اُن افراد کی زندگی کیسی ہوتی ہے جو برطانیہ میں پناہ کی تلاش میں آتے ہیں؟

اُن افراد کی زندگی کیسی ہوتی ہے جو برطانیہ میں پناہ کی تلاش میں آتے ہیں اور یہاں آباد ہونے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں؟ اور مقامی افراد ایسے مزید لوگوں کو قبول کرنے کے بارے میں کیا احساسات ہیں؟

یارکشائر کے ایک قصبے میں تنازعات اور ظلم و ستم سے بھاگنے والوں کو پناہ دینے کی ایک طویل تاریخ ہے اور میں نے جو کچھ وہاں دیکھا اُس کی کہانی درج ذیل ہے۔

ہیلی فیکس کے وسطی علاقے سے گزرتے ہوئے افغانستان میں حالیہ واقعات کے بارے میں بات کرنے کے لیے لوگوں کو ڈھونڈنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔

کابل سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے افراد اور لوگوں کی ہوائی جہازوں سے لٹکتے اور ہوائی اڈے کی دیواروں پر چڑھ کر بچ جانے کی کوششوں کی تصاویر ہزاروں میل دور ویسٹ یارکشائر کے بازاروں والے اس قصبے میں بھی موضوع بحث ہیں۔

پہلے خریدار جس کو میں نے روکا اس نے انھیں ‘دل دہلا دینے والا’ قرار دیا اور اصرار کیا کہ برطانیہ کو ضرورت مندوں کے لیے اپنے دروازے کھولنے چاہیئیں۔

دوسرے نے برطانیہ میں افغان مہاجرین کو دوبارہ آباد کرنے کے حکومتی وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘20000 ٹھیک ہوں گے’ لیکن اگر تعداد بڑھ گئی تو یہ ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔

کیلڈرڈیل وہ علاقہ ہے جس میں ہیلی فیکس ہے اور یہاں جنگ اور ظلم سے بچ کر پناہ کے متلاشیوں کو بسانے کی لمبی تاریخ ہے۔

یہ علاقہ بیس سال سے زائد عرصے سے ایک ایسے نظام کا حصہ رہا ہے جو ملک بھر میں پناہ گزینوں کو مختلف علاقوں میں ‘پھیلانے’ کے لیے قائم کیا گیا تھا تاکہ کسی ایک علاقے کو زیادہ دباؤ سے بچایا جاسکے۔

فلورنس کاہورو کو 2016 میں پناہ کی درخواست دینے کے بعد ہیلی فیکس بھیجا گیا تھا۔

ان کی درخواست پر کارروائی مکمل ہونے کو کئی سال لگے جس کے دوران انھیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سے اُن کے لیے مقامی کمیونٹی میں گھل مل جانا مشکل ہوگیا تھا۔

انھوں نے کہا ‘جب آپ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ آپ اسائلم (یعنی پناہ) لے رہے ہیں تو وہ آپ کو ایک طرح سے دھتکار دیتے ہیں۔’

وہ مزید کہتی ہیں کہ ‘ہم پوسٹ آفس سے اپنے پیسے (مالی امداد) وصول کرتے تھے لہٰذا جب بھی مجھے پیر کو وہاں جانا پڑتا تو وہاں لوگ آپ کو ایسے دیکھتے تھے جیسے آپ اُن کے پیسے لینے برطانیہ آئے ہوں اور مجھے یاد ہے کہ جب بھی پیر کا دن آتا تھا تو مجھ پر اضطراب طاری ہوجاتا تھا۔’

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘اس سے جو تکلیف ہوئی وہ اُس وقت ختم نہیں ہوجاتی جب آپ کی درخواست منظور ہوجاتی ہے، یہ احساس آپ کے ساتھ رہتا ہے۔’

اپنی ذہنی صحت کی خاطر فلورنس نے ایک فلاحی ادارے سینٹ اُگسٹینز میں رضاکارانہ خدمات شروع کیں۔ یہ ادارہ ہیلی فیکس میں پناہ گزینوں کی مدد کرتا ہے اور انھیں مشورے دینے کے علاوہ اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔

ان کے کام کا ایک بڑا حصہ لوگوں کو مقامی کمیونٹی میں گھل مل جانے میں مدد دینا تھا۔

ایک سینئر کیس ورکر بیکی ہیلی ویل نے کہا ‘انضمام ایک بہت بڑی چیز ہے، کیونکہ (اسائلم کی درخواستوں میں) تاخیر لوگوں کی ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ‘ہمارے پاس بہت سے انتہائی ہنر مند لوگ ہیں جو لمبی کارروائی کی وجہ سے اپنا ہنر کھو دیتے ہیں’۔

حنا گیلانی خوب جانتی ہے کہ یہ کتنا مشکل ہوسکتا ہے۔

غیرت کے نام پر تشدد کی دھمکیوں کے بعد وہ پاکستان سے بھاگ نکلیں اور پناہ لینے کے لیے برطانیہ پہنچیں۔ یہاں انھیں ہیلی فیکس بھیج دیا گیا۔

انھیں اس عمل نے ‘افسردہ’ کیا، وہ کہتی ہیں ‘جب لوگوں کو پتہ چلتا کہ میں نے اسائلم لیا ہے تو ان کا میری طرف رویہ بدل جاتا تھا جیسے میں نے کوئی جرم کیا ہو’۔

’میں تعلیم یافتہ تھی، میں نے طب میں ماسٹرز کیا تھا، لیکن میں کام نھیں کر سکتی تھی۔ بہت ہی مشکل تھی، یہ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح تھا، آپ تو صرف اچھے خواب دیکھنا چاہتے ہیں، ہم بھی یہی چاہتے ہیں، اور وہ خواب آپ سے چھن جاتا ہے۔‘

ان کے لیے سینٹ اگسٹینز تک پہنچنا اس احساس کی طرف پہلا قدم تھا کہ وہ مقامی کمیونٹی کا حصہ بن سکتی ہیں۔

کیلڈرڈیل میں ہر وقت 300 سے 400 ایسے لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں جو اپنی پناہ کی درخواست پر کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

مقامی کونسل نے رضاکارانہ طور پر جنگ زدہ ملک شام سے تقریبا 50 پناہ گزینوں کو جگہ دینے کی رضامندی ظاہر کی اور وہ افغان پناہ گزینوں کے لیے بھی ایسا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

برطانوی اعوان زیریں کی لائبریری کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں پناہ گزینوں کو پھیلانے کا نظام غیر متناسب ہے، کچھ علاقے دوسروں کے مقابلے میں جگہ دینے میں کہیں اگے ہیں جبکہ 32 فیصد مقامی حکام ایسے ہیں جو بالکل بھی لوگوں کو نہیں لے رہے ہیں۔

اوسط سے کم گھریلو آمدنی رکھنے والے علاقوں نے نسبتاً زیادہ پناہ گزینوں کو اپنایا ہے۔ انگلینڈ کے شمال مشرق میں تعداد سب سے زیادہ ہے جو کہ جنوب مشرق سے 17 گنا زیادہ ہے۔

برطانیہ کے ہوم آفس نے وعدہ کیا ہے کہ 2029 تک ہر علاقے میں پناہ گزینوں کا تناسب ملک کی آبادی کے مطابق ہوگا اور ملک کا ہر حصہ اس تناسب پر پورا اترے گا۔

فی الحال ہوم آفس کا پناہ گزینوں کی رہائش کے لیے نجی اداروں کے ساتھ معاہدہ ہے۔

کسی بھی راستے سے برطانیہ پہنچنے والوں کو رہائش مہیا کرنے کی وجہ سے نظام دباؤ کا شکار ہے اور کورونا وائرس کی وبائی مرض کے دوران اس کے لیے ہوٹلوں کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے۔

شیفیلڈ میں ہوٹل کے کمرے کی کھڑکی سے گرنے کے بعد پانچ سالہ افغان لڑکے کی موت نے نئے حفاظتی خدشات کو جنم دیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز کی مقامی کونسلوں کے لیے 5 ملین پاؤنڈ کی اضافی رقم کا اعلان کیا ہے جو افغانستان سے آنے والے لوگوں کو رہائش فراہم کرنے کی پیشکش کریں گے۔

کیلڈرڈیل کونسل کے لیڈر ٹم سوئفٹ جن کا تعلق برطانیہ کی لیبر پارٹی سے ہے، انھوں نے کہا کہ مقامی لوگ دل کھول کر لوگوں کا استقبال کرنا چاہتے ہیں، لیکن کونسلیں صرف اس صورت میں آگے بڑھ سکتی ہیں جب مقامی نظام پر اضافی دباؤ سے بچنے کے لیے اضافی وسائل ہوں۔

انھوں نے مجھے بتایا ‘ہم اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن مقامی کونسلیں بہت زیادہ دباؤ میں ہیں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایسی چیز ہے جسے قومی ٹیکس کے تحت مناسب طریقے سے وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

جیکب کک کیلڈرڈیل میں برطانیہ کی حکمران کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک کونسلر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو اُن کے علاقے میں رہائش دی گئی ہے وہ حقیقی طور پر ضرورت مند ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ‘اگر وہ جنگ زدہ ممالک سے آتے ہیں، جیسے اس وقت افغانستان سے آ رہے ہیں تو بطور کونسلر اور مقامی رہائشی ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ہم خوشی سے مدد کرنے کے لیے تیار ہیں’۔

لیکن اگر اس میں ایسے لوگ ہیں جو نظام کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور غیر قانونی طور پر برطانیہ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور وہ دراصل پناہ گزین نہیں ہیں بلکہ وہ ابھی کیلیس سے آئے ہیں اور وہ معاشی تارکین وطن ہیں تو یہ ہم پر بوجھ ڈالتا ہے’۔

قصبے کے وسطی حصہ کا ایک بار پھر رخ کرنے پر مقامی رہائشی انجیلا فورسی اور ان کی والدہ اینی وال ورک نے مجھے افغانستان کی حالت زار پر اپنے خیالات بتانے کے لیے روکا۔

اینجلا نے کہا کہ ‘میرے ذہن کا آدھا حصہ کہتا ہے ہمیں مدد کرنی چاہیے، جو ہم کر رہے ہیں، لیکن پھر دوسرا آدھا حصہ کہتا ہے کہ اس ملک میں ایسے لوگ ہیں جو برطانوی شہری ہیں جنھیں خود مدد کی ضرورت ہے، اور انھیں یہ بالکل غیر منصفانہ لگتا ہے’۔

اینی نے کہا ‘جہاں تک مہاجرین کا تعلق ہے اگر انھوں نے ہماری مدد کی جب ہم (ہمارے لوگ) وہاں تھے، تو میرے خیال میں ہمیں کچھ کو جگہ دینی چاہیے’۔

اُن کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ‘لیکن میں دیکھ سکتی ہوں کہ بہت زیادہ مزاحمت ہو گی۔ کیونکہ اس ملک میں لوگ مشکلات کا شکار ہیں اور بدقسمتی سے جب لوگ واپس آتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور وہ کس طرح مدد کر سکتے ہیں، وہ صرف ہمارے اپنے لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو مشکالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

اُن لوگوں میں سے جو برطانیہ پہنچے اور یہاں انھوں نے اپنے لیے جگہ بنائی وہ ہیلی فیکس جیسی کمیونٹی جس نے اُن کی مدد کا اُس کے شکر گزار ہیں۔

مصباح المصباحی 2019 میں یمن کے تنازعے سے بچ کر بھاگے تھے انھوں نے اپنے خاندان کو پیچھے چھوڑ دیا اور تنہا سفر کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اُس وقت تک مشکل تھا جب تک انھیں یہ احساس نہ ہوا کہ انھیں رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا ‘شروع میں آپ دیکھتے ہیں لوگ کتراتے ہیں، لیکن جیسے ہی آپ پہلا لفظ بولتے ہیں لوگ بدل جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے’۔

انھوں نے مزید کہا کہ ‘میں نے محسوس کیا کہ مجھے دوست بنانے اور کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ کچھ تعلقات بنانے کے لیے کچھ کرنا چاہیے’۔

مصباح نے ہیلی فیکس میں سینٹ آگسٹینز میں رضاکارانہ خدمات کا آغاز کیا اور ادارے کی مدد سے انھیں لیورپول میں ایک یونیورسٹی میں داخلہ ملا ہے۔

بعض اوقات ایک کمیونٹی کسی شخص کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words