغان فوجی اس کے لیے مرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ میں ان کو الزام نہیں دیتا۔

مجھے حیرانی صرف اس بات سے ہوئی کہ طالبان نے کابل کا کنٹرول کرنے کے لیے امریکہ کے وہاں سے نکل جانے کا بھی انتظار نہیں کیا۔

امریکہ کو وہاں ٹھہرنا نہیں چاہیے تھا۔ یہ ہونا ہی تھا۔ جب بائیڈن کہتے ہیں کہ مزید ایک سال یا پانچ سال افغانستان میں ٹھہرنے کے بعد بھی نتائج یہ ہی ہونے تھے تو وہ بلکل صحیح کہہ رہے ہیں۔

جنگ میں حصہ لینے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ جنگ میں کتنا کچھ آپ کے بس میں نہیں ہوتا۔ امریکہ کو وہاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو حصہ ڈالنا تھا مثلاً پاکستان، افغان فوجیوں اور مقامی شہریوں نے۔ کوئی بھی ایک صفحے پر نہیں تھا۔

یہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ اسے اتنے طویل عرصے کیوں جاری رہنے دیا گیا۔

Ask America graphic

BBC

مشال ڈنکلی

مشال ڈنکلی امریکہ کی ایئرفورس کا حصہ ہیں اور 2016 میں افغانستان میں تعینات رہی ہیں۔

میں اپنے ملک کے رویے سے مایوس ہوں۔ یہ بہت افسوس ناک ہے۔ مجھے افغانوں سے ہمدردی ہے، خصوصاً عورتوں سے جنھیں ایک بار پھر طالبان کے سیاہ دور میں رہنا پڑے گا۔

ویتنام کو دیکھو، کوریا کو دیکھو۔ جنگ کسی قیمت پر بھی لڑنے کے قابل نہیں ۔ کیا یہ جنگ صحیح تھی۔ بظاہر تو ایسا نہیں۔ طالبان چھپ گئے اور انتظار کرکے ہمیں تھکا دیا۔

کیا ہم نے افغانستان کی فوج کی صلاحیتوں کو صحیح اندازہ لگایا تھا۔ میرا نہیں خیال ایسا کیا گیا ہے۔ ہم ہیلی کاپٹر پائلٹوں کو تربیت دی اور مبینہ طور پر ان کے فوجیوں کی بھی تربیت کی ۔ لیکن بظاہر ہم نے یہ کام اچھے طریقے سے نہیں کیا۔

میرے خیال میں انخلا مختلف انداز میں ہونا چاہیے تھا۔ دو عشرے، بیس سالوں میں ایک نسل تیار ہو جاتی ہے۔ جن نوجوان افغانوں سے میں ملی ہوں، وہ امریکی فوج کی طرف دیکھتے تھے۔ وہ امریکیوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ ان کا معیار زندگی اچھا تھا۔ سب کچھ چلا گیا ہے۔

کیا ہم اس کو بدل سکتے ہیں؟ نہیں۔ کیا یہ ڈیموکریٹ بمقابلہ ریپبلکن معاملہ ہے؟ نہیں۔ کسی کے پاس کے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ میں بہت مایوس ہوں۔

Ask America graphic

BBC

مائیک جیسن

مائیک جیسن امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ہیں۔ وہ چوبیس برس تک امریکی فوج کا حصہ رہے ہیں۔

یہ بہت مایوس کن ہے۔ جس رفتار سے سب کچھ گر گیا ہے، سمجھ سے باہر ہے۔

میں افغانستان کی فوج کے ایک سینئر افسر کے ساتھ رابطے میں ہوں جو چھپا ہوا ہے۔ اس کا خاندان چھپا ہوا ہے۔ وہاں پر زندگی کا بحران ہے۔

پرانے فوجیوں کے لیے یہ صحیح نہیں ہے۔ ہمارے دوستوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ ابھی اس پر افسوس کرنےکا وقت نہیں ہے۔

میں ایک مثالیت پسند شخص ہوں۔ میں نے فوج کو اس لیے جوائن کیا کہ میں کچھ اچھا کرنا چاہتا تھا۔ جب نائن الیون ہوا، تو میں کچھ کرنا چاہتا تھا۔ جب ہم افغانستان گئے تو یہ ہمارے لیے ایک اجنبی تہذیب ، اجنبی مگر خوبصورت ملک میں ہمدردی کے ساتھ کام کا سبق تھا۔

اس کی جو قیمت ادا کی گئی کیا وہ صحیح تھی۔ کیا اس میں میرا کردار صحیح تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ میں نے اچھا کام کیا ہے۔ لیکن اب مجھے اس پر ایک بار غور کرنا ہو گا۔

ہم نے ایک ایسے ملک میں فوج کھڑی کی جہاں فوج تھی ہی نہیں۔ ایک بار میرے ایک ساتھی نے کہا تھا کہ افغان فوج کی حکومت سے کوئی وفاداری نہیں ہےکیونکہ وہ اسے بدعنوان اور غیر قانونی سمجھتے ہیں۔

میرا نہیں خیال کہ اگر وہاں اور امریکی فوجی بھی بھیجے جاتے تو اس سے کوئی فرق پڑنا تھا۔

میں نہیں سمجھتا کہ جس شخص نے بھی وہاں گراؤنڈ پر کام کیا ہے، وہاں جو کچھ ہوا اسے اس سے بہت زیادہ حیرانی ہوئی ہو گی۔

المیہ یہ ہے افغانستان میں ایسے لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پرامن ماحول میں پرورش پائیں۔ جب ہم وہاں تھے انھوں نے اس کا تجربہ بھی کیا۔ لیکن افغانستان میں ایک بار پھر تاریکی لوٹ آئی ہے۔ ‘

Ask America graphic

BBC

کائل ہینسن

کائل 2006 سے 2012 تک امریکی فوج کا حصہ رہے ہیں۔ اس دوران وہ افغانستان اور عراق میں بھی رہے۔

’میرے جذبات بہت مختلف ہیں۔ میں اپنےان ساتھیوں کے لیے غمگین ہوں جنھوں نے اس مقصد کے لیے زندگیاں قربان کیں۔ لیکن بلکل بھی حیران نہیں ہوں۔ ہمیں بہت پہلے سے افغان ریاست اور فوج کے بیکار ہونے کا علم تھا۔

جب ہم وہاں سے آئے تو ہمیں معلوم تھا کہ یہی کچھ ہو گا۔ امریکی سیاستدان اس معاملے بیس برس تک آگے پیچھے کرتے رہے۔ لیکن یہ جنگ شروع ہونے کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑنے کے قابل نہیں رہی تھی۔

افغان فوج نے جس رفتار سے شکست کھائی ہے میرے لیے بلکل حیران کن نہیں ہے۔

طالبان کو تیاری کے لیے پورا وقت دیا گیا ۔ انھیں تاریخیں بھی دی گئی۔

کیا ہم اسے روک سکتے تھے؟ میرا نہیں خیال وہاں مزید ٹہرنے کا کوئی آپشن بھی تھا لیکن جس طرح ٹرمپ اور بائیڈن نے فوجوں کے انخلا کے مرحلے سے نمٹا ہے وہ بے رحم مقامی سیاست کا نتیجہ ہے۔

افغانستان کے زمینی حقائق کے بارے میں امریکی عوام سے سچ نہیں بولا گیا۔

جنگ سیاست کی ایک قسم ہوتی ہے۔ ہماری فوج نے پوری کوشش کی لیکن ہمارے سیاستدانوں نے امریکیوں اور افغانوں کو مایوس کیا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words