برطانیہ میں 12 سال کا لڑکا ویئرڈ ویلز نامی این ایف ٹیز بیچ کر کروڑ پتی بن گیا

زوئی کلائین مین - ٹیکنالوجی رپورٹر

لندن میں سکول کی چھٹیوں کے دوران ایک 12 برس کا لڑکا نان فنجیبل ٹوکٹنز (این ایف ٹیز) کی فروخت سے کروڑ پتی بن گیا ہے۔

بنیامین احمد نے ویئرڈ ویلز نامی این ایف ٹیز کی متعدد تصاویر بنائیں کیں اور پھر مارکیٹ میں ان کی ڈیجیٹل ٹوکن فروخت کر دیے جس سے اسے 290،000 پاؤنڈز کی آمدن حاصل ہوئی۔

این ایف ٹیز کے ذریعے فنپاروں کو ٹوکنز بانٹا جا سکتا ہے اور پھر ایک ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کی ملکیت حاصل کی جاتی ہے، جسے خریدا اور فروخت کیا جا سکتا ہے۔

عام طور پر خریدار کو حقیقی آرٹ ورک یا اس کے جملہ حقوق نہیں دیے جاتے۔

بنیامین احمد اپنی آمدنی کو کرپٹو کرنسی ایتھیریئم کی شکل میں ہی رکھیں گے جس میں پھر ان (این ایف ٹیز) کی فروخت ہوتی تھی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ڈیجیٹل ٹوکن کی قیمت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے اور اگر ڈیجیٹل ویلیٹ جس میں یہ کرنسی رکھی جاتی ہے کسی وجہ سے ہیک یا چوری ہو جائے تو پھر ایسے میں حکام کے پاس اس کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔

بنیامین نے کبھی کسی بینک میں اپنا اکاؤنٹ نہیں کھلوایا۔

’بچوں پر فخر ہے‘

بنیامین کے کلاس فیلوز ابھی تک اس کی اس دولت سے آگاہ نہیں ہیں اگرچہ اس نے اپنے اس شوق کے بارے میں یوٹیوب پر ویڈیوز بھی بنا رکھی ہیں، جن سے وہ تیراکی، بیڈمنٹن اور ٹیکوانڈو جیسے اپنے مشاغل کی طرح لطف اندوز ہوتا ہے۔

بنیامین نے دوسرے بچوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اس شعبے میں قدم رکھنے کے لیے اپنے آپ کو کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہ لائیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اگر آپ کو کھانا پکانا اچھا لگتا ہے تو پھر ضرور کھانا پکائیں، اگر آپ کو ڈانس اچھا لگتا ہے تو پھر اپنی قابلیت کے عین مطابق ضرور ڈانس بھی کیجیے۔

بنیامین کے والد عمران ایک سافٹ وئیر ڈویلپر ہیں، جو روائتی فنانس کا کام کرتے ہیں، جس سے پانچ اور چھ برس کی عمر میں ہی بنیامین اور اس کے بھائی یوسف کی بھی اس ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے کی طرف رغبت ہو گئی۔

بچوں کو اس وقت ٹیکنالوجی کے ایک مضبوط نیٹ ورک کا بڑا فائدہ بھی حاصل ہے اگرچہ ماہرین ہی اس حوالے سے کوئی حتمی اور بہتر تجویز یا مدد کر سکتے ہیں مگر عمران کو اپنے بچوں کی اس صلاحیت پر بہت ناز ہے۔

مزید دلچسپی بڑھ گئی

ان کے والد عمران کے مطابق اگرچہ یہ بچوں کے لیے ایک لطف اندوز ہونے کا ایک مشغلہ تھا مگر مجھے شروع سے ہی پتا چل گیا تھا کہ ان بچوں کا اس طرف بہت رحجان ہے اور وہ اس شعبے میں بہت اچھے بھی ہیں۔

’اس کے بعد ہم نے انھیں کسی حد تک سنجیدہ لینا شروع کر دیا۔ مگر اب یہ روز کا معمول بن چکا ہے کیونکہ آپ اس کام میں راتوں رات مہارت حاصل نہیں کر سکتے ہیں اور آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں یہ کوڈنگ کا کام تین ماہ میں سیکھ جاؤنگا۔‘

عمران کے مطابق ان کے بچے روزانہ 20 یا 30 منٹس کوڈنگ کی مشق کرتے تھے اور چھٹی والے دن بھی وہ یہ کرتے ہیں۔

وئیرڈ ویلز بنیامین کی دوسری ڈیجیٹل آرٹ کو کولیکشن ہے۔ اس سے قبل اس نے مائین کرافٹ میں قسمت آزمائی کی تھی جس میں اسے خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہو سکی تھی۔

اس بار اسے ایک مشہور ویل کی تصویر والی میم اور ڈیجیٹل آرٹ سٹائل سے حوصلہ ملا۔ مگر اس نے ایموجی ٹائپ کی ویل کے اپنے پروگرام کے تحت 3350 تصاویر کا سیٹ تیار کیا۔

بنیامین کے مطابق اپنے کام سے آمدن حاصل کر کے انھیں بہت مسرت ہوئی اور وہ سب میری سکرین پر آہستہ آہستہ منافع کماتی نظر آ رہی تھیں۔

بنیامین پہلے ہی اپنی تیسری سپر ہیرو والی کولیکشن پر کام کر رہے ہیں۔ وہ پانی کے اندر ویلز پر بھی ایک گیم بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

بنیامین کے مطابق یہ بہت ہی دلچسپ ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

شعیب اختر اور وسیم اکرم اپنے ’قیمتی‘ ڈیجیٹل اثاثے کیوں بیچ رہے ہیں؟

بٹ کوائن: ’کسی نے مہنگی کار خریدی تو کوئی لُٹ گیا‘

بٹ کوائن کو قانونی کرنسی قرار دے دیا جائے تو آپ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

عمران کو سو فیصد یقین ہے کہ اس کے بیٹے نے جملہ حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور انھوں نے بنیامین کے کام کے آڈٹ کے لیے وکلا کی بھی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ وکلا اس بات کا بھی تعین کریں گے کہ بنیامین کے ڈیزائین کو ٹریڈ مارک میں کیسے ڈھالا جا سکتا ہے۔

آرٹ کی دنیا این ایف ٹیز پر تقسیم دکھائی دیتی ہے۔

آرٹسٹ کا کہنا ہے کہ یہ کمائی کا ایک اہم اضافی ذریعہ ہے۔ اس شعبے میں مہنگی فروخت سے متعلق چونکا دینے والی متعدد کہانیاں ہیں۔

ابھی اس متعلق شک کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ کیا یہ ایک طویل دورانیے کی محفوظ سرمایہ کاری ہو گی یا نہیں۔

کرسٹی کے سابق آکشنر چارلس الیسوپ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ این ایف ٹیز کی خریداری کی کوئی تک نہیں بنتی۔

انھوں نے روان برس کے آغاز میں کہا تھا کہ ایک ایسی چیز کو خریدنا جو موجود ہی نہ ہو ایک تعجب والی بات ہے۔

ان کے مطابق لوگ اس شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ کسی حد تک بے وقوف ہیں مگر انھیں قوی امید ہے کہ ایسا کرنے سے وہ اپنی جمع پونجی سے ہاتھ نہیں دھو بیٹھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words