ظریفہ غفاری: طالبان سے چھُپ کر کار میں فرار ہونے والی افغانستان کی نوجوان خاتون میئر

جوشوآ نیویٹ - بی بی سی نیوز

طالبان، افغانستان، کابل
BBC
اپنے آپ کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے کابل ایئرپورٹ سے افغانستان سے ملک بدری پر مجبور ہونے والی افغان خاتون میئر، ظریفہ غفاری۔
کابل پر طالبان کا قبضہ ظریفہ غفاری کے لیے انتباہ کا ایک پیشگی لمحہ تھا۔ یہ افغانستان کی ان حواتین میں شمار ہوتی ہیں جو حالیہ دور میں افغان شہروں میں سے ایک کی میئر منتخب ہوئی تھیں۔

جب طالبان جنگجوؤں نے افغانستان کے دارالحکومت پر چڑھائی کرنا شروع کی تو اُنھوں نے محسوس کر لیا تھا کہ اب اُن کی زندگی سنگین خطرے میں ہے۔ چند دنوں ہی میں وہ اپنے اہلِ خانہ سمیت جرمنی پہنچ جانے میں کامیاب ہو گئیں جہاں اُنھوں نے اپنے فرار کی ڈرامائی کہانی بی بی سی کو بتائی۔

انتیس برس کی ظریفہ غفاری ماضی میں میئر منتخب ہونے کی وجہ سے ایک سرکاری عہدیدار اور حقوقِ نسواں کی ایک ممتاز رہنما بن کر نمایاں ہو گئی تھیں۔

ان کے خیال میں ان وجوہات کی وجہ سے وہ طالبان کے لیے ایک خطرہ تھیں کیونکہ طالبان عورتوں کی سرگرمیوں کو مذہب کی اپنی سخت گیر توضیح کے مطابق محدود کردینا چاہتے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میری آواز میں وہ گھن گرج تھی جو توپ تفنگ میں بھی نہیں تھی۔‘

ابتدا میں تو غفاری سرکش نظر آئیں، یہاں تک کہ جب طالبان بہت ہی تیزی سے کابل پر قبضہ کر رہے تھے تو وہ اس وقت بھی گھبرائی نہیں تھیں۔ لیکن پھر جلد ہی ان کی امیدیں مایوسی میں تبدیل ہو گئیں۔

Zarifa Ghafari

Zarifa Ghafari
ظریفہ غفاری کابل کے مغرب کی جانب اہم خطے، میدان شہر کی سنہ 2018 میں میئر منتخب ہوئی تھیں۔

طالبان کے قبضے کے فوری بعد ظریفہ غفاری کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنے گھر سے نکل کر محفوظ جگہ منتقل ہوجائیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اُن کی سلامتی کے بارے اس وقت تشویش بڑھ گئی جب طالبان ان کے گھر پہنچ گئے اور ان کے محافظوں کو مارا پیٹا۔

حالیہ برسوں میں خطرات مسلسل غفاری کے لیے تشویش کا باعث چلے آ رہے تھے۔ سنہ 2018 کے بعد ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا جب وہ 26 برس کی عمر میں ایک قدامت پسند شہر میدان شہر کی میئر منتخب ہوئی تھیں۔ اس شہر میں طالبان کی کافی حمایت بھی تھی۔

ان سے دشمنی کے نتیجے میں اسی شہر میں ان کے والد کو گذشتہ برس ہلاک کیا گیا۔ ان کے والد افغان فوج میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اس لیے غفاری کو خدشہ تھا کہ طالبان ان کے بھی دشمن ہیں۔

جب اگست کے وسط میں طالبان نے اچانک افغانستان پر قبضہ کیا تو اس وقت ظریفہ غفاری نے سوچا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے ملک سے ہجرت کریں۔

طالبان، افغانستان، کابل

Zarifa Ghafari
غفاری کے رشتہ داروں اور دوستوں نے انھیں خبردار کیا کہ طالبان کے دورِ حکومت میں ان کے لیے افغانستان میں قیام کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔

طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد 18 اگست کو انھوں نے ایک کار کا انتظام کیا تاکہ وہ اُس پر سوار ہو کر وہ اپنے اہلِ خانہ سمیت کابل ایئرپورٹ پہنچ سکیں۔

انھوں نے بتایا کہ اپنے گھر سے کابل ایئرپورٹ تک کا یہ سفر انھوں نے کار میں چھپ کر کیا، جب بھی کہیں رستے میں کسی ناکے پر طالبان نظر آتے وہ اپنی کار میں نیچے چھپ جاتیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ‘جب ہم ایئر پورٹ کے مین گیٹ پر پہنچے تو ہر طرف طالبان جنگجو نظر آرہے تھے۔ اور مجھے اپنے آپ کو چھپانا کافی مشکل محسوس ہو رہا تھا۔‘

طالبان، افغانستان، کابل

Zarifa Ghafari
غفاری نے کہا کہ گھر سے کابل ایئرپورٹ تک کے سفر کے دوران وہ اپنی کار کے نیچے پیر رکھنے والی جگہ پر چھپ گئی تھیں۔

کابل ایئرپورٹ پر ترکی کے سفیر نے استنبول جانے والے طیارے میں سوار کروانے میں ان کی اور ان کے اہل خانہ کی مدد کی۔ وہاں سے بعد میں وہ جرمنی پہنچیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘جب میرے ابو مجھ سے جدا ہوئے تھے تو اُس وقت میں نے محسوس کیا تھا کہ اب میں دوبارہ پھر کبھی اس غم سے باہر نہیں آسکوں گی۔ لیکن جب میں افغانستان سے ہجرت کے لیے اس طیارے میں بیٹھی، تو میں نے ابو کی موت کے دکھ سے بھی زیادہ دکھ اور تکلیف محسوس کی۔’

وہ کہتی ہے کہ سقوطِ کابل کا دن ‘میری زندگی کا بدترین لمحہ ہے۔’

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

کیا طالبان افغانستان کو واپس تاریک ماضی میں دھکیل دیں گے؟

’اب لوگ کم از کم تین چار روٹیاں یا پکوان طالبان کے لیے رکھتے ہیں‘

جنگ بندی: افغان حکام اور طالبان کے درمیان خفیہ ملاقاتیں

وہ کہتی ہیں کہ ‘میں شاید اپنے دل میں اس گہرے دکھ پر کبھی بھی قابو نہ پاسکوں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے اپنا ملک چھوڑنا پڑے گا۔’

غفاری جو اب جرمنی کے شہر دوسولدورف میں محفوظ ہیں، وہ یہ بات تسلیم کرتی ہیں کہ وہ ان خوش قسمت افراد میں سے تھیں جو کابل ایئرپورٹ کے اردگرد خطرناک ہوتے ہوئے حالات میں سے نکل جانے میں کامیاب ہوئیں۔

Zarifa Ghafari

Zarifa Ghafari
غفاری استنبول سے ہوتی ہوئی جرمنی پہنچیں۔

انھوں نے تہیہ کیا ہے کہ وہ سیاستدانوں اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گی تاکہ وہ طالبان کے دورِ حکومت میں افغانوں کے حالات کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کروا سکیں۔

وہ طالبان سے بھی مذاکرات کے لیے تیار ہوں گی، ‘تاکہ ہم دونوں ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔’

وہ کہتی ہیں کہ ‘اب غیر ملکی فوجیں ہماری مدد کرنے نہیں آئیں گی۔ اب یہ ہمارے لیے ہے کہ ہم طالبان سے اپنے معاملات طے کریں۔ میں یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہوں۔’

Zarifa Ghafari

Zarifa Ghafari
غفاری افغانستان کی وزارتِ دفاع میں جنگ سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔

تاہم وہ اب بھی طالبان پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، خاص طور پر عورتوں کے حقوق کے بارے میں۔

جب پچھلی مرتبہ سنہ 1996 میں طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو انھوں نے اسلامی قوانین کی انتہائی قدامت پسندانہ توضیحات کو نافذ کیا تھا، جسے انھوں نے عورتوں کے سکول یا کام کے لیے باہر جانے پر پابندی کے جواز کے طور پر استعمال کیا تھا۔

پچھلے ہفتے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ عورتیں ‘اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے معاشرے میں فعال کردار ادا کریں گی۔’ لیکن غفاری شک کا اظہار کرتی ہیں، ‘ان کے قول و فعل میں ہمیشہ تضاد ہوتا ہے۔’

انھیں امید ہے کہ وہ واپس اپنے وطن جائیں گی، جب افغانستان ایک محفوظ ملک بن جائے گا۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘وہ میرا وطن ہے — ہم نے اُسے تعمیر کیا ہے۔ میں نے کئی برس اس کی تعمیر کے لیے جد و جہد کی ہے۔’

میں ایک مُٹّھی بھر مِٹّی جو میں اپنے وطن سے اپنے ساتھ لائی ہوں، اُسے جہاں سے اُس کا تعلق ہے وہاں واپس لے جانا چاہوں گی۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words