افغانستان میں طالبان: اقتصادی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو جانے سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہونے لگا

محمود جان بابر - صحافی، کابل

کابل، طالبان، افغانستان
Getty Images
کابل میں افغان شہری بینک سے پیسے نکلوانے کے لیے انتظار میں بیٹھے ہیں
محمد سلیم (فرضی نام) کی عمر اتنی کچھ زیادہ بھی نہیں لیکن گھرکی ذمے داریوں کے بوجھ اور حال ہی میں چھوٹ جانے والی سرکاری نوکری کے بعد اُن کے چہرے پر ہوائیاں سی اڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔

کابل میں ہمارے مقامی میزبان دوست نے انھیں کہا کہ ’کیوں اتنے پریشان ہو، سب ٹھیک ہو جائے گا‘ تو اُنھوں نے بڑی حسرت بھری آواز میں کہا کہ صرف اُن کی ملازمت ہی نہیں چھوٹی بلکہ اُن کے ایک بھائی اور ایک بہن یعنی تینوں اکٹھے ہی بے روزگار ہو کر گھر بیٹھ گئے ہیں۔

محمد سلیم خود ایک سرکاری محکمے میں کنٹریکٹ ملازمت پر تھے جبکہ اُن کے بھائی اور بہن بھی عارضی نوکریوں پر کام کر رہے تھے۔

اشرف غنی نے اچانک کابل چھوڑا اور طالبان نے اقتدار سنبھالا تو اور بہت سارے سرکاری ملازمین کی طرح یہ تینوں بہن بھائی بھی بے یقینی کے اندھے کنویں میں گر گئے۔

ان کو کچھ پتہ نہیں کہ اب کیا ہو گا۔

سلیم کا کہنا تھا کہ اُنھیں کچھ نہیں معلوم کہ وہ کہاں سے کھائیں گے، ہاں بس ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ طالبان حکومت سازی کے عمل کو جلد ازجلد مکمل کریں تاکہ ملک پر چھائی ہوئی بے یقینی کی یہ کیفیت ختم ہو اور وہ بھی دوبارہ کام کرنے کے قابل ہوں۔

افغانستان میں اشرف غنی کے اقتدار چھوڑنے اور طالبان کے سرکاری معاملات کا چارج سنبھالنے کے بعد پورا ملک عموماً اور بڑے شہر خصوصاً ایک ایسی بے یقینی سے دوچار ہو گئے ہیں کہ جس کا حل جلدی نہ نکالا گیا تو یہ ماضی کے مقابلے میں بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

حکومتی اداروں میں کام کی بندش کی بدولت مستقل اور کنٹریکٹ ملازمین انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان میں سے بعض کو دو ماہ اور بعض کو چھ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔

زیادہ تر شہروں میں بینک بند ہیں جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ تاجر طبقے کو بھی اپنے سرمائے تک رسائی حاصل نہیں اور سرکار کے ساتھ نجی کاروبار بھی معطل سمجھا جا رہا ہے۔

کابل، طالبان، افغانستان

Getty Images
کابل میں 28 اگست 2021 کو برقعے میں ملبوس خواتین مقامی بازار سے خریداری کر رہی ہیں

کابل میں سونے کے کاروبار کے مراکز اور کرنسی مارکیٹ بند پڑی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ اگر جلد ہی نئی باضابطہ حکومت قائم نہیں کی گئی تو یہ ایسے بحران کو جنم دے گا جس کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا۔

کابل میں ایک سینیئر ملازم صداقت خان (فرضی نام) کہتے ہیں کہ اُنھیں تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی اور مزید بھی ایسا ہونے کوئی امکان نظر نہیں آ رہا کہ اُن کی بقایا اور جاری تنخواہ کب ملے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ حکومت کا نظام بری طرح متاثر ہے، ہمارے محکمے کا چارج بھی طالبان کے ایک رہنما نے سنبھال تو لیا ہے لیکن مسئلہ پھر بھی جوں کا توں ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ایک طرف حکومت نام کی کوئی چیز اس وقت موجود نہیں، امریکہ افغانستان میں موجود ہے، طالبان نے حکومت سازی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا اور سرکاری اداروں کی حالت یہ ہے کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ اب جب حکومتی ادارے اپنا کام شروع کریں گے تو ہم اُن اداروں کے ملازم ہوں گے یا ںہیں جن میں ہم کام کر رہے تھے۔‘

’میرے گھر کی حالت خراب ہے اور گھر کے کچھ لوگ بھی جو دیگر محکموں سے وابستہ تھے وہ بھی گھر بیٹھ گئے ہیں اور اُنھیں کہا گیا ہے کہ جب دوبارہ ادارے کام شروع کریں گے تو یہ تب کام پر آئیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حالت یہ ہے کہ نوبت فاقوں پر آ چکی ہے، دوسری طرف ہم جو طالبان کے آنے کے بعد امن کے لحاظ سے کچھ ریلیف محسوس کرنے لگے تھے وہ بھی پنجشیر میں طالبان کے خلاف ’بغاوت‘ کا معاملہ سراٹھانے کے بعد دوبارہ چھن چکا ہے۔

تنخواہیں کیوں بند ہیں، کے سوال کے جواب میں صداقت خان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی اور افغان پارلیمان کے مابین کچھ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کے معاملے پر آخری بجٹ بھی چار ماہ کی تاخیر سے منظور ہوا اور تنخواہوں کا سارا نظام پہلے سے ہی تتر بتر تھا اور جب حکومت چلی گئی تو یہ معاملہ اب مزید بے یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔

کابل میں حالت یہ ہے کہ ہزاروں لوگ اب بھی طالبان کے انتقام کے خدشے کے پیش نظر ہوائی اڈے اور مختلف سفارتخانوں کے دروازوں پر جمع ہیں اور اندازہ ہے کہ ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک لوگوں کو افغانستان سے امریکہ، یورپ اور کینیڈا منتقل کردیا جائے گا۔

ملک بھر میں لاکھوں ملازمین سرکاری اور نیم خود مختار اداروں اور پراجیکٹس سے وابستہ ہیں جبکہ فوج اور پولیس ان کے علاوہ بھی ہے۔

ہر محفل میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا اشرف غنی کے بعد برسراقتدار آنے والے طالبان ان سرکاری ملازمین کو بحال اور برقرار رکھتے ہیں یا نہیں۔ ان محافل میں ان ملازمین کی پھنسی ہوئی تنخواہیں بھی ایک مستقل سوال کی صورت بحث کا موضوع ہوتے ہیں۔

کابل یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات میں تدریس سے وابستہ ایک پروفیسر کہتے ہیں کہ شہری علاقوں میں لوگوں کے خدشات کو کم کرنے کے لیے طالبان نے عام معافی کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن پھر بھی ان شہروں میں رہنے والے لوگ ان اعلانات پر یقین نہیں رکھتے، اس لیے وہ یہاں سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان شہروں میں لوگوں کی زندگی تعلیمی اداروں، بازاروں اور بینکوں کے ساتھ جڑی ہوئی تھی یہ سب بند ہیں، اگر فوری طور پر اس خلا کو پُر نہ کیا گیا تو یہ بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

کابل، طالبان، افغانستان

Getty Images
افغانستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا عموماً سرکاری اداروں سے واسطہ نہیں پڑتا اس لیے اُنھیں اتنے مسائل نہیں جتنے کہ شہری علاقوں کے رہنے والوں کو

’اشرف غنی اور اُن کے ساتھیوں نے نکلنے کے ساتھ اس ملک، عوام اورتاریخ کے ساتھ ایک بڑی خیانت کی اورایک ایسا خلا بنایا جس سے صرف افغان ہی دوچار نہیں بلکہ پوری دنیا مشکل میں آ گئی ہے۔ سفارتخانے بھی مسائل سے دوچار ہیں۔

’دنیا کی جو کوشش تھی کہ اس معاملے کو ایک حل تک لایا جائے گا لیکن اشرف غنی کے ایسا کرنے سے وہ نہ ہو سکا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حالات نے ایک دم پلٹا کھایا اور لوگ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ ’اس لیے ایک لاکھ تک پڑھے لکھے اور ماہر لوگ مستقبل اور اپنی سلامتی کے حوالے سے اندیشوں کا شکار ہوئے اوروہ کابل سے نکلنے کی کوششیں کرنے لگے۔‘

افغانستان کا معاشرہ بھی شہری اور دیہی حصوں میں تقسیم ہے۔ بڑے شہروں میں لوگوں میں مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بہت زیادہ ہے۔ ان شہروں میں بڑے سرکاری ادارے، تعلیمی ادارے، پولیس، فوج اور ہر قسم کے مراکز موجود تھے جہاں پر حکام، فوجی، سفارت کار اور بڑے لوگ رہتے ہیں، جن کے پاس سکیورٹی کا اپنا نظام ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کابل میں بظاہر معمول پر آتی زندگی لیکن امیگریشن ویزا کے لیے ہجوم برقرار

کابل کا آنکھوں دیکھا حال: سڑکوں پر تصویریں کھنچواتی طالبان کی ’نئی نسل‘

کابل کی شاہراؤں سے اٹھتا تعفن اور سناٹے میں غیر یقینی کی کیفیت

اس سب تبدیلی کے بعد ان خطرات نے سر اٹھایا کہ ان پر حملے نہ ہوں جبکہ ان شہروں کے مقابلے میں دیہی زندگی بالکل مختلف تھی۔

افغانستان کے 60 سے 80 فیصد تک لوگ دیہی علاقوں میں قبائلی نظام اور رسوم و رواج کے تحت رہتے ہیں اور اب بھی وہاں پر حکومتی مداخلت کی بجائے قبائلی نظام یعنی جرگہ، حجرہ اور پولیس کے ذریعے مسائل کے حل کے حامی ہیں، اس لیے ان پر کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا۔

ان دیہی علاقوں کے لوگوں کا گذشتہ 40 برس میں بھی حکومت اور اس کے اداروں سے واسطہ نہیں پڑا، اس لیے ان پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔

صرف غریب لوگ ہی بے یقینی سے دوچار نہیں بلکہ کابل کے شمال میں واقع فروجہ تیمنی میں ایک رہائشی عمارت کے مالک فواد جان (فرضی نام) کہتے ہیں کہ ان کی اس عمارت میں 40 سے زیادہ خاندان رہتے ہیں جن کو اُنھوں نے فلیٹ کرائے پر دیے ہوئے ہیں۔

کابل، طالبان، افغانستان

Getty Images
کابل میں 25 اگست 2021 کو ایک دکاندار مالی مشکلات کے باعث لوگوں کے فروخت کردہ فرنیچر کو اپنی دکان میں سنبھال رہا ہے

’تاہم جب سے اشرف غنی نے اقتدار چھوڑا ہے اس وقت سے بے یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ کچھ تو معاشرے کے مجموعی حالات اور ان کے کئی کرایہ داروں کے سرکاری ملازمت ختم ہونے کے باعث صرف گذشتہ چند دنوں میں چھ خاندانوں نے اپنا سامان اونے پونے داموں بیچ کر فلیٹ خالی کر دیے ہیں۔‘

’ہر فلیٹ کا کرایہ 250 امریکی ڈالر تھا لیکن اب وہ اسی فلیٹ کو پانچ ہزار افغانی میں دینے تک آ گئے ہیں جو 55 سے 60 ڈالر بنتا ہے۔ لوگ ان گھروں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گھروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔‘

اپنے قبیلے کے سربراہ اور تاجر حاجی احمد (فرضی نام) بھی کابل ہی میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اشرف غنی کے جانے اور طالبان کے آنے کے اس عمل کے دوران سب سے زیادہ فائدہ چوروں نے اٹھایا جنھوں نے طالبان کے روپ میں لوگوں کو لوٹا لیکن ایسے 350 چوروں کو طالبان نے خود پکڑا۔

وہ کہتے ہیں کہ سونے کا کاروبار بند ہے، شہر میں آٹے، پیٹرول اور دیگر سامان کی درآمد کم ہے۔ پہلے اگر ایک تاجر دن میں تین ٹرک سامان نکالتا تھا تو وہ اب ایک ٹرک پر آ گیا ہے۔

’پیٹرول کی قیمت بھی خود بخود بڑھ گئی ہے لوگوں کو معلوم ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اس لیے وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ طالبان کو چاہیے کہ اس حوالے سے اپنی پالیسی واضح کریں۔

’طالبان ترجمان کہتے ہیں کہ لوگ اپنی نوکریوں پر حاضر ہوں لیکن وہ جب کام پر جاتے ہیں تو وہاں پر موجود طالبان اُنھیں واپس گھر بھیج دیتے ہیں، اس لیے جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکلے گا اس وقت تک صورتحال گھمبیر رہے گی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words